کوئی آخر یہ امانت بھی سنبھالا لوگو
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

آہ بندش میں ہے، پابند ہوں نالا لوگو
مُجھ سا کوئی بھی ہو اب درد کو پالا لوگو

روشنی پھر سے کسی درز سے در آئی ہے
روک پایا بھی تو روکوں گی اُجالا لوگو

درد رُخصت ہوا کب کا تری رہ میں، دیکھیں
ساتھ دیتے ہیں مرا پاؤں کے چھالا لوگو

چشم جمہور میں طوفان ہے برپا جیسے
اب پڑے رہتے ہیں ہونٹوں پہ یہ تالا لوگو

سال خوردہ ہیں ترے خط، انہیں لے جا آ کر
کوئی آخر یہ امانت بھی سنبھالا لوگو

اپنی مرضی سے ہو اک بار رواں نرم وجود
اُس کی خواہش پہ کوئی خود کو بھی ڈھالا لوگو

دیکھتی رہ تُو بھی چُپ چاپ کہ آخر وشمہ
بھول پاتے ہیں تُجھے بھولنے والا لوگو

Rate it: Views: 3 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 09 Oct, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4464 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.