ساتھ
Poet: م الف ارشیؔ
By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

 ساتھ چلنا ہی نہیں پھر یہ دکھاتا کیا ہے
پھر یہاں روز ہی اب تیرا تماشہ کیا ہے

کام آئیں گے برے وقتوں میں ہم ہی تیرے
غیرتو غیر ہیں غیروں کا بھروسہ کیا ہے

مجھ کو میرے اسی حال میں جی لینے دے
پھر نئے کوئی مجھے خواب دکھاتا کیا ہے

میں تو اپنے ہی مسائل میں یہاں الجھا ہوں
اب مجھے روز نیا دکھڑا سناتا کیا ہے

لوگ بے حس ہیں یہاں کوئی نہیں سمجھے گا
اپنی آنکھوں سے تو یہ اشک بہاتا کیا ہے

بس مرے یار مجھے جانا ہے اب گھر اپنے
نظروں سے مجھے یوں اپنی گراتا کیا ہے

اس محبت کے ستم کو بھی سہا ہے ہم نے
اس کے انجام سے ہم کو تو ڈراتا کیا ہے
 

Rate it: Views: 13 Post Comments
 PREV More Poetry NEXT 
 More Love / Romantic Poetry View all
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 07 Jan, 2019
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Visit 157 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.