حضرت شیخ سیدعبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (مختصر سیرت)

(Engr. Allama Muhammad Shoaib Ikram, Karachi)

حضرت شیخ سیدعبدالقادر جیلانی المعروف غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 470 ہجری میں ایران کے ایک قصبے گیلان میں ہوئی۔ آپ کے والد سید ابو صالح نہایت صالح بزرگ تھے۔ آپ کی والدہ بھی بہت نیک اور متقی خاتون تھیں، وہ اپنا زیادہ وقت تلاوتِ قرآن میں گزارا کرتی تھیں۔

حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو یہ مقام و مرتبہ آپ کے علم کے سبب حاصل ہوا ہے۔آپ کا ایک لقب محی الدین بھی ہے یعنی دین کو زندہ کرنے والا یا ترقی دینے والا، دین کو ترقی تعلیم و تربیت اور درس و تدریس ہی کے سبب حاصل ہوتی ہے۔ حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔40 سال تک آپ نے وعظ و نصیحت کی اور 28 سال تک آپ نے روزانہ کی بنیاد پر مدرسے میں 13 مضامین کی تدریس کی۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہِ راست پر لانا ہے۔ گناہ گاروں کو گناہ کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت اور نیکی کی روشن منز ل تک پہنچانا ہے۔مردہ دلوں کو زندہ کرنا ہے۔آپ کی صحبت میں کتنے ہی عالم فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ نے کئی کُتب تصنیف بھی کیں۔ آپ کے درس میں لوگ اس کثرت سے آنے لگے کہ مدرسہ کی جگہ ناکافی ہوگئی۔ 528ہجری میں مدرسہ کی عالی شان عمارت تعمیر کی گئی۔دور دراز ممالک سے لوگ آپ کے درس میں آتے اور فیض کے حصول کے بعد واپس جاتے۔

حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اعلی ٰ اخلاق کا نمونہ تھے۔ خاموشی کو زیادہ پسند کرتے تھے۔حق بات کہنے میں گُریز نہیں کرتے تھے۔مالِ دنیا سے محبت نہیں تھی۔مسکینوں اور غریبوں کا بہت خیا ل رکھتے تھے اور ان پر ہمیشہ شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ آپ کو علم سے بہت محبت تھی، آپ نے علم حاصل کرنے کیلئے گیلان سے بغداد تک کا سفر کیا اور زندگی وہیں بسر کی اور ربیع الثانی 561 ہجری میں بغداد ہی میں وصال فرماگئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr. Allama Muhammad Shoaib Ikram

Read More Articles by Engr. Allama Muhammad Shoaib Ikram: 16 Articles with 13434 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Dec, 2018 Views: 886

Comments

آپ کی رائے
thanks for share a great info please keep it up
By: jawad jass, Karachi on Dec, 23 2018
Reply Reply
0 Like