امریکی اقدامات کا جواب دیں گے: ایران

13 Jan, 2018 بی بی سی اردو
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ پر پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے اور اس کا جواب دیا جائے گا۔
ایران
Getty Images

ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پر ردِعمل دیں گے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ردِعمل کس نوعیت کا ہوگا۔

آیت اللہ صادق امولی لاریجانی ان 14 افراد اور اداروں میں شامل ہیں جنھیں مبینہ طور پر ایرانی شہریوں کے حقوق کی پامالی کے الزام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

’جوہری معاہدے کو تبدیل نہ کیا تو یہ آخری توثیق ہو گی‘

’جوہری ہتھیاروں پر عالمی پابندی حقیقت پسندانہ نہیں‘

امریکہ ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت پر مجبور

’میرے خیال میں امریکہ معاہدہ توڑ دے گا‘

ادھر دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکہ اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی توثیق ہونے پر نرمی میں مزید 120 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔

جمعے کو امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے سے کہا گیا کہ’ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ معاہدے( موجودہ) میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔‘

امریکہ
Reuters
وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان جمعے کو متوقع ہے

بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے( موجودہ) سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے۔‘

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ’ یہ ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنی کی مایوس کن کوشش ہے۔‘

امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدے میں موجود یورپی ممالک ایران پر یورینیئم کی افزدوگی پر مستقل پابندی عائد کریں جبکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ پابندی 2025 تک ہے۔

وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی۔

بی بی سی کی اقوام متحدہ میں نامہ نگار باربرا پلِٹ کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے پر 120 دن کے اندر مذاکرات نہیں ہو سکتے جبکہ ایران بھی نیا معاہدہ نہیں چاہتا تو اس صورت میں صدر ٹرمپ یا تو پیچھے ہٹ جائیں گے یا اس سے لاگ ہو جائیں گے۔

ایران
AFP
یورپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے

یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کی حامی بھری تھی۔

تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔

جمعے کو امریکہ کی جانب سے ایران کی 14 شخصیات اور اداروں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، سینسر شپ اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو برسلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں یورپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: