قوت فیصلہ اور آج کا طالب علم

(Azhar Mehmood, Kohat)
Aj ke talim elam ko chahye kh apni merzi kh mutabiq apne shooby ka intekhab karain..l

قوت فیصلہ اور آج کا طالب علم

میں اپنے قلم کی اجازت اور معاشرتی مشاہدے کی بدولت تمام طالب علموں، والدین اور اساتذہ کرام کی توجہ جدید دور کے اس جدید مسلے کی طرف لانا چاہتا ہوں کہ آج کے دور میں طالب علم اپنے مستقبل کا فیصلہ کس کشمکش اور غیر مطمئن انداز میں کرتا ہے۔ اس کی کئ وجوہات ہیں اس کی بنیادی وجہ قوت فیصلہ اور طالب علم کے اپنے اندر موجود خوبیوں کا صحیح تعین نہ کرنا ہے۔ اس کی دوسری بنیادی وجہ مختلف ان پڑھ اور پڑھے لکھے افراد کے غیر میعاری مشورے ہیں جو طالب علم کو خود فیصلہ کرنے نہیں دیتے۔ چونکہ طالب علم خود اتنا پختہ نہیں ہوتا لہذا وہ اپنے انتخاب کردہ شعبے کے بارے میں ہر قسم کے لوگوں سے مشورے لینا شروع کردیتا ہے جن میں کچھ لوگ تو اس کی حوصلہ افزائی کرلیتے ہیں لیکن کچھ لوگ حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے طالب علم ذہنی پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس صورت میں والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کی ان فیلڈز میں حوصلہ افزائی کریں جن میں وہ قدرتی مہارت رکھتے ہوں اود ان پر ان کی شخصیت کے غیر مطابق شعباجات میں بوجھ نہ ڈالے جو بعد میں والدین اور بچے دونوں کے لئے مایوس کن ثابت ہو۔

طالب علموں کو ان کی منتخب کردہ شعبے میں مثبت رائے اور اچھا مشورہ دینا چاہئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مشورہ ایک امانت ہے جو نیک نیتی کے ساتھ دوسروں کو دینا چاہئے اور ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیئے۔اس سے نہ صرف طالب علم کے انتخاب کردہ کیرئر میں حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ تعلیم کی طرف ان کا جوش و جذبہ بھی قایئم رہےگا۔

آج کے اس جدید دور میں تمام طالب علموں کو چاہئے کہ وہ اپنے قیمتی مستقبل کے فیصلے کسی اور پر نہیں بلکہ اپنے قوت فیصلہ کو مضبوط بنا کر اپنے والدین کی مرضی سے خود کریں۔ اس میں اساتذہ کرام کو چاہیئے کہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں اور طالب علموں میں قوت فیصلہ کو اجاگر کرنےکیلئے کڑی محنت کریں کیونکہ اگر نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہے تو ملک کا مستقبل محفوظ ہے اور اگر پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے تو میرا اور اپ کا مسقبل محفوظ ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Mehmood

Read More Articles by Azhar Mehmood: 2 Articles with 1740 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Mar, 2018 Views: 947

Comments

آپ کی رائے