کولمن خاندان کی قید سے رہائی، پاک امریکہ تعلقات کا ’’مثبت لمحہ‘‘ قرار

12 Oct, 2017 وائس آف امریکہ اردو
صدر ٹرمپ نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ’’باقی یرغمالیوں کی رہائی کے حصول میں؛ اور آئندہ انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کارروائیوں میں اِسی قسم کا تعاون اور ’ٹیم ورک‘ دکھایا جائے گا‘‘واشنگٹن —امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حکومتِ امریکہ نے پاکستان حکومت کے تعاون سے بدھ کے روز پاکستان میں قید بوئس کولمن خاندان کو رہا کرایا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’آج وہ آزاد ہیں‘‘۔ صدر نے کولمن خاندان کی رہائی کو ’’پاکستان کے ساتھ ہماے ملک کے تعلقات کا ایک مثبت لمحہ‘‘ قرار دیا۔یہ بات جمعرات کو وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔صدر نے کہا کہ ’’حکومت پاکستان کا تعاون اِس بات کا عندیہ ہے کہ وہ امریکہ کی خواہشات کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں سکیورٹی فراہم کرنے کے سلسلے میں مزید کام کرنے کا خواہاں ہے‘‘۔صدر ٹرمپ نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ’’باقی یرغمالیوں کی رہائی کے حصول میں؛ اور آئندہ انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کارروائیوں میں اِسی قسم کا تعاون اور ’ٹیم ورک‘ دکھایا جائے گا‘‘۔بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ 2012ء میں ایک امریکی شہری کیٹلن کولمن اور اُن کے شوہر جوشوا بوئل، جو کینیڈا کے شہری ہیں، اُنھیں اغوا کیا گیا اور حقانی نیٹ ورک نے یرغمال بنایا، جس دہشت گرد تنظیم کے طالبان کے ساتھ روابط ہیں‘‘۔اغوا اور قید و بند کے دوران، مز کولمن نے تین بچوں کو جنم دیا۔ فیس بک فورم
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: