جو بھی ہوا بھول جاتے ہیں

Poet: Syed Zulfiqar Haider
By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Oman

کاش کہ جانیں کس کرب میں مبتلا ہیں
ہمارا دل بے وجہ جو جلاتے رہے ہیں

میرے پیار کی قدر وہ کیا جانیں
کانچ جان کر دل پر جو چوٹ لگاتے رہے ہیں

کہتے ہیں پہلے جیسے نہیں اب ہم بدل گئے ہیں
زمانے کو جو اپنا غلام بناتے رہے ہیں

مسکرانے کا کہیں جب بھی ملتے ہیں
ہمیں مسکراتا دیکھ جو منہ بناتے رہے ہیں

مجھ سے تعلق جوڑنے کی خواہش ہے انہیں
دامن جو مجھ سے ہمیشہ چھڑاتے رہے ہیں

بدل گیا ہے وقت چہرے بھی بدل گئے ہیں
مہربان ہیں اب صدا جو زخم لگاتے رہے ہیں

ممکن ہے رات ڈھل گئی ہو ان کے غرور کی
اوروں کو ہمیشہ نیچا جو دکھاتے رہے ہیں

میرے دل کا چمن اپنی بے رخی سے اجاڑ دیا
کھلانےکی خواہش ہے جن پھولوں کو خود کملاتے رہے ہیں

چلو جو بھی ہوا بھول جاتے ہیں تیرے سارے ستم
بس مٹا دو میرے دل پر لگے داغ خود ہی جو لگاتے رہے ہیں
 

Rate it:
22 Oct, 2018

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Syed Zulfiqar Haider
Visit 50 Other Poetries by Syed Zulfiqar Haider »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City