مولانا حق نواز جھنگوی شہید شخصیت وکردار

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امیر عزیمت،مجددملت,بطل حریت,شیراسلام,شہیدناموس صحابہ و اہلبیت اطہار مولانا حق نواز جھنگویؒ ایک عظیم شخصیت تھے,آپ ماہرومحقق عالم دین, کامیاب خطیب,مدبر سیاست دان,اورزیرک میرکارواں تھے,آپ نے اصحاب رسول وال بیت اطہار کے عظمت اور ناموس کے دفاع کوتبراء اوردشنام کے ماحول میں سب سے اہم جانا اور ہرعام وخاص کو ایسی کتب اور تحریر جن میں اسلام ,شعار اسلام ,مقدس شخصیات,اصحاب رسول اور ال بیت اطہار کی شان میں گستاخیاں تحریر اور شائع کی گئیں تھیں,ان کے بارے میں اپنی تقاریر کے ذریعے شعوردینا شروع کیا,حقیقت ہےکہ"بات جو دل سے نکلے توضرور اثر رکھتی ہے"جھنگ جیسے پسماندہ ضلع سے اٹھنے والی یہ فکر چند سالوں میں پوری سنیت کی ترجمان ثابت ہوئی ,اور مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے موقف اور مشن کو مقبولیت اور محبوبیت عامہ حاصل ہوگئی.آپ نے ناموس صحابہ واہلبیت کے لیے اپنی زندگی اور موت کے فاصلے مٹادیئے تھے,بلاشبہ آپ نے سعادت وکامرانی والی زندگی اور شہادت جیسی مقبول موت پائی۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ 1952ء میں چاہ کچھی والا موضع چیلہ تھانہ مسن ضلع جھنگ میں ولی محمد مرحوم کے گھر پیدا ہوئے،والدہ محترمہ کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا ،پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی محلہ میں اپنے ماموں حافظ جان محمد سے دو سال میں قرآن پاک مکمل حفظ کرلیا،علم قرات و تجوید شیخاں والی مسجد خانیوال میں مولانا قاری تاج محمود ؒ فاضل دارلعلوم دیوبند سےپڑھنے کے بعد علوم اسلامیہ کی تحصیل کے لیے دارلعلوم کبیروالہ میں داخلہ لیا ،یہاں محدث کبیر مولانا عبدالخالق ؒ اور شیخ الحدیث مولانا علی محمد ؒ سمیت دیگر کبار اساتذہ سے کسب فیض کیا،دورہ حدیث شریف کے لیے عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ خیر المدارس میں داخلہ لیا جہاں شیخ الحدیث مولانامحمد شریف کشمیریؒ اور دیگر شیوخ کے سامنے زانوئے تلمذ طے لیا اور یہیں سند فراغت حاصل کی۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ نے عملی زندگی کی ابتداء جھنگ صدر مسجد پپلیاں والی میں اپنی خطابت سے کیا،آپ نےاپنے انداز خطابت سے زیادہ جرات مندانہ رویے،عوام الناس کے ساتھ ہمدردی،غمخواری اور اجلے کردار سے اپناایک حلقہ عقیدت و محبت قائم کرلیا،آپ نے اپنے مطالعے،مشاہدے،افکار،درد دل،اخلاص ،للہیت اورتقویٰ کی بنیاد پر بہت کم عرصہ میں اپنے معاصرین علماء کرام میں نمایاں مقام حاصل کرلیا۔اسلام ،شعائراسلام اورختم نبوت کا تحفظ،توہین صحابہ اور اہلبیت کا سدباب کرنے اور مسلمانوں میں دینی حمیت کو زندہ کرنے کی جدوجہد آپ کامقصد حیات تھا،جمیعت علماء اسلام (ف)کے اہم راہنما کی حیثیت سے دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

جھنگ کی عوام انتہائی پسماندہ اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزار رہے تھے،تعلیم و شعور کی کمی کے ساتھ ساتھ وڈیروں اور جاگیرداروں کے ظلم و ستم سہہ رہے تھے ،خوف کے مارے عوام حرف شکایت کسی سے نہیں کرتے تھے،ستم بالائے ستم یہ کہ شیعہ جاگیرداروں کی زیرسرپرستی مسلکی تعصبات اور انتہاپسندی ،توہین صحابہ کرام کے واقعات آئے روز رونما ہوتے تھے،جن کی روک تھام اور مظلوم سنی عوام کی آواز کو بلند کرنے کے لیے آپ نے سب سے پہلے تحریک مدح صحابہ چلائی ، پھر 6ستمبر 1984 پپلیاں والی مسجد میں آپ کی سرپرستی میں انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی ،مختصر سے عرصہ کے بعد انجمن کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیل گیا اور مولانا کے موقف کے ہمنواؤں کی تعداد میں گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا،آپ 1984 ء سے لے کر 1990ء تک انجمن سپاہ صحابہ کے سرپرست رہے،اس دوران جیلیں،ہتھکڑیاں ،مصائب و مشکلات اورعزیمت کی عظیم داستانیں آپ نے رقم فرمائیں۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ نے جمیعت علماء اسلام (ف) کے ٹکٹ پر 1988ء میں جھنگ سے قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا،جس کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ آزاد انسانوں کو اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے جانوروں جیسی زندگی پر مجبور کرنے والی وڈیرہ شاہی اور جاگیر داری کی قید سے آزادی دلائی جائے،زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروموں کے لیے راحت کا سامان کیا جائے،مولانا حقنواز جھنگویؒ نے بڑی جرات اور بہادری سے بیگم عابدہ حسین کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور اسے ناکوں چنے چبوائے، آپ نے اس کے مقابلے میں39000 ووٹ حاصل کئے ،اگرچہ آپ اس نشست پر کامیاب تو نہ ہوسکے مگر جاگیرداروں اور وڈیروں کو ایک واضح پیغام دیا کہ اب ان کے ظلم کی اندھیری رات ختم ہونے کو ہے،قانون،عدل وانصاف اور احترام انسانیت کی روشنی ضرور پھیل کر رہے گی۔آپ نے اپنے حلقے کے باسیوں کو عزت ،وقار اور اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے جینے کا ڈھنگ سیکھایا،مولانا حقنواز جھنگویؒ ظلم کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے، دیہاتی اور شہری طبقہ یکساں طور پر آپ کا گرویدہ ہوگیاتھا،آپ کو ہردلعزیزی اور ایسی محبوبیت حاصل ہوئی جس کی دوسرے صرف آرزو ہی کرسکتے تھے۔علاقہ کی وڈیرہ شاہی نے محسوس کر لیا تھا کہ مولانا حق نواز ؒ آئندہ الیکشن میں انہیں ضرور شکست دیں گے۔

مولاناحق نواز جھنگویؒ نے شہادت سے قبل خطبہ جمعہ میں ایک خطرے کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان کے خلاف ایران،دبئی اور پاکستان میں قتل کرنے کی سازش کامنصوبہ تیار کیا گیا ہے،اور ان کے قتل کا منصوبہ 20 اور 25 فروری کے درمیان مکمل کیا جائے گا،اور وہی ہوا جس کا امیر عزیمت ؒ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ 22 فروری مغرب کے بعد گھر کی دہلیز پر دہشت گردوں کو گولیوں کو نشانہ بنے ، اس وقت آپ کی عمر 38 سال تھی۔مولانا حق نوازجھنگویؒ کی مظلومانہ شہادت پر پورا عالم اسلام دکھی اور مضطرب تھا،اس افسوس ناک واقعے کوہر کوئی اسلام اور اہل اسلام کا بہت بڑا نقصان قرار دے رہا تھا،موجودہ وزیر اعظم اور اس دور کے وزیر اعلیٰ محترم نواز شریف صاحب نے آپ کے سفاکانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ،اور پسماندگان کے نام تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا اسلام کے اعلیٰ پائے کے مبلغ تھے،جنہوں نے اپنی ساری زندگی تبلیغ اسلام اور ختم نبوت کے لیے وقف کر رکھی تھی،ان کی وفات ملک میں اسلام قوتوں کے لیے عظیم نقصان ہے۔(روزنامہ جنگ،راولپنڈی 23فروری 1990)

جب کہ صدرمملکت غلام اسحاق خان اور بینظیر بھٹو سمیت دیگر قومی راہنماؤں نے دکھ کا اظہار کیاتھا۔بقول مفسر وخادم قرآن مولانا اسلم شیخوپوری شہیدؒ مولانا حق نوازجھنگوی شہید ؒ نے مختصر زندگی میں تعلیمی و تدریسی ذمہ داریاں بھی نبھائیں ،سیاست بھی کی،آمریت کو بھی للکارا،جمہوریت کی جنگ بھی لڑی،الیکشن میں بھی حصہ لیا،مرحلہ دار ورسن سے بھی گزرے،جیلوں کو بھی آباد کیا،ہزاروں اجتماعات سے بھی خطاب کیا،لاکھوں انسانوں کے دلوں میں اسلام کی حقانیت ،رسول اللہ کی محبت اور صحابہ کی عظمت کو بٹھایا ،منظم جماعت سپاہ صحابہ کو ملکی سطح ہر مقبول عام کیا۔۔۔۔یہ سب کام جھٹ پٹ انجام دے کر ۔۔۔۔شہادت کا تاج پہن کر۔۔۔۔ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ شہیدناموس صحابہ,امیرعزیمت مولاناحق نوازجھنگوی شہید انتہائی کامیاب شخصیت تھے,ان کی جدوجہد اور زندگی کا حاصل یہ ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں جس موقف اور مشن کو حق اور شریعت کے عین مطابق سمجھ کر اس کے لیے تن,من اور دھن سب کچھ قربان کردینا ہی اصل کامیابی ہے,دوسری بات جوآپ کی حیات مبارکہ سے ہمیں ملتی ہے کہ اخلاص ,محنت,حکمت اور اپنے مشن میں فنائیت اسے اور اس کے کاز کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رکھے گی.
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 293 Print Article Print
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 199 Articles with 104797 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More

Reviews & Comments

Language: