بہو یا بندی *(کراچی کی رمشا کے نام)۔
Poet: مونا شہزاد
By: Mona Shehzad, Calgary

یہ کوہ قاف کی پریاں
یہ ہنستی مسکراتی لڑکیاں
ماں باپ کی دلاریاں
انگنا مہکاتی کلیاں
رنگوں سے سجی تتلیاں
پیا کے گھر بے مول رولتی دلہنیا
کبھی چھت سے پاگل کہ کر گرا دی جاتی ہیں
کبھی چولہے سے جلا دی جاتی ہیں
نہ ہو یہ سب میسر
تو دن رات طعنوں سے چھلنی کر دی جاتی ہیں
بابل کے نام کی گالیاں سنتی ہیں
روز جیتی اور مرتی ہیں
ویسے گھر کی بہو کہلاتی ہیں
بہو ہونے کا خراج بھرتیں ہیں
نسل بڑھاتی ہیں؛ چولہا جلاتی ہیں
گھر بھر کی" بندی " بن جاتی ہیں
نہ جانے پھر بھی کیوں غیر کہلاتی ہیں؟
 

Rate it: Views: 1 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 27 May, 2018
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Visit 100 Other Poetries by Mona Shehzad »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.