مرد ہی مرد کا دشمن

(بشریٰ کنول ضیاءالر حمٰن, کراچی)
کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس ملک کے اچھے معاشیحالات اور روزگار پر ہوتا ہے جس ملک میں بے روزگاری نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہوں اس ملک کو ترقی کرنے میں وقت لگتا ہے۔

مرد ہی مرد کا دشمن
ازل سے مشہور تو یہی ہے کہ ایک عورت ہی دوسری عورت کی دشمن ہوتی ہے، لیکن آج کے دور کی بات کریں تو یہی کہنا درست ہوگا کہ ایک مرد ہی مرد کا دشمن بنتا جارہا ہے ۔

آپ لوگ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ۔ لیکن یہ اصل میں دیکھنے میں آرہا ہے ۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری مرد حضرات کیلئے تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے۔ ایک طرف تو مرد حضرات بے روزگاری کا رونا روتے نظر آرہے ہیں تو دوسری طرف خواتین کو ملازمت کے مواقع میسر آتے جارہے ہیں ، نوکری کے اشتہارات کی بھر مار ہے آپ کہیں پر بھی دیکھ لیں اخبارات ، سوشل میڈیا ، آن لائن میڈیا اور پمفلٹ وغیرہ میں آپ کو نوکری کے ہر اشتہار میں خواتین کی ضرورت ہے لکھا ہوا ملے گا بلکہ میں آپ کے ساتھ یہ شیئر کرتی چلوں کے کچھ دن پہلے میں بھی ایک سوشل سائٹ پر نوکری کے اشتہارات دیکھ رہی تھی تو ایک اشتہار پر لکھا ہوا تھا کنٹینٹ رائٹر کے لیے خاتون کی ضرورت ہے اور اس اشتہار کے کمینٹ پڑھے تو ایک لڑکے نے لکھا ہوا تھا کہ ساری جابز خواتین کے لیے ہے تو ہم مرد پکوڑے پکانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔

سب کاروباری ادارے خواتین کو نوکریاں دے دینگے تو بے روزگار مرد حضرات کو کون نوکری دے گا ۔ آخر گھر تو مردوں کو ہی چلانا ہوتا ہے ہمارے معاشرے کی ضرورت بھی یہی ہے کہ مرد حضرات ہی باہر نکلیں کام کریں اور معاشی طور پر گھر کا نظام سنبھالیں۔

ہمارے مذہب ، مذہبِ اسلام نے بھی مردوں کو گھر کا سربراہ بنایا ہے اللّہ تعالی نے مرد کو عورت سے زیادہ طاقتور اسی لئے بنایا کیونکہ وہ گھر سے باہر نکل کر محنت کرتا ہے ، روپے کماتا ہے اپنے گھر کو چلانے کے لیے اور عورت گھر میں رہ کر اسکا گھر سنبھالتی ہے بچوں کی پرورش اور تربیت کرتی ہے ، لیکن آج کے دور میں ایسا کہاں ہورہا ہے یا ہونے نہیں دیا جارہا؟ یہ ٹھیک بات ہے کہ کچھ شعبہ جات میں خواتین کی ضرورت ہوتی ہے تو ان شعبوں میں خواتین کو کام کرنا چاہیے اور ضرور کرنا چاہیے ، مگر ہر شعبہ جات میں خواتین کا کام کرنا ضروری نہیں ہوتا نہ ہی خواتین، مرد حضرات اور معاشرے کیلئے ۔ خواتین کا گھر سے باہر نکلنا کام کرنا ایک تو یہ مناسب نہیں ہے ، یہ میرا ذاتی خیال ہے اور دوسرا یہ کہ یہ معاشرہ میں بیگار کا سبب بنتا ہے خواتین کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیا کچھ جھیلنا نہیں پڑتا راستوں میں غیر مردوں کی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر آپ نے اپنے آپ کو پوری طرح ڈھکا ہی کیوں نہ رکھا ہو پھر بھی یہ مرد آپ کا خُرد بینی نظروں سے معائنہ کرلیتے ہیں اور ان سے بچ کر آپ اس ادارہ میں چلے جاؤ جہاں پر آپ کام کتے ہو تو وہاں پر بھی آپ کو کسی نہ کسی قسم کی ہیر یسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بلکہ میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ یہ لوگ جو خواتین کو ملازمت پر رکھتے ہیں ان کی نیت ہی خراب ہوتی ہے ، لیکن میں یہاں یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ خواتین کو ملازمت پر رکھنے والا ہر مرد خراب نہیں ہوتا ۔ مرد حضرات کو ملازمت پر نہ رکھنے کی ایک وجہ ان کی زیادہ تنخواہ کی۔ ڈیمانڈ بھی ہوسکتی ہے، جبکہ خواتین کم تنخواہ پر بھی کام کرنے کیلئے راضی ہو جاتی ہیں ۔

مرد حضرات کو جب بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ سردمہری ،بدمزاجی اور چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہے ، جس کا اثر اس کے گھر ، معاشرے اور پورے ملک پر پڑتا ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: بشریٰ کنول ضیاءالر حمٰن

Read More Articles by بشریٰ کنول ضیاءالر حمٰن: 5 Articles with 2424 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2018 Views: 843

Comments

آپ کی رائے