ہم جبر محبت سے گریزاں سے مچل کر

Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

ہم جبر محبت سے گریزاں سے مچل کر
زلفوں کی طرح تیری پریشاں سے نکل کر

اے عشق تری راہ میں ہم چل تو رہے ہیں
کچھ مرحلے ایسے ہیں جو آساں سے ہی حل کر

جلووں کے ترے ہم جو تماشائی رہے ہیں
سو جلوے ہوں نظروں میں تو حیراں عمل کر

اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلی ہوں
آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ ہے ڈھل کر

رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو
دیکھو مجھے اندر سے بہت سوچ سنبھل کر

اس طرح تجھے عشق کیا ہے کہ یہ دنیا
ہم ہجر کے رستوں کی ہوا دیکھ پگھل کر

انکار بھی کرنے کا بہانہ نہیں ملتا
اقرار بھی کرنے کا مزا دیکھ بدل کر

وشمہ نہیں پھر بھی مجھے اندیشہ ہے خود سے
ہستی مری کچھ شعبدۂ گل سے نکل کر

Rate it:
20 Oct, 2018

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: washma khan washma
I am honest loyal.. View More
Visit 4523 Other Poetries by washma khan washma »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City