'گوگل' کا 'ہواوے' کے ساتھ کاروبار بند کرنے کا اعلان

21 May, 2019 وائس آف امریکہ اردو

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی "گوگل" نے کہا ہے کہ وہ موبائل بنانے والی چین کی سب سے بڑی کمپنی "ہواوے" کے ساتھ اپنا کاروبار معطل کر دے گا۔

"گوگل" کے اس انتباہ کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ مستقبل میں "ہواوے" کے صارفین جی میل، یوٹیوب اور کروم جیسی ایپلیکیشنز تک رسائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔

گوگل نے پیر کو کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عمل کرے گی جس کے تحت صدر نے امریکی کمپنیوں کو "ہواوے" کو خدمات اور مصنوعات فراہم کرنے سے روک دیا ہے۔

گوگل کی جانب سے اس صدارتی حکم نامے پر عمل کی صورت میں "ہواوے" کے نئے موبائل فونز کے خریداروں کو گوگل کی مقبول انڈرائیڈ اپیس دستیاب نہیں ہوں گی۔

صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے سے یورپ میں "ہواوے" کے کروڑوں صارفین متاثر ہوں گے۔ یورپ چین کے بعد "ہواوے" کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

صدر ٹرمپ نے ہواوے کے خلاف یہ حکم ایسے وقت جاری کیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے۔

امریکی حکام ایک عرصے سے ان خدشات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں کہ چین "ہواوے" کے فونز اور نیٹ ورک آلات کو امریکی کمپنیوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن ہواوے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

اگر امریکی صدر کے اس حکم نامے پر پوری طرح عمل ہوگیا تو یہ "ہواوے" کے دنیا کی سب سے بڑی موبائل ساز کمپنی بننے کے خواب کو چکنا چور کرسکتا ہے۔ اس وقت جنوبی کوریا کی "سام سنگ" دنیا کی سب سے بڑی موبائل ساز کمپنی ہے۔

"ہواوے" یورپ کے علاوہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں بھی موبائل کا معروف برانڈ ہے اور امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ان ملکوں میں بھی "ہواوے" کی مقبولیت اور کاروبار کو دھچکہ پہنچ سکتا ہے۔

گوگل کی جانب سے خدمات کی فراہمی روکنے کے اعلان کے بعد "ہواوے" نے کہا ہے کہ وہ اپنے ان تمام فونز اور ٹیبلیٹس کو ضروری خدمات اور اپ ڈیٹس کی فراہمی جاری رکھے گا جو اب تک فروخت ہوچکے ہیں۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں