پروفیسر مولانا محفوظ الحق کیساتھ فکر انگیز نشست

(Amir jan haqqani, Gilgit)

پروفیسر محفوظ الحق دامت برکاتہم کا تعلق دیامر چلاس سے ہے مگر وہ 1953ء سے لاہور میں فروکش ہیں۔۔۔۔۔ان کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ انہوں نے درس نظامی کی پوری کتابیں فاضلین دارالعلوم دیوبند سے پڑھی ہیں۔۔ گلگت بلتستان کے اکثر فاضلین دیوبند سے شرف تلمذ حاصل ہے۔پروفیسر صاحب مولانا شعیب چلاسی فاضل دیوبند کے نواسے ہیں۔لاہور میں پہلا سال جامعہ نعمیہ لاہور میں ڈاکٹرسرفراز نعیمی کے والد محمد حسین مرحوم سے درس لیا، جامعہ نعمیہ کے اولین طالب علم ہیں، پروفسیر صاحب ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کے استاد بھی ہیں۔ پھر چار سال جامعہ اشرفیہ لاہور میں کبار علماء سے کسب فیض کیا۔ استادالکل فی الکل مولانا رسول خانؒ، شیخ التفسیر ادیس کاندھلوی ، مفتی حسن اور مفتی جمیل احمد تھانوی جیسے کبار علما ٕ کرام سے اہم کتب پڑھیں۔ 1959ء میں جامعہ اشرفیہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔مولانا احمد علی لاہوری ؒ سے تفیسر کا خصوصی درس لیا۔۔۔ مولانا مودودی سے تفیسر پڑھا اور ان کو لحد میں بھی پروفیسر محفوظ الحق چلاسی نے اتارا۔۔شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی کے لیکچرار رہے جبکہ شعبہ علوم اسلامیہ گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور کے صدر مدرس ریٹائرڈ ہوئے،، کالج میں تمام عمر طلبہ کے ساتھ پروفیسروں کو بھی درس قرآن دیا۔ایم اے عربی، فارسی، اسلامیات، ایم او ایل فارسی، ایم او ایل عربی کے ساتھ فاضل السنہ شرقیہ بھی کیا۔۔۔عربی اور اردو میں مقالے لکھے۔۔۔ ان کے ساتھ اج (یکم فروری 2017) میری ایک خصوصی نشست ہوئی۔ ان سے تمام معلومات انٹرویو کی شکل میں محفوظ کی ہیں، موصوف کی زندگی ہم جیسے نوجوانوں کے لیے نشانِ زندگی عطا ٕ کرتی ہے۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ دین کی خدمت کی ہے۔گلگت بلتستان میں بھی دینی اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہیں۔ زندگی رہی تو ان کی حیات طیبہ پر مفصل لکھونگا۔۔ ان کی وائف محترمہ بھی اللہ والی خاتون ہیں۔ ایم اے اسلامیات ہے ، فہم قران کا اچھا ذوق رکھتی ہیں۔ ایک طویل عرصہ گھر میں فہم قرآن کا کورس کرواتی رہی کالج اوریونیورسٹی کی لڑکیوں کے لیے۔۔ اب بھی ان کے گھر میں فہم قرآن کا سلسلہ جاری ہے تاہم اب یہ خدمت ان کی بہو انجام دے رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔یقنیا جدید معاشرے میں ایسے ہی کام کی ضرورت ہے۔۔۔۔پروفیسر محفوظ الحق صاحب نے مجھ ناچیز کو جس محبت و خلوص کے ساتھ رخصت کیا شاید کسی نے أج تک کیا ہوگا میری ماں کے علاوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضعیفی کے باوجود گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر میرے لیے دعائیں مانگتے رہے اور میں ان کی دعائیں دور دور تک سنتا ہوا رخصت ہوا۔۔۔۔۔

محترم دیامر کے لیے اعزاز ہے۔۔۔۔لاریب پورا دیامر ان کے دیامری ہونے پر فخر کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔پروفیسر صاحب کی دینی خدمت پر مشتمل تفصیلات سے جلد اپنے قارئین کو آگاہ کرونگا۔۔۔ان سے انٹرویو ہی اس لیے کیا کہ ان کی زندگی میری کتاب مشاہیر علما ٕ گلگت بلتستان کا حصہ بنے۔ان شا ٕ اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سردست اتنا کافی ہے۔۔تو
*احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟*
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 397 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 264 Articles with 127711 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: