ممبر قومی اسمبلی شیرافضل مروت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی موروثی سیاست کی طرف جارہی ہے،پارٹی میں سفارشوں پر عہدے تقسیم کیے جارہے ہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام ’’ہم دیکھیں گے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تحریک انصاف آج کل بیماری کاشکار ہے،بانی پی ٹی آئی جب سے جیل میں ہیں تب سے پارٹی کو بیماری لگی ہے۔
اپوزیشن کی اے پی سی کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ کوئی اہمیت، چودھری سالک
بانی کے گھر کے اندر سے پارٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،پارٹی کے اندر انتشار بانی کے گھر کے اندر سےہورہا ہے۔
علیمہ خان کی سفارش پر سلمان اکرم راجہ کو سیکریٹری جنرل بنایا گیا،بشریٰ بی بی کے کہنے پر علی امین گنڈاپورکو عہدے سے ہٹایا گیا،موروثی سیاست پر پی ٹی آئی دوسری پارٹیوں کامذاق اڑاتی تھی،بانی پی ٹی آئی نے خود ہمیشہ ماروثی سیاست کی مخالفت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیڑھ سال میں 3 مواقع آئے جہاں بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر ڈیل ہوگئی تھی،بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئےڈیل میں علی امین گنڈاپور نے کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان پوسٹ کو اپنے ریونیو کو 4 گنا تک بڑھانے کی ہدایت
جب رہائی کی ڈیل حتمی مراحل میں داخل ہوتی ہے تو سوشل میڈیا پر شور شروع ہوجاتا ہے،سوشل میڈیا پر شور مچانے سے بانی کی رہائی کیلئے جتنی محنت کی ہوتی ہے وہ ضائع ہوجاتی ہے۔