ہوئے تم دوست جس کے

(Sami Ullah Malik, )

ایرانی صدرحسن روحانی نےہندوستان کے دورے کے دوران۱۷ فروری کوچاہ بہار(فارسی تلفظ چابہار)بندرگاہ کاکنٹرول۱۸ مہینوں کیلئے ہندوستان کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ بھارت چا بہار کے ذریعے ایران اور افغانستان کے راستے وسطِ ایشیا تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔چابہار خلیج اومان پر بنائی گئی ہے۔خلیج اومان کو بعض جغرافیہ دان بحیرہ اومان کہتے ہیں اورکچھ علمائے بحریات کے خیال میں یہ نہ تو سمندر ہے اور نہ ہی دریا،بس خلیج کی ایک آبی گزرگاہ ہے ۔دراصل بھارت نے چا بہارمنصوبہ سی پیک گوادر کے متبادل کے طورپربنایاہے۔ جیسے ہی پاکستان نے چین کے تعاون سے سی پیک اورپھر ون بیلٹ ون روڈپرعمل شروع کیاتونریندرمودی بھاگے بھاگے ایران پہنچے جہاں انہوں نے چابہارپرسرمایہ کاری کی پیشکش کردی۔ایران نے یہ سوچتے ہوئے کہ اس کی ہلدی لگے نہ پھٹکڑی اوررنگ بھی چوکھاآئے ،اس کی منظوری دے دی جس کے بعد اس کی تعمیر کاکام شروع ہوگیا لیکن اس کے باوجودچاہ بہارگوادر بندرگاہ کامتبادل ثابت نہ ہوسکی کیونکہ ایک توگوادرگہرے پانیوں کی بندرگاہ ہے، دوسرے گوادرسے ساری دنیاکی سمت ہرقسم کے بھاری جہازجاسکتے ہیں جبکہ چابہارنہ تواتنی وسعت کی حامل ہے اورنہ ہی گہرے پانیوں میں ہے کہ بھاری بحری جہازاس کارخ کرسکیں۔اس کے علاوہ بھارت نے جومقصد سامنے رکھتے ہوئے اس بندرگاہ پرسرمایہ کاری کی ہے ،وہ صرف افغانستان تک آسان رسائی ہے لیکن چابہارکی تعمیرسے بھارت کایہ خواب قطعاًپورانہیں ہوسکے گا۔ اس کو پاکستان کے راستے کے مقابلے میں افغانستان جانے کیلئے طویل راستہ طے کرناپڑے گاجس پرظاہرہے کہ خرچ بھی زیادہ اٹھے گا۔گوادرمنصوبہ اس کے مقابلے میں کئی لحاظ سے بہتر ہے کہ یہاں سے بین الاقوامی تجارت کے راستے زیادہ سہل اورکم خرچ ہیں اورگوادربندرگاہ میں دنیاکے کسی بھی ملک میں سے ہرقسم کابڑے تجارتی جہازکے آنے جانے کی جدید سہولت دستیاب ہے۔ بہرحال چابہاربندرگاہ منصوبہ بھارت ،افغانستان اورایران کی تجارت کومدنظر رکھ کر بنایاگیاجبکہ چین اور پاکستان کے تعاون سے ون بیلٹ ون روڈمنصوبے کے تحت بنی گوادر بندرگاہ نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیاریاستوں اور یورپ کوایک دوسرے سے منسلک کرے گی۔ادھرگوادربندرگاہ گہرے سمندرکے دہانے پر واقع ہے جہاں بڑے کارگو جہاز آ سکتے ہیں جبکہ چابندرگاہ کے پاس ایسی کوئی صلاحیت موجودنہیں۔
ایران نے چابہاربندرگاہ کے ایک حصے کواٹھارہ ماہ کیلئے بھارت کولیزپردینے کاجواقدام کیا،اس ضمن میں حیران کن امریہ ہے کہ ایران وہ ملک ہے جس نے قیام پاکستان کے بعدپوری دنیامیں سب سے پہلے پاکستان کوایک آزاداسلامی مملکت کے طورپرتسلیم کیاتھا۔پھرایران پاکستان کے تعلقات ہمیشہ اتنے دوستانہ وبرادرانہ رہے کہ یہ ایک عرصے تک دو بھائیوں کی طرح زندگی گزرتے رہے اورہرمشکل میں ایک دوسرے کی مددکرتے رہے حتیٰ کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں جب پاکستان کے جنگی طیارے سرگودھایالاہورسے پروازکرتے توفضامیں اٹھتے ہی بھارتی راڈارپرآجاتے تھے جس پر اس وقت کے شہنشاہ ایران رضاشاہ پہلوی نے پاکستانی جنگی طیاروں کوایرانی ہوائی اڈوں سے اڑان بھرنے کی سہولت پیش کر دی ۔اس کے علاوہ بھی بے شمارایسے مواقع آئے جن میں ان دو برادر اسلامی ملکوں نے ایک دوسرے کی حدسے بڑھ کرمددکی ۔جب تعلقات اتنی گہری بنیادوں پرقائم ہوں توپھر دونوں ملکوں کوکسی تیسرے ملک کی بات تسلیم کرنے سے قبل باہمی طورپراطمینان کرلیناچاہئے اورکسی بھی منصوبے پرعملی اقدام سے قبل اس کے نفع ونقصان پرضرورغورکرلیناچاہئے۔

