محبت کی عنایت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

محبت کی عنایت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
جنوں دل کی بدولت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

ترا در چھوڑ دیتی ہوں، مگر اتنی دعا کرنا
مرا احساس عزت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

میں چاہوں بھی کبھی تو اس جہاں کی ہو نہیں سکتی
فقط اتنی بغاوت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

مصیبت ہے، بلا جیسا ہے دیکھو ہجر یہ جاناں
کبھی بدلو تو الفت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

محبت میں دغا کرنے کی سوچو ، تو بتا دینا
ہمیں خود سےندامت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

وصال یار کیا خیرات ہے جو مانگ لوں تُم سے
مرا حق ہے محبت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

یقیناً ترک کردوں گی میں یوں آشفتہ سر پھرنا
مگر یہ وشمہ شہرت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

Rate it: Views: 6 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 03 Oct, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4464 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Good attempt I like your poem.
By: Muhammad Sadaf abbas, Sargodha on Oct, 07 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.