وزیر اعلیٰ صاحب۔۔ یہ کڑوی گولی نگل لیں

(Amir jan haqqani, Gilgit)
أپ تصور کیجے کہ سرکاری اسکولوں اورکالجز میں وزیر تعلیم،ممبران اسمبلی، سیکریٹری تعلیم ،دیگر سکریٹریز اور بیوروکریٹس، ایجوکیشن سیکریٹریٹ و ڈاٸریکٹریٹ کے ملازمین کے بچوں کیساھ تمام سرکاری ملازمین کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہوں تو کیا سرکاری اداروں کی یہی حالت ہوگی جو اب ہے۔؟ یقیناً نہیں ۔

صاحب کو اپنے ادارے کی ترقی چاہیے تھی۔یہ بہت بڑا ادارہ تھا۔ درجنوں عملہ تھا۔ہرقسم کی سہولیات بھی تھی مگر ادارے کا نظم اور شہرت دونوں تنزلی کا شکار تھے۔بہت غور و خوض کیا گیا۔لیکن کوٸی حل نہ نکل پارہا تھا۔میں نے عرض کیا کہ
*ایک نکاتی فیصلے سے ادارہ بام عروج کو پہنچ جاٸے گا*
سب میری طرف متوجہ ہونے لگے۔ میں نے پھرعرض کیا:
*ادارہ کے تمام ملازمین اور اساتذہ کی اولاد ادارے میں ہی تعلیم حاصل کرے گی۔ یہ قانون بنایا جاٸے جو قانون پر عمل نہیں کرسکتا وہ خاموشی سے ادارہ چھوڑ دیں*
یہ ایک مشورہ نہیں تھا ایک چھوٹا سا بم تھا۔سب پر سکوت طاری ہوا۔طویل مباحثہ ہوا۔اس کی مخالفت میں ہرقسم کے دلاٸل دیے گیے کیونکہ دلاٸل دینے والوں کے بچے اچھی فیسیں دے کر کہیں اور پڑھ رہے تھے۔بہر صورت میری راٸے کی غیر ضروری دلاٸل سے تردید کی گٸی۔اور یوں سلسلہ چلتا رہا۔
پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر کیساتھ سیکرٹری تعلیم ثنا ٕ اللہ صاحب سے کٸی ملاقاتیں ہوٸی تھی۔ ایک ملاقات میں سرکاری تعلیمی سسٹم کی تنزلی و بربادی پر عرض کیا کہ ایک چھوٹے سے فیصلے سے سرکاری تعلیمی اداروں کا مورال اسمان پر جاسکتا ہے۔ کریڈیبلٹی عروج پہ پہنچ سکتی ہے اور ترقی کی دوڑیں لگ سکتی ہیں۔بس ایک حکم جاری کیا جاوے کہ
*تمام سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی تعلیم حاصل کریں گے۔جو ایسا نہ کریں ان کو سرکاری جاب سے ہاتھ دھونا پڑے*
وہ ایک منجھے ہوٸے بیوروکریٹ ہیں۔ ہنس کر بات ٹال دی۔
میں أج بھی ایمان کی حدتک یقین سے کہتا ہوں کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان ایک اینی شیٹوو لے لیں۔ کابینہ اور اسمبلی اراکین سے نشست کریں اور اس امر پر اتفاق کیجے کہ تمام سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی تعلیم حاصل کریں گے۔اور اس کے خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کو سرکاری نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔بے شک اس فیصلے کے لیے عوامی سروے بھی کرواکر راٸے عامہ بھی ہموار کریں اور ماہرