آہ !!! 25 دسمبر

(Abdul Basit Zulfiqar, )
(25 دسمبر یوم ولادت قائد اعظم)

وہ لان میں وہیل چیئر پر بیٹھے تھے جب میں ان کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا: آؤ بیٹا آؤ، آج اتوار ہے ناں؟ جی، میں نے سلام کرتے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا ، مجھے گلے سے لگایا اور کہا: میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔ مجھے پتا تھا آج تم آؤ گے۔ چھٹی کے دن ان کے پاس جانا میرا معمول تھا۔آج بھی اتوار کی چھٹی تھی سو صبح ہی صبح ان کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ انہوں نے اپنی وہیل چیئر کے ٹائروں پر ہاتھ رکھا اور اس کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے مجھے قریب رکھے موہڑے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر اپنا چشمہ اتار کراس کے شیشوں پر تھتھکارا اور بولے: اچھا! تو کل25 دسمبر، بابائے قوم کی 141ویں سالگرہ ہے۔کل بھی چھٹی ہے؟ جی، میں نے مختصرا جواب دیا ۔

انہوں نے میری طرف دیکھا ، چشمہ پہنا اور گویا ہوئے: کل ہمارے ہاں قائد کا یوم ولادت منایا جائے گا۔ سرکاری سطح پربڑی شان و شوکت سے تقاریب منعقد ہوں گی۔ بڑی بڑی تصویریں آویزاں کر کے قائد کو خراج تحسین پیش کریں گے۔اخبارات بڑے بڑے صفحے چھاپیں گے۔ ٹی وی چینلز پر شور شرابا ہوگا۔ ہر کوئی یہی ثابت کرے گا کہ وہ قائد اعظمؒ کے بتلائے راستوں پر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہے۔ سیاستدان قائد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے افکارِ قائد پر روشنی ڈالیں گے۔ لیکن پچیس دسمبر کے گزرتے ہی قائد کے فرامین ، ان کے افکار و نظریات پر اوس پڑ جائے گی۔ میں چپ چاپ انہیں سن رہا تھا۔

تم جانتے ہو، قائد اعظمؒ 25دسمبر1876؁ء کو پیدا ہوئے ۔ بانیِ پاکستان دیانت و اخلاص کے پیکر تھے۔ ان کی اصول پسندی و عزم کی دنیا قائل ہے۔ وہ عظیم مدبر، اعلیٰ کردار اور برصغیر کے ہر دل عزیز رہنما تھے۔جنہوں نے اس ملک ِ خدادد کے لیے دن رات محنت کی اور پھر ان کی محنت رنگ لائی اور کرہ ارض پر ہمارا پیارا وطن پاکستان وجود میں آیا۔وہ سانس لینے رکے پھر مجھے متوجہ پا کر دوبارہ بولے: اور پتا ہے، ہمارے قائد نے کس مطالبے پر اس ملک کو حاصل کیا؟ میں نے نفی میں سر ہلایا تو انہوں نے کہا: ’’13اپریل 1948؁ء میں ایک تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :’’ ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے ہیں ، جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔‘‘ آپ اسلام کو ہی انسانیت کی فلاح و بہبود اور کامیابی کے لیے بہترین مذہب سمجھتے تھے۔

قائد اعظم ؒ کی زندگی کا اعلیٰ محور ،یہ نظریہ تھا کہ برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کو سیاسی ، معاشی، معاشرتی، مذہبی آزادی کی نعمت سے بہرہ ور کرکے ان کو آزادی کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کے ساتھ باوقار شہری بنایا جائے ۔جی بالکل! مگر افسوس کا مقام ہے ناں!! آج اسی قائد کے پاکستان میں ان کے ارادوں، ان کی آرزوؤں کی توہین ہو رہی ہے۔ وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا۔ ہاں ! 21مارچ1948؁ء کے ایک خطاب میں آپ نے فرمایا تھا:’’ پاکستان میں کسی ایک طبقہ کی لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری نہیں ہوگی۔ اس ملک میں بسنے والے ہر ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں گے۔ پاکستان غریبوں کی قربانیوں پر بنا ہے اس پر غریبوں کو حکومت کا حق ہے۔ لیکن صد حیف ! کہ قائدکی دنیا سے رخصتی کے ساتھ ہی پاکستان پر اجارہ داری قائم ہو گئی۔ وہ رکے ،چائے کا گھونٹ بھرا پھر بولے: بلاشبہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کو یاد رکھتی ہیں لیکن ساتھ میں ان کے کردار و عمل کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل بھی طے کرتی ہیں۔

