میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں

Poet: Moeen Nizami
By: faraz, khi

میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں
اس نے کہا تھا جانا طے ہے دشمن پیچھے لگے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا دائیں طرف کی گھاٹی میں ہم چھپ جاتے ہیں
اس نے کہا تھا نا ممکن ہے تیروں میں ہم گھرے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا غار میں کاٹیں ہجرت رت کی پہلی راتیں
اس نے کہا تھا اس کے بلوں میں سانپ اور بچھو چھپے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا پیاس کے مارے کالی ریت پہ مر جائیں گے
اس نے کہا تھا ٹھیک ہے لیکن دو مشکیزے بھرے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا اس سے آگے چھپنے کی کیا صورت ہوگی
اس نے کہا تھا ڈرتے کیوں ہو آگے قلعے بنے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا دو ہی ہیں ہم شہر ستم سے جانے والے
اس نے کہا تھا بستی میں کچھ اور بھی ساتھی رکے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا سنتے ہو تم پیچھے پیچھے آتی ٹاپیں
اس نے کہا تھا ہم بھی عجب ہیں دو راہے پر رکے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا اب کیا ہوگا دشمن سر پر آ پہنچا ہے
اس نے کہا تھا غار کے منہ پر لاکھوں جالے تنے ہوئے ہیں

میں نے کہا تھا یہ تو بتاؤ کس کی طرف مہمانی ہوگی
اس نے کہا تھا یثرب والے اک دوجے سے بڑھے ہوئے ہیں

Rate it:
04 Sep, 2019

More Moeen Nizami Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Owais Mirza
Visit Other Poetries by Owais Mirza »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City