دفاعی اعتبارسے اس وقت جوکیفیت ایران کی ہے۔وہی پاکستان کی بھی ہے کیونکہ اس وقت ایران کوامریکااوراسرائیل کی دشمنی کاسامناہے جبکہ پاکستان کوبھی اس وقت امریکا، اسرائیل کے ساتھ ساتھ بھارت اورافغانستان کی دشمنی کاسامناہے اوریہ بات ایران سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خود بھارت ایران کی سر زمین کوکس طرح پاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے جس کابھانڈہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعدسامنے آچکاہے۔تاہم ایران اورپاکستان دونوں ہی ایک ہی نوعیت کے دشمنوں سے برسرپیکارہیں۔ایسے حالت میں ایرانی قیادت کوایساکوئی بھی معاہدہ کرنے سے قبل پاکستان سے مشورہ ضرورکرلیناچاہئے تھاکہ ہمیں اس پرکوئی اعتراض تونہیں ہے۔

جہاں تک بھارت میں ایران میں کام کرنے کاتعلق ہے توہمیں بھارت کی جانب سے ایران میں تعمیراتی امورمیں اعتراض نہیں لیکن ایرانی حاکم یہ توسوچیں کہ بھارت کاحاضر سروس ''را''کا ایجنٹ کلبھوشن یادیوایران کے راستے پاکستان آیاتھا اورایران میں بیٹھ کربلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی مالی مدد اور اسلحے کی ترسیل ،پاکستان کے دیگرعلاقوں میں دہشتگردگروپوں کی اعانت اور دہشتگردحملوں میں ملوث ہونے کااقرارکرچکا ہے جس میں سینکڑوں پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔اصولی طور پرہمیں ایران سے احتجاج کرنا چاہئے تھالیکن ہم نے برادرانہ جذبے کے تحت ازخودیہ سوچ لیاکہ ممکن ہے ایران کوکلبھوشن کے جاسوسی نیٹ ورکس کاعلم نہ ہو۔ایسے حالات میں دوست تودوست ،حقیقی بھائیوں کے دلوں میں بھی دوریاں پیداہوجاتی ہیں اوران کے تعلقات میں لاتعلقی کارحجان پروان چڑھنے لگتاہے اورپھر وقت کے ساتھ ساتھ دوستی کے جذبات سردہوجاتے ہیں اور پھرشکایات شروع ہونے لگتی ہیں اور بڑھتے بڑھتے اس مقام پرلیجاتی ہیں جہاں دونوں بھائیوں میں دشمنی پروان چڑھنے لگتی ہے جبکہ خطے کے تاریخی وسیاسی حالات کاتجزیہ کریں توہمیں احساس ہوتاہے کہ اس وقت ہمارے دشمنوں کے مفادمیں یہی ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی ختم کرکے بداعتمادی کی ایسی فضاقائم کی جائے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے کسی بھی اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھیں اور اس میں اپنے خلاف نفرت وکدورت کے جذبات کے علاوہ امکانی نقصانات کی جانب بھی توجہ دیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کابھارت صرف بھارت نہیں ہے بلکہ وہ جوکچھ بھی کر رہاہے اس میں امریکاواسرائیل کی مکمل آشیرآبادبھی اس کو حاصل ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کے ذریعے سے انکل سام اپنی سازشوں کوخطے میں پروان چڑھانے میں مصروف ہے اوراس کامقابلہ ہم ہوش مندی کے ساتھ اورمتحدرہ کرہی کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ایران کو بھی دیکھئے کہ بھارت ایک جانب ایران کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھارہاہے وہاں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ بھی دوستی کامعاملہ چل رہاہے اورمعاملہ تویہاں تک پہنچ گیاہے کہ پہلی مرتبہ یواے ای میں حکومت کی طرف سے نہ صرف بت خانے کیلئے مفت زمین مہیاکی گئی بلکہ اس کی تعمیرمیں بھی ایک خطیررقم کاعطیہ بھی دیاگیااور شرمناک پہلو تویہ ہے کہ اس کے افتتاح پرخودعرب حکمران متعصب ہندوکے رہنمامودی کے ساتھ ہندو طرزپرعبادت میں اعانت کرتے ہوئے شامل رہے جبکہ ان تمام اسلامی ممالک کوپاک بھارت دشمنی کابخوبی علم ہے۔

ادھربھارت کاامریکاکے ساتھ مالک اورغلام کارشتہ بن گیاہے اوراب اسرائیل کے ساتھ مل کرشب وروزپاکستان کوعدم استحکام کی سازشوں میں شریک ہیں۔ایران کی روس اور شام کے ساتھ دوستی ہے جبکہ امریکاکی روس اورشام سے دشمنی چل رہی ہے۔سب سے بڑھ کریہ بھارت اور اسرائیل یک جان دوقالب ہیں جبکہ اسرائیل کھلم کھلاایران کے ایٹمی پروگرام پرحملے کیلئے پرتولتارہاہے اورایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں جس کی ایک معمولی سی مثال میونخ سیکورٹی کانفرنس میں میں اس وقت نظر آئی جب نیتن یاہونے مبینہ طورپر ڈرون کاٹکڑا لہرایا۔ایرانی وزیرخارجہ نے نیتن یاہوکی حرکت کو مزاحیہ قراردیا۔نیتن یاہونے ایران کوسنگین دہمکیاں دیتے ہوئے کہاکہ اگراسرائیل چاہے توایران کے خلاف ایکشن لے سکتاہے۔انہوں نے مذکورہ کانفرنس میں مبینہ ڈرون کاٹکڑالہراکر ایران پرہمسایہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاالزام بھی لگایا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ایران کو سخت تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اسے دنیاکیلئے سب سے بڑاخطرہ قراردیا۔انہوں نے کہااسرائیل ایرانی حکمرانوں کودہشتگردی کاپھندہ ہماری گردن میں ڈالنے نہیں دے گا۔نیتن یاہونے۲۰۱۵ءنے میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو ۱۹۳۸ءمیں ہونے والے میونخ معاہدے سے تشبیہ دی جس میں نازی جرمنوں کے ساتھ امن معاہدہ کیاگیاتھا،انہوں نے الزام عائد کیاکہ اس معاہدے کے بعدایرانی شیرآزادہوگیاہے لیکن ہم بغیرکسی ہچکچاہٹ کے بغیراپنا دفاع کریں گےاورہروہ ایکشن لیں گے جوہم ضروری سمجھتے ہیں جوکہ نہ صرف ایران کاساتھ دینے والوں کے خلاف ہوگابلکہ وہ ایران کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔

ردّ ِ عمل میں ایرانی وزیرخارجہ محمدجوادظریف کاکہناتھاکہ اسرائیل خطے میں جارحیت کی پالیسی پرگامزن ہے۔شام نے اسرائیلی طیارہ مارگراکرصہیونی سازش بے نقاب کردی ۔جواد ظریف نے مبینہ ڈرون ایرانی ڈرون کاٹکڑادکھانے پر اسرائیلی وزیراعظم کوکرتب بازقراردیا۔یہ تمام حالات ایرانی حکومت کے سامنے ہیں اوروہ بھی یہ جانتے ہیں کہ آج کل اسرائیل اوربھارت یک جان دوقالب ہیں،پھریہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل توایران کاجانی دشمن ہواوربھارت کاجانی دوست۔حقیقت تویہ ہے کہ امریکا،اسرائیل،بھارت اور افغانستان مل کرمسلمان ملکوں کودھوکہ دے رہے ہیں اور امریکاکی مسلم کش پالیسی پرعمل پیراہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے ملک میں مسلمانوں کوختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اورمقبوضہ کشمیرمیں تواس نے ظلم وتشددکی انتہاء کردی ہے جبکہ میانمارمیں اس پالیسی پرعمل ہوتارہااور امریکانے افغانستان، لیبیا،صومالیہ،شام کوتباہ کردیا، مصرکوتباہی کے کنارے پرپہنچادیاہے، ایران ،قطر،ترکی اورپاکستان کی تباہی کے درپے ہے ۔پچھلی دودہائیوں میں ۳ملین سے زائدمسلمانوں کو شہیدکرچکاہے اور۶۰ملین سے زائد مسلمان اپنے گھروں سے بیدخل ہوکرمہاجرکیمپوں میں بیکسی کی زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔امریکی جارحیت کی بناء پرمسلمان ممالک میں۴۳فیصدافراد بیروزگار ہیں،۶۰فیصد غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہے ہیں ،اب ایسے حالات میں بھارت اور ایران کی دوستی کس حد تک چلے گی؟حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دوستی اور دشمنی کرتے وقت خطے کے اوراپنے معروضی حالات بہرحال سامنے رکھنے چاہئیں!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 227016 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2018 Views: 333

Comments

آپ کی رائے