چھپائیں کتنا بھی وہ اپنا پیکر غم نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

چھپائیں کتنا بھی وہ اپنا پیکر غم نہیں ہوتا
نگارِ حسن کی زلفوں کے پیچ و خم نہیں ہوتا

عطا کی ہے خدا نے تھوڈی سی جوہر شناسی بھی
‘ میں اک شبنم کے قطرے میں سمندر نم نہیں ہوتا‘

ہے فطرت میں قناعت ‘ تو فقط چکھتی ہوں تھوڑی سی
مزہ آیا اگر چکھ کر ، تو پی کر غم نہیں ہوتا

خدا محفوظ رکھتا ہے کرم سے خیر خواہوں کے
کہ ان کی آستینوں میں کوئی الم نہیں ہوتا

خود اپنافیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو یہ پرنم نہیں ہوتا

ہمارے درد و غم کا کچھ مداوا ہو سکے شاید
تری آنکھوں کا موسم کیا یہ موسم نہیں ہوتا

گلہ وشمہ کریں کیوں ہم کسی کی بے وفائی کا
رہے گا یاد بھی کیسے جو اس کا غم نہیں ہوتا

Rate it: Views: 7 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 29 Jun, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4379 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.