جانتے ہو، ہر سال 25دسمبر ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ یہی کہ قائد ؒ کے جنم دن پر عہد کرنا جیسے بابائے قوم نے صاف ستھری ، اصولوں کے مطابق زندگی گزاری ان کے نقش قدم پر چلنے کو نصب العین بنانا۔ میں نے ان کے استفسار پر جواب دیا۔ ہاں بالکل! ضرورت اس امر کی ہے کہ جنم دن منانے کے ساتھ ساتھ ہم قائد کے افکار سے شناسائی حاصل کریں۔ محمد علی جناح ؒ کی سچائی ، ایمانداری اور نظریاتی زندگی کو اپنائیں۔ لیکن قائد کے پاکستان کو مستحکم کیسے بنایا جا سکتاہے؟ میں نے پوچھا۔ انہوں نے چائے کی چسکی لی اور کپ رکھتے ہوئے بولے : دیکھو! پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔جس کو صرف اس صورت میں مستحکم بنایا جاسکتا ہے کہ جب ہمارے ملک میں خوفِ خدا، احترامِ آدمیت، جمہوریت کا نفاذ اور شہری آزادیوں کا دور دورہ ہوگا ۔ عوام کی امنگوں کی تکمیل اسی وقت ہوگی ۔ جب عدل و انصاف کا پرچم بلند ہوگا۔ جب قانون کی حکمرانی ہو گی۔

وہ مسکرائے ، دور فضاؤں میں گھورتے ہوئے بولے: قانون سے یاد آیا، آزادی سے پہلے انگریز نے ایک قانون بنایا تھا کہ جس کسی کے پاس بھی سائیکل ہے اس کے آگے لائٹ لگائے۔ بابائے قوم ایک بار چند نوجوانوں سے بات کر رہے تھے تو فرمایا: پاکستان میں کون کون شامل ہوگا؟ مسلمان بچوں نے ہاتھ کھڑا کیا۔ تو آپ نے پوچھا: کس کس کی سائیکل پر لائٹ لگی ہے؟ جواب میں ایک بچے نے ہاتھ اٹھایا تو قائد اعظم ؒ نے کہا : یہ بچہ پاکستان جائے گا۔ وجہ پوچھنے پر آپ نے فرمایا : ’’جو قانون پر عمل نہیں کرتا اسے ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ آج جب جب قانون سے کھلواڑ ہوتا دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ انہوں نے آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے کہا۔ پھر مٹھی بھینچتے ہوئے بولے: قائد تو پاکستان بنا گئے۔ اب قائد کے پاکستان کے استحکام کا فریضہ ہم نے سرانجام دینا ہے۔ ساتھ ہی ہم نے اپنے اپنے گریبان مین جھانک کر فیصلہ کرنا ہے کہ قائد کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ ان کے پاکستان کے لیے ہم نے کیا کرنا ہے؟

وہ خاموش ہوئے اور پھر میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے؟ میں متفق ہوں دادا، ہم نے قائد ؒ کے پاکستان کو مستحکم بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے افکار سے روشنی حاصل کرنی ہے۔ میں نے کہا۔ انہوں نے شاباش دی اور کہا: اچھا اب تم جاؤ۔ آج بہت وقت لے لیا۔ انہوں نے دونوں ہاتھ پھیلائے ، مجھے گلے لگایا، ماتھے پرچوما اور کہا: قائد ؒ کی زندگی کا مطالعہ کرو۔ میں نے حامی بھری اور اجازت لے کر گھر آگیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Basit Zulfiqar

Read More Articles by Abdul Basit Zulfiqar: 38 Articles with 17490 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Dec, 2017 Views: 444

Comments

آپ کی رائے