مسلمانوں کے زوال میں اپنوں کا کردار،موجودہ صورت حال اور ہماری دوہری پالیسی

(Shams Tabrez Qasmi, India)

قوموں کے زوال میں نمایاں کردار اسی قوم کے افراد ادا کرتے ہیں،مسلمانوں کے زوال میں بھی ہمیشہ کلید ی رول مسلمانوں کا ہی رہاہے ، سقوط غرناطہ سے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ ۔بغداد کی تباہی سے دہلی کے زوال تک تاریخی یہی بتاتی ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں سے ہی بعض افراد کے رویے نے مسلمانوں کو نقصان پہونچایاہے اور انہیں کی وجہ سے دنیا کی ایک عظیم فاتح قوم آج شکست خوردہ ،پسماندہ اور بے بس ہوچکی ہے ۔ہندوستان کی تاریخ بھی اس سے مختلف نہیں ہے ٹیپوسلطان کی شہادت اور سلطنت میسور کا خاتمہ میر صادق کی غداری کا نتیجہ ہے ،نواب سراج الدولہ کو بھی سوئے اتفاق میر جعفر جیسا غدار وزیر اعظم مل گیا جس کی بناپر انہیں شکست کا سامناکرناپڑااوریوں ہندوستان سے مسلم حکومت کاخاتمہ ہوگیا ۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمان مسلسل کمزور ہوتے جارہے ہیں،اقتدار سے محروم یہ قوم دن بہ دن پسماندگی کاشکار ہوتی جارہی ہے ،سیاست کے ساتھ ،سماجیات تعلیم،معیشت ،ٹیکنالوجی سمیت تمام شعبہ حیات میں ہندوستانی مسلمان دیگر کمیونٹیز کے مقابلے میں کمزور ہیں اور اس کیلئے حکومت سے زیادہ ذمہ دار خود ہم مسلمان ہیں ۔

آزادی کے بعد مسلمانوں نے ہمیشہ دفاعی راستہ اختیار کیا ،سنگھ پریوار کی تنقید کا سلسلہ شروع کیا ،ہندتوا کی پرزور مخالفت کی ،اب یہ سلسلہ اور درزا ہوچکاہے ،لاکھوں کی بھیڑ اکٹھاکرکے مسلم قیادت آر ایس ایس کی مخالفت کرتی ہے ،ہندتوا پر سوال اٹھاتی ہے ،ہندوستانی تہذیب وثقافت کیلئے اسے خطرہ بتایاجاتاہے ،سوشل میڈیا پر بھی اب یہ سب ہونے لگاہے ،مدارس کے بعض فضلاء بہت زور وشور سے آر ایس ایس کی تنقید کرتے ہیں،آر ایس ایس کا نام سنتے ہیں نفرت کا اظہار کرنے لگتے ہیں،ان میں بیشتر وہ ہوتے ہیں جنہیں آر ایس ایس کے حقیقی نام کا بھی پتہ نہیں ہوتاہے ،تنظیم کی مختصر تعریف سے بھی ناواقف ہوتے ہیں ۔سر عام آر ایس ایس کی مخالفت اورہندوتوا تنظیموں کی تنقید سے سامعین میں نعرہ بہت زوردار لگتاہے ،تیز تالیاں بجتی ہیں ،بیباک خطیب اور نڈر قائد کا لقب ملتاہے لیکن اس کا نتیجہ کیا سامنے آتاہے؟کیا سرعام ہماری کی گئی اس طرح کی مخالفت سے سنگھ اپنے ایجنڈا کو روک دیتے ہیں؟،ان کی مہم پر پابندی لگ جاتی ہے؟،پولس اور انتظامیہ ان کے خلاف کوئی ایکشن لیتی ہے ؟،حکومت کاروائی کرتی ہے؟،اس نظریہ کے حامیں آپس میں تقسیم ہوجاتے ہیں؟ ۔نہیں ۔ ستر سالوں سے ہم یہ کہتے ہوئے آرہے ہیں لیکن کسی نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ہماری پسندیدہ حکومت کانگریس بھی کوئی کاروائی کرنے میں ناکام رہی اور آج وہ حکومت تک بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے ، مسلسل کامیابی کی جانب رواں دواں ہے،مرکز کے ساتھ بیس ریاستوں میں اس کی سرکا ر ہے ، جس قدر ہم ان کی مخالفت میں آواز بلندکرتے ہیں وہ اور متحدہوجاتی ہے دوسری جانب ہم مسلمانوں نے ان کے خلاف بولنے اور لکھنے کے علاوہ عملی سطح پر ان کا مقابلہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے ،وہ اکثریت میں ہیں،متحدہیں، طاقتور ہوچکے ہیں ،چوطرفہ ہم پر حملہ کررہے ہیں۔ہماری شریعت کی تشریح بھی آج وہی لوگ کررہے ہیں،ہمارے فلاح وبہبود کیلئے بھی انہوں نے ایک تنظیم بناڈالی ہے۔ان سب کے جواب میں ہمارے پاس یہ کہنے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ ہندتوا ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کیلئے خطرہ ہے ۔آر ایس ایس مسلمانوں اور ملک کی دشمن ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ ہندوتوا سے خطرہ صرف مسلمانوں کو ہے ،ان کا ٹارگٹ بھی مسلم قوم ہے کوئی اور نہیں ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کے نا م کا تذکرہ اسلامی تاریخ میں ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے کیا جاتاہے ،ان کی کامیابی اور فتح کے اساب کی طویل فہرست ہے لیکن سب سے اہم ان کا جاسوسی نظام تھا، غداروں کے تئیں بہت سخت تھے ،دشمن سے زیادہ گہری نظر اپنی فوج اور قوم کے افرادپر رکھتے تھے۔ آج کے ہندوستان میں یہی غداری مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے ، موجودہ حکومت او رسنگھ کا ایجنڈہ مسلمانوں کو مزید کمزور کرنا،آپس میں منتشر کرنا اور متحدہ اداروں کا وجود مٹاناہے اور ہم اس کے شکار ہوتے جارہے ہیں ۔ہمارے لئے اصل خطرہ اور دشمن بی جے پی ،بجرنگ دل ،وشو ہندو پریشد،آر ایس ایس یا کوئی اور تنظیم نہیں بلکہ ہماری قوم کے وہ افراد ہیں جو ان کے اشارے پر کام کرتے ہیں،ان کے نظریہ کو تھوپتے ہیں، جانے انجانے میں ان کے ایجنڈا کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں،اپنی اناکی خاطر قوم کی متفقہ رائے سے ہٹ کر ڈیڑھ اینٹ کی دیوار کھڑی کرلیتے ہیں،عہدہ اور منصب کی خاطر تنظیموں کو تقسیم کرڈالتے ہیں،کبھی بھی سمجھوتہ اور مصلحت سے کام لینا نہیں چاہتے ہیں ،علم ،حکمت ،دانائی اور بصیرت میں خود کو سب پر فائق سمجھتے ہیں ۔ایسے افراد کی ہماری قوم میں ایک طویل فہرست ہیں،کون کب کس کے اشارے پر کام کرنے لگے اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ میر صادق کے بارے میں ٹیپو سلطان کو کبھی وہم وگمان بھی نہیں ہواہوگا کہ یہ غدار نکل جائے گا ،میر جعفر کے تئیں نواب سراج الدولہ نے یہ کبھی نہیں سوچاہوگا کہ انگریزوں کے ساتھ مل جائے گا لیکن تاریخ میں یہ دونام اب ضرب المثل بن گئے ہیں ۔شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضو ی کو ہی لے لیجئے ،شرو ع میں یہ بہت اچھے تھے ،مسلمانوں کے قدر آوار لیڈر اعظم خان انہیں لیکر آئے تھے لیکن یوگی حکومت کے آتے ہی ان کے سر بدل گئے۔مولانا سلمان ندوی کی بھی مثال ہمارے سامنے ہے ،تیس سالوں تک بورڈ کے اہم رکن رہنے کے آج وہ بورڈ کے خلاف ہی بغاوت کربیٹھے اور اسے تحلیل کردینے کی مہم چھیڑ دی ۔ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کو معروف مسلم دانشور کی حیثیت سے جاناجاتاہے لیکن آج کل وہ بھی مسلمانوں کی ایک قدیم تنظیم آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کے خلاف سازش کرنے میں مصروف ہیں اور عدلیہ تک اس کا معاملہ پہونچاچکے ہیں ۔اس طرح کے کئی ایک نام ہیں جن کا ماضی روشن ،صاف ستھر اور قابل رشک ہے لیکن حال میں ان کے اقدامات سے پوری ملت اسلامیہ کو نقصان پہونچاہے ۔ اضطراب اور بے چینی کی کیفیت ہے ۔صہیب قاسمی ،مفتی وجاہت قاسمی جیسے بھی کئی آپ کو مل جائیں گے جس کی نسبت دارالعلوم کی جانب ہے لیکن ان کارنامے مسلم مخالف ہوتے ہیں ۔حکومت اور ارباب اقتدار کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حدتک گرجاتے ہیں۔

ایسے ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے کیاہم امت میں انتشار پیداکرنے والے ان افراد کو نظر انداز کردیں یا پھر ان سے ملت کو ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کریں ،ملت کو بتائیں کہ سچ اور حقیقت کیا ہے ۔ ماضی کی تاریخ کے مطابق ان حالات میں دو انداز میں سے کوئی ایک کو قوم اپناتی ہے ۔بعض قوم اور اس کے سربراہ اپنی قوم کے اندرونی غداروں کو نظر انداز کرتے ہیں،آپسی خلفشار کو ختم کرنے میں کوئی دلچسی نہیں رکھتے ہیں،سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اندرونی خامیوں کو ختم کرنے کے بجائے فریق مخالف پر مکمل توجہ دیتے ہیں،اسی کو برا بھلا کہنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرتے ہیں ایسی قوم کا انجام زوال کے سواکچھ اور نہیں ہوتاہے ۔ ایسے موقع پر یک دوسرا انداز یہ ہوتاہے کہ قوم اور اس کے سربراہ خود کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،غداری اور منافقت سے اپنی صفوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ دشمن سے زیادہ ان کی نگاہ اپنوں پر ہوتی ہے کوئی دشمن سے ملاتو نہیں ہواہے ،کسی کی حرکت سے دشمن کو فائدہ تو نہیں پہونچ رہاہے ۔یہاں دشمن کی زبانی مخالفت کے بجائے عملی سطح پر ان کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی جاتی ہے ،ہر محاذ پر ان کی برابری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

ایک ذی شعور قاری ہونے کی حیثیت سے آپ کو خود فیصلہ کرناہوگا کہ آپ کی کامیابی کس میں ہے ،کس طریقے کو اپناکر آپ کامیابی کی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔ آزاد ہندوستان کے ستر سالوں میں مسلمانوں نے ان فاششٹ طاقتوں سے لڑنے کیلئے کیا لائحہ عمل طے کیا ہے جن کا ڈر اور خوف ہم ہرجگہ مسلمانوں کو دلاتے ہیں ۔آج کی صورت حال یہ ہے کہ مخالفت اور تنقید شخصیت ،نسبت اورمسلک دیکھ کر کی جاتی ہے ۔ ہمارے ہم مسلک قائدکوئی کام کرتے ہیں تو ہم اسے حکمت ومصلحت کا عنوا ن دیتے ہیں ۔دوسرے مسلک والے کرتے ہیں تو انہیں غدار او ردشمن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے موقف کی ترجمانی کرنے والا اگر شیعہ ہوتاہے تو ہم اسے براہ راست میر صادق کی اولاد کہنے لگتے ہیں لیکن اسی موقف کو کوئی عالم دین اپناتاہے تو ہم اسے مصلحت کا نام دیتے ہیں یا پھر شخصیت ،نسبت اور خاندان کا واسطہ دیکر خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہیں ۔

برسبیل تذکرہ ہم اس تحریر میں ملت ٹائمز کی ایک پالیسی کا بھی تذکرہ کرنا چاہتے ہیں،ملت ٹائمز کا ایک اہم مقصد صحافت کے ذریعہ مسلمانوں کو مضبوط کرنا،انہیں ان کی کمزوریوں سے آگاہ کرنا اوراس کی جگہ متبادل راستہ کی رہنمائی کرنا ہے ،ملت ٹائمز کے اردو سیکشن میں ہم آر ایس ایس ،بی جے پی یا ملکی سیاست پر بہت کم لکھتے ہیں،یہاں مسلم ایشوز اور ملی مسائل پر سب سے زیاد ہ خبریں ،مضامین ،فیچرس اور تجزیہ کی اشاعت ہوتی ہے ۔جس کا مقصدہمیں اپنوں کو اپنے بارے میں بتاناہوتاہے ، اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور اس کا حل تلاش کرنا ہمارے مشن کا حصہ ہے ۔ان امور کیلئے ہم صرف اردو زبان کا استعمال کرتے ہیں،اس طرح کے مسائل ملت ٹائمز کے ہندی او رانگلش سیکشن میں نہیں اٹھائے جاتے ہیں نہ ہی یوٹیوب چینل کے ذریعہ ان امورپر بات ہوتی ہے تاکہ ہمارے گھرکی بات ہمارے گھر میں رہے اور ہمیں اپنی کمزوریوں کوتاہیوں کا بھی علم ہو۔ایک میڈیا ہاؤس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ غیر جانبداری سے کام لے ،قوم کو صحیح آئینہ دکھائے ،حقائق کو سامنے لائے ۔قبول کرنے نہ کرنے کاکام قارئین کا ہے ۔قارئین کا مطلب ہی ہوتاہے کہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں ،سوچنے سمجھنے اور غور وفکر کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ہاں جن امور کے بارے میں ہمیں لگتاہے کہ یہ آواز وزیر اعظم تک پہونچنی چاہیئے،برادران وطن کو اس کا علم ہونا چاہیئے اس کیلئے ہم ہندی اور انگریزی سیکشن کا استعمال کرتے ہیں ۔ الحمد اﷲ ملت ٹائمز کو اس حوالے سے کئی کامیابی مل چکی ہے ۔ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کی کئی خبر کو مین اسٹریم میڈیا نے بھی کور کیا ہے۔یہاں پر آپ کو یہ اعتراض ہورہاہوگا کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ دیگر کمیونٹیز کے لوگ بھی اسے جانتے ہیں۔یقینا پڑھتے ہیں لیکن وہ تعداد ناقابل شمار ہے ،اردو جاننے والوں میں 99.99 فیصد مسلمانوں کی ہی تعداد ہے ۔

آج کی صحافت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ اپنوں کے تئیں نرم رویہ اختیا کرتے ہیں،ان سے سوال کرنا گناہ عظیم اور گستاخی سمجھتے ہیں جبکہ مخالف مسلک اور نظریہ کے لوگوں سے سخت سوال کرتے ہیں اور اسے اپنی بیباکی سمجھتے ہیں،جیساکہ ہمیں زی نیوزاور ٹائمس ناؤوغیرہ پر دیکھنے کو ملتاہے ،بلکہ سچائی یہ ہے کہ ہم جیسے لوگ اسے بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں،انٹر ویو لیتے وقت حضرت کی طرف نظریں اٹھاکر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کرپاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سکتے ہیں کہ زی نیوز جیسی صحافت کچھ لوگ ملت ٹائمز کے پلیٹ فارم سے بھی چاہتے ہیں ، ان کی خواہش ہے کہ یہاں جانبداری سے کام لیاجائے ،ہم مسلک اور ہم عقیدہ لوگوں کے بارے میں سچ چھپایاجائے ،علماء اور ملی قائدین سے کوئی سوال نہ کیا جائے ،ان کے ہر کام کی آنکھ بند کرکے تقلید کی جائے ،البتہ مخالفین کے بارے میں صرف سچ بتایاجائے ۔لیکن یہ ہمارے ضمیر کے خلاف ہے، صحافت کی روح بھی اس طرح کی جانبداری سے پامال ہوتی ہے ۔انڈین ایکسپریس اور این ڈی ٹی وی جیسے میڈیا ہاؤس ہمارے لئے بہترین آئیڈیل ہے جہاں شخصیت ،مذہب اور عقیدہ کے بجائے سچ کو سچ بناکر پیش کیا جاتاہے ۔ان کی پالیسی یہ نہیں ہے کہ بی جے پی ہندتوا کی پالیسی پر عمل پیر اہے تو بطور ہندو ہم ان کے خلاف خبریں نہ لکھیں ،بلکہ وہ صحافتی اصولوں پر عمل کرتے ہیں ۔میدان صحافت میں سرگرم ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم صحافت اور عقیدت میں فاصلہ بنائے رکھیں،انٹر ویو لیتے وقت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کا حوصلہ پیداکریں۔ اگرہم کسی صحافی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے انٹر ولیتے ہوئے کرن تھاپر جیسا انداز اختیا ر کرے تواسی کے ساتھ ہمیں اس صحافی کی بھی مذمت کرنا چاہیئے جو مولانا رابع حسنی ندوی اور مولانا ارشدمدنی سے انٹر ویو لیتے ہوئے سدھیر چودھر ی کے مودی سے لئے گئے انٹر ویو والے طریقے کو اپناتاہے ۔

یہ طویل کالم پڑھنے کیلئے آپ کابیحد شکریہ ،بہت دنوں سے اس موضوع پر لکھنا چاہ رہاتھا لیکن ممکن نہیں ہوپارہاتھا،اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے خبر درخبر کی 550 ویں قسط میں یہ ہوگیاہے ۔اس تحریرپر ہمیں آپ کی رائے اور تبصرے کا انتظا ر رہے گا ۔آپ ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔فون اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ بھی رابطہ کرسکتے ہیں ۔شکریہ

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 323 Print Article Print
About the Author: Shams Tabrez Qasmi

Read More Articles by Shams Tabrez Qasmi: 211 Articles with 88259 views »
Islamic Scholar, Journalist, Author, Columnist & Analyzer
Editor at INS Urdu News Agency.
President SEA.
Voice President Peace council of India
.. View More

Reviews & Comments

Language: