قصدِ زندگی اب سُوجھنے لگا ہے

Poet: اخلاق احمد خان
By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachi

قصدِ زندگی اب سُوجھنے لگا ہے
نشہ محبت کا ، ٹوٹنے لگا ہے

بازارِ عشق میں بے مول ہو چلا دل
عشق کرنے سے پہلے جو ، سوچنے لگا ہے

شاید چھوڑ جانے کا ارادہ ہے تیرا
بات بات پر جو تو ، روٹھنے لگا ہے

یہ اُس کی سادگی ہے یا تَغافُل ہے
وہ حال مجھ سے میرا پوچھنے لگا ہے

خطا ہے باغباں کی یا موسم کی شرارت یہ
گُل آغوشِ گلستاں میں ہی ، سوکھنے لگا ہے

جواں تھے تو گریباں بھی چھڑانا تھا مشکل
اب نوالہ بھی ہاتھ سے ، چھوٹنے لگا ہے

ڈھلتے ہوئے سورج کاپیام ہے یہ
پرندہ گھر کو جو لَوٹنے لگا ہے

وہ دیکھو تھر میں پھر کوئی بچہ مرا ہے شاید
گِدھ لپک کر پھر سے کچھ ، نوچنے لگا ہے

بڑھتے رہے یونہی تو میری قوم کاکیاہوگا
چین میرا چینی ، لُوٹنے لگا ہے

اس امت کے تابع کبھی شیر بھی رہے ہیں
جس پر آج ہر اک کتا ، بھونکنے لگا ہے

اخلاق زوال کے سورج کو زوال ہے اب
کہ مسلماں پاک و ہند کا ، سوچنے لگا ہے

Rate it:
26 Jan, 2019

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Akhlaq Ahmed Khan
Visit 83 Other Poetries by Akhlaq Ahmed Khan »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City