دید کی ایک آن میں کار دوام ہو گیا
Poet: Jaun Elia
By: kamran, multan

دید کی ایک آن میں کار دوام ہو گیا
وہ بھی تمام ہو گیا میں بھی تمام ہو گیا

اب میں ہوں اک عذاب میں اور عجب عذاب میں
جنت پر سکوت میں مجھ سے کلام ہو گیا

آہ وہ عیش راز جاں ہائے وہ عیش راز جاں
ہائے وہ عیش راز جاں شہر میں عام ہو گیا

رشتۂ رنگ جاں مرا نکہت ناز سے تری
پختہ ہوا اور اس قدر یعنی کہ خام ہو گیا

پوچھ نہ وصل کا حساب حال ہے اب بہت خراب
رشتۂ جسم و جاں کے بیچ جسم حرام ہو گیا

شہر کی داستاں نہ پوچھ ہے یہ عجیب داستاں
آنے سے شہریار کے شہر غلام ہو گیا

دل کی کہانیاں بنیں کوچہ بہ کوچہ کو بہ کو
سہہ کے ملال شہر کو شہر میں نام ہو گیا

جونؔ کی تشنگی کا تھا خوب ہی ماجرا کہ جو
مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام ہو گیا

ناف پیالے کو ترے دیکھ لیا مغاں نے جان
سارے ہی مے کدے کا آج کام تمام ہو گیا

اس کی نگاہ اٹھ گئی اور میں اٹھ کے رہ گیا
میری نگاہ جھک گئی اور سلام ہو گیا

 

Rate it: Views: 138 Post Comments
 PREV More Poetry NEXT 
 More Jaun Elia Poetry View all
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 06 Apr, 2017
About the Author: Owais Mirza

Visit Other Poetries by Owais Mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.