مدینے کی ریاست

(Tanvir Sadiq, Lahore)

عرب کے بے آب وگیاہ ریگستان میں ،جہاں دور دور تک ریت ہی ریت ہوتی ہے ، ایک بیس میل لمبی نخلستانی پٹی ہے جو آبادیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ طلوع اسلام سے پہلے اس نخلستانی پٹی کو یثرب کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ پہلے اس علاقے میں فقط یہودی آباد تھے۔ پھر جنوبی عرب کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج یہاں آ کر آباد ہو گئے۔ اس علاقے کی فوجی اہمیت اس لئے تھی کہ عرب اور یمن سے شام جانے والے تمام قافلے اپنی ضروریات کے لئے یہاں سے گزرنے پر مجبور تھے۔ یہاں کے کچھ باشندے ان قافلوں کوبعض اوقات لوٹ لیتے تھے اس لئے بہت سے لوگ اس علاقے کوڈاکوؤں کی بستی بھی کہتے تھے۔حضور رسول کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت کرکے اس نخلستانی پٹی کے اس حصے میں آ کر مقیم ہوئے جہاں یہودیوں کے علاوہ اوس اور خزرج قبائل بھی مقیم تھے تو یثرب کے اس حصے کا نام مدینۃالنبی یعنی نبی کا شہر اور مدینہ منورہ یعنی روشنی کا شہر قرار پایا۔چونکہ حضور رسول کریم ﷺ آج بھی اسی شہر میں مقیم ہیں اس لئے مدینہ مسلمانوں کا ایک انتہائی مقدس شہر ہے۔

حضور رسول کریم ﷺنے اپنی زندگی میں کبھی مدینہ کو ریاست قرار نہیں دیا اور نہ ہی خود کو حکمران سمجھا یا جانا۔ حضور رسول کریم ﷺ کے پاس ریاست کا کوئی ساز و سامان تھا اور نہ ہی کوئی خزانہ۔وہ دستاویز،جو عام طور پر مدینے کا دستور کہلاتی ہے، کی دفعات کے مطابق ہر قبیلے کے سردار کے اختیارات برقرار رکھے گئے۔انہوں نے سوائے جنگ کے حالات میں کبھی کوئی انتظامی اختیار اپنے پاس نہیں رکھا۔ان کا مخصوص انداز عدل تھا ۔ اسی انداز کی بدولت مدینہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم وجود میں آئی جس کے بانی اور سردار حضور رسول کریم ﷺ تھے۔آپ کی تعلیمات کے مطابق،’’اسلام میں اقتدار اعلیٰ کسی شخص کے سپرد کیا ہی نہیں گیا۔کیونکہ ایک انسان اس بوجھ کو اٹھانے کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا۔مقتدر اعلیٰ صرف رب العزت کی ذات ہے‘‘۔ قران حکیم میں ارشاد ہے ،’’وہ ذات پاک ہے جس کے زیر اقتدار تمام چیزیں ہیں۔‘‘ ایک دوسری جگہ کہا گیا ہے،’’حکومت کسی کا حق نہیں ہے سوائے اﷲ کیــ‘‘۔اپنی زندگی میں حضور رسول کریم ﷺ نے مفتوحہ علاقوں میں جو نمائندے مقرر کئے ،ان نمائندوں کو جو ہدایات دیں اس بارے معاذؓ ؓؓبن جبل ،جو حضر موت میں نمائندے مامور کئے گئے ، کے ساتھ حضور رسول کریم ﷺ کی گفتگو حکومت کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔پیغمبر ﷺ کے اس سوال پر کہ وہ کیا قانون نافد کریں گے۔معاذؓ نے جواب دیا کہ وہ قرانی احکام نافد کریں گے۔اور جہاں قران خاموش ہے حضور رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے۔ تیسری صورت میں وہ اپنی رائے سے کام لیں گے۔معاذؓ ؓسمیت ان نمائندوں کے پاس نہ تو فوج تھی نہ مسلح لوگ اور نہ ہی کوئی اسلحہ۔ وہ تنہا اپنے اپنے بتائے علاقوں میں گئے اور ان کے پاس سوائے اسلام کی اخلاقی تعلیم کے کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے ان علاقوں کے انتظامی ڈھانچے کو چھیڑے بغیر وہاں عدل کے فروغ کے لئے کام کیا۔

جیسے ہی لوگوں کو معلوم ہوا کہ پیغمبراسلام ﷺکا انتقال ہو گیا ہے تو مدینہ سمیت ہر علاقے کے لوگوں نے اپنوں میں سے کسی کوحکمران بنانے کے لئے مشاورت شروع کر دی۔اپنی زندگی میں حضور رسول کریم ﷺنے قبائل کو جو انتظامی اختیارات دے رکھے تھے اس کا فائدہ اٹھا کر بہت سے لوگوں نے بغاوت کر دی۔ ان کٹھن حالات میں صحابہ کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔مخالفین کی بغاوت اور سرکشی کو کنٹرول کرنے کے لئے حضرت ابوبکر ؓنے انتظامی اختیارات بھی اپنے ہاتھ لے لئے اور بڑی تیزی سے بگڑتی صورت حال کو نہ صرف سنبھالا بلکہ ایک مستند اور مضبوط اس ریاست کی ابتدا کی جس کی بنیاد رسول کریم ﷺ نے رکھی تھی۔ یہ مدینے کی ریاست کی ابتدا تھی۔ یہ ریاست عملی طور پر حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے ابتدائی دور میں ایک مثالی ریاست رہی۔ حضرت عثمان ؓکے آخری دور سے یہ مسلمانوں آپس کے لڑائی جھگڑوں کے سبب انتشار کا شکار رہی۔ آخری خلیفہ حضرت علیؓ کے بعد مدینہ ایک ریاست نہ رہا۔ اور انتظامی امور مدینہ سے دوسرے شہروں میں منتقل ہو گئے۔

جماعت اسلامی کئی دہائیوں سے پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کی نوید دے رہی ہے ۔مدینے کی ریاست کا قیام اس کے منشور کا پہلا نقطہ ہے۔ جماعت اسلامی کے اکابرین عقل سے کچھ کم سہی مگر کم از کم شکل سے مدینے کی ریاست والوں کے سچے پیرو کار ہیں۔ مگر اپنی تمام تر کوشش کے باوجود عوام میں اپنے لئے معقول جگہ نہیں بنا سکے۔ موجودہ حکمران جماعت کے لوگ بظاہر نہ ہی عقل سے اور نہ ہی شکل سے مدینے کی ریاست کے لوگوں کے پیروکار نظر آتے ہیں مگر پاکستان کو مدینے کی ریاست جیسا بنانے کی نوید دیتے ہیں۔ پوری قوم ان کے لئے دعا گو ہے۔ امید بھی ہے باقی نیتوں کا حال رب العزت کو پتہ ہے۔
خلفا راشدین کے دور میں مدینہ ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ چھوٹے شہر کے مسائل بھی چھوٹے تھے۔ اسلام بتدریج پھیل رہا تھا ، فتوحات جاری تھیں۔ اس وقت کے مسائل بھی بہت مختلف تھے۔ آج کی جدید دنیا بڑی مختلف ہے۔مسائل انتہائی پیچیدہ ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ آج مدینے کی ریاست کیسے وجود میں آ سکتی ہے کہ نہ حکومتی لوگ اسلام کے سچے پیروکار اور نہ ہی وہ حالات ۔مگر اس سب کے باوجود بھلائی کی توقع رکھنی چائیے ۔آج مدینے کی ریاست کے قیام کی نوید دینے والوں کا مقصد فقط یہ ہے کہ وہ اس ملک میں عدل ،انسانی زندگی اور بھائی چارے کے اس معیار کے متلاشی ہیں جو خلفا راشدین کے دور میں لوگوں کو میسر تھا۔ یہ ایک اچھی نوید تھی مگر گذشتہ پانچ چھ مہینوں میں اس کے لئے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ مدینے کی ریاست کا بنیادی اصول لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا تھا،انہیں انصاف مہیا کرنا تھا۔ اس اصول کو فروغ دینے کی ابھی تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ابھی تک کے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگی پہلے سے کچھ تلخ ہی ہوئی ہے۔ ابھی وقت ہے حکومت کو سوچنا ہو گا اورعام آدمی کی فلاح کے لئے اور اس کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 357 Print Article Print
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 388 Articles with 171827 views »
Teaching for the last 45 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More

Reviews & Comments

Language: