باپ کی انگلی تھامے

Poet: Javed Akhtar
By: hania, khi

باپ کی انگلی تھامے
اک ننھا سا بچہ
پہلے پہل میلے میں گیا تو
اپنی بھولی بھالی
کنچوں جیسی آنکھوں سے
اک دنیا دیکھی
یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے
سب اس نے پوچھا
باپ نے جھک کر
کتنی ساری چیزوں اور کھیلوں کا
اس کو نام بتایا
نٹ کا
بازی گر کا
جادوگر کا
اس کو کام بتایا
پھر وہ گھر کی جانب لوٹے
گود کے جھولے میں
بچے نے باپ کے کندھے پر سر رکھا
باپ نے پوچھا
نیند آتی ہے

وقت بھی ایک پرندہ ہے
اڑتا رہتا ہے

گاؤں میں پھر اک میلہ آیا
بوڑھے باپ نے کانپتے ہاتھوں سے
بیٹے کی بانہہ کو تھاما
اور بیٹے نے
یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے
جتنا بھی بن پایا
سمجھایا
باپ نے بیٹے کے کندھے پر سر رکھا
بیٹے نے پوچھا
نیند آتی ہے
باپ نے مڑ کے
یاد کی پگڈنڈی پر چلتے
بیتے ہوئے
سب اچھے برے
اور کڑوے میٹھے
لمحوں کے پیروں سے اڑتی
دھول کو دیکھا
پھر
اپنے بیٹے کو دیکھا
ہونٹوں پر
اک ہلکی سی مسکان آئی
ہولے سے بولا
ہاں
مجھ کو اب نیند آتی ہے

Rate it:
15 Jun, 2019

More Father Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Owais Mirza
Visit Other Poetries by Owais Mirza »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City