پاکستانی پارلیمان میں جادو ٹونہ کے عمل کے خلاف قانون سازی

13 Sep, 2017 وائس آف امریکہ اردو
یہ بل حکمران جماعت کے سینیٹر چوہدری تنویر نے سینیٹ اجلاس میں پیش کیا، جس کے بعد اسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے حوالے کیا گیا۔ مسودہٴ قانون میں ملک بھر میں جادو ٹونے کی روک تھام، کالے جادو پر پابندی اور جعلی پیروں و عاملوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے کہا گیا ہےاسلام آباد —پاکستان میں پارلیمان کے ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ملک میں جادو ٹونے کی روک تھام، کالے جادو، جعلی پیروں اور عاملوں پر پابندی کیلئے جادوگری کی ممانعت پر غور شروع کر دیا ہے۔یہ بل حکمران جماعت کے سینیٹر چوہدری تنویر نے سینیٹ اجلاس میں پیش کیا، جس کے بعد اسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے حوالے کیا گیا۔ چوہدری تنویر کی عدم حاضری پر آئندہ اجلاس میں اس بل پر دوبارہ غور ہوگا۔مسودہٴ قانون میں ملک بھر میں جادو ٹونے کی روک تھام، کالے جادو پر پابندی اور جعلی پیروں و عاملوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔ بل میں کالا جادو کرنے والے شخص کو کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال تک سزا اور پچاس ہزار روپے سے دو لاکھ روپے تک جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشیا رکھنے پر تین ماہ قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کا جادو ٹونے کیلئے استعمال پر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔بل میں تدفین کے بعد قبر کھولنے پر پابندی ہوگی، جبکہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کیلئے سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ اور مردے کا گوشت کھانے پر 14 سال قید تجویز کی گئی ہے۔ اسی طرح، بل میں مسمار شدہ قبر میں کالا جادو کرنے پر پابندی، کسی قبر یا مردے کے اوپر نہانے پر پابندی، کفن یا تابوت کی چوری پر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشتہارات، اشاعت اور کتابیں بیچنے یا خریدنے پر پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور جرمانہ کیا جائے گا۔ بل کے تحت جعلی عامل اور جادو ٹونا کرنے والے عامل کو تحفظ دینے والے کو بھی سزا اور جرمانہ کیا جا سکے گا۔ فیس بک فورم
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: