میرا قافلہ جو لٹ گیا
Poet: A Rehman Khan
By: A Rehman Khan, Sargodha

میرے سامنے ہی لٹ گیا مرا قافلہ
میرا قافلہ تھا دعاؤں کا
میرا قافلہ تھا صداؤں کا
میرا قافلہ تو محبتوں کا امین تھا
ہر 'پیادہ' تھا اشک جیسا
ہر 'شترباں' آس لے کر چپ کھڑا تھا
گھڑسواروں کی بات ہی کیا
گھڑسوار تو "منتوں" سے اٹے ہوئے تھے
میری محبت کے بوجھ سے تو
"سفید ہاتھی" سے چلنا دوبھر ہو رہا تھا
بہت سے وعدے لے کے غلماں چل رہے تھے
اپسرائیں تھیں التجائیں
بلبلیں مرے ساتھ تھیں
شادیانے بج رہے تھے
میں اس گلی کے پاس پہنچا تو شام کب کی ڈھل چکی تھی
وہ چھت پہ بیٹھا منتظر تھا
اور چاند چودہ کا لگ رہا تھا
(میں چپ کھڑا تھا)
وہ نیچے آیا اور ہنس کے بولا
کہاں سے لائے ہو جھوٹ اتنا؟
یہ جو ساماں ہے کوڑیوں میں نا بک سکے گا
تم "کھوٹے سکے"
میری توہین کر رہے ہو
تم مجھ کو چاہو، یہ بات ہے کیا؟
نظر نا آؤ۔۔۔۔جلا دو خود کو۔۔۔۔میں جا رہا ہوں
اس ایک پل میں قافلہ میرا لٹ گیا تھا
میں ہوش اپنے گنوا چکا تھا
میں وہیں پہ گر گیا تھا
اس خسارے نے توڑ ڈالی ہے کمر میری
میں جیتے جیتے ہی مر گیا ہوں
مرا قافلہ جو لٹ گیا تھا، اسکا ماتم کر رہا ہوں
میں رو رہا ہوں یا ہنس رہا ہوں
نہیں پتا ہے
بس مر رہا ہوں
بس مر رہا ہوں

بقلم عبدالرحمن خان

Rate it: Views: 5 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 29 Jun, 2018
About the Author: A Rehman Khan

Visit 4 Other Poetries by A Rehman Khan »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.