منزل ادب کا راہی اور طرحی مشاعرے کے بادشاہ!

(وشمہ خان وشمہ, ملایشیا)
منزل ادب کا راہی اور طرحی مشاعرے کے بادشاہ!

جناب خاور مشتاق چشتی صاحب !!!
اس کائنات میں اردو ادب میں جو بھی شاعر ابھر کر آیا ان میں ایک نام خاور مشتاق چشتی صا حب کا ہے۔فیس بک کی دنیا میں طرحی مشاعرے کے بادشاہ ہے
جناب خاور مشتاق چشتی صاحب کا تعلق بہاولپور سے ہے آپ نے ایم اے ایڈمنسٹریٹو سائنس پنجاب یونیورسٹی سے کی اور بینک کے اعلی عہدے پر بھی فائز رہے اپ کو بچپن سے لکھنے کا شوق تھا آپ نے روزنامہ امروز میں بچوں کے کالم سے ابتدا کی،یوں ہلکا پھلکا سلسلہ جاری رہا جب آپ ماسٹرز کر رہے تھے دوراں پنجاب یونیورسٹی سے ایڈمنسٹریٹو سائنس ڈپارٹمنٹ کے میگزین کے لئے تین چار غزلیں لکھیں کچھ عرصہ ،بینک میں مصروفیات کی وجہ سے شاعری کو وقت دے نا سکے،
حبیب بینک لمیٹڈ کی طرف سے 1982 میں اوورسیز پوسٹنگ پہ ابو ظہبی چلے گئے وہاں پاکستان سینٹر میں ریگولرلی بین الاقوامی مشاعرے یوتے رہتے تھے جہاں ہند وپاک کے سب بڑے شعرا کو سننے اور بعد میں ان کے درمیان بیٹھ کے پڑھنے کے مواقع بھی ملے جہاں سے یہ شوق مضبوط ہوا
1990 میں واپس پوسٹنگ ہوئ اور ذمے داریاں بڑھیں تو شاعری کہیں کھو گئ.
محترمہ ڈاکٹر فرحت خان صاحبہ نے فیس بک کی راہ دکھائ اور متعارف کرایا . جناب خاور مشتاق چشتی صاحب اب گزشتہ دو سال سے فیس بک کی دنیامیں لکھ رہیں ماشاء اللہ سے خوب لکھ رہیں اور ہر طرحی مشاعرے میں لکھتے ایسے جیسے بقول شمشاد شاد صاحب کے کیا شاعری کی فیکڑی ہے۔۔۔مستقبل میں کتاب کی خواہش رکھتے ہے۔۔
مری دعا ہے اللہ پاک ان کی ہر خواہش پوری کرئے آمین
چند اشعار!!!!
نعت کے اشعار
زمیں پہ بکھری ہوئ روندی ہوئ خاک ہوں میں
کسی کے کام نہ آۓ جو ایسی راکھ ہوں میں
وہ ساعتیں ہی میری زندگی کا حاصل ہیں
جو دیکھتا ہوں کہ جالی کے آس پاس ہوں میں
کھلا ہے آپ کا در جو بھی چاہے آ جاۓ
حضور مجھ کو بلا لیں بہت اداس ہوں میں

جب پیارے نبی صلعم آۓ انسان نیا انسان
بنا کثرت کے سبھی بت ٹوٹ گۓ وحدت کا الگ فرمان بنا
کچھ مٹی تھی خوش بختی کی کچھ پانی تھا دانائ کا
جب پاک خدا نے حکم دیا تب اک کامل انسان بنا
کچھ حسن ازل کچھ فہم و ذکا کچھ صدق و صفا باہم جو ملے
ایمان بنا ایقان بنا احسان بنا انسان بنا

چند اشعار
غم میرے بھی کم ہوں گے غم تو بھی گھٹا لے
شرمندہ نہ ہو غیر نہ بن آ کے منا لے

یہ وفا دار کسی کی بھی نہیں ہے یارو
تم سمیٹو گے جو دنیا تو بکھر جاؤ گے

میرے لبوں پہ تبسم کی اک شفق کے لۓ
نہ جانے کتنے ہی صدموں نے خوں دیا ہو گا

میں نے جس کو بھی مصیبت میں مسیحا جانا
جو دیا اس نے بڑا اس سے. کچھ عذاب نہ تھا

اک تاج محل دیکھا الفت کی نشانی تھا
شاہوں کے نشاں باقی ہم خاک میں سوتے ہیں

کسی سے کچھ نہ کہا خود بکھر گیا چپ چاپ
میں ایک لمحہ تھا جیسے گزر گیا چپ چاپ

وہ میرے ہونٹوں پہ رہتا ہے اب دعا بن کر
دعائیں میری سبھی مستجاب ہو جائیں

عشق قزاق ہے وہ لوٹ نہ لے
حسن اک بے بہا خزانہ ہے

شیشے کے جسم والو رہتے ہو کانچ گھر میں
یہ سنگ تم نے مجھ پہ کیا سوچ کے اٹھایا

گزارے ہیں خاور کچھ ایسے بھی لمحے
سہاروں کے ہوتے رہے بے سہارے

ہم نے یے بخشا عشق کی عظمت کو یہ مقام
منزل کے شوق میں چلے آتے ہیں دار تک

دریا کی ایک لہر نے بستی اجاڑ دی
پہنچی نہ تھی دعا ابھی پروردگار تک

میرے بغیر گنوا دو گے عمر بھر کا سکوں
ہے بات سچی تو پھر وقت ہے مناؤ مجھے

میں تو گمنام سا ہوں شاعر نہ ادیب
رونق ہر بزم کی جو ہے وہ سخنور تم ہو
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: وشمہ خان وشمہ

Read More Articles by وشمہ خان وشمہ: 119 Articles with 153591 views »
I am honest loyal.. View More
17 Apr, 2018 Views: 691

Comments

آپ کی رائے