اضافی ہے

Poet: م الف ارشیؔ
By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

اب تو جینا یہاں اضافی ہے
سب یہ آہ و فغاں اضافی ہے

اب تو حاکم کا حکم آیا ہے
ڈھادو اب جو یہاں اضافی ہے

کیوں کوئی دکان باقی ہے
کس کا اب آشیاں اضافی ہے

اب گرادو دکان اس کی بھی
جس کا بھی سائباں اضافی ہے

باندھ کر پیش اب کیا جائے
منہ میں جس کے زباں اضافی ہے

سر اٹھا کر اگر چلا کوئی
ایسا ہر شخص یاں اضافی ہے

جو بھی کھولے زباں یہاں اب تو
ہر وہ نام و نشاں اضافی ہے

اب چمن میں خزاں اضافی ہے
نیلگوں سا دھواں اضافی ہے

میں تو عادی ہوا ہوں جلنے کا
اب ترا سائباں اضافی ہے

اس کے تیور بتارہے ہیں مجھے
میرا ہونا یہاں اضافی ہے

تم تو یوں ہار کے بھی جیتو گے
پھر تو یہ امتحان اضافی ہے

ایک پتھر مزید آیا ہے
شاید اک مہرباں اضافی ہے

میری تحریر وہ سمجھتے ہیں
میری اب یہ زباں اضافی ہے

کون دیکھے گا تجھ کو اب ارشیؔ
تیرا ہونا یہاں اضافی ہے
 

Rate it:
07 Jan, 2019

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muhammad Arshad Qureshi
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
Visit 167 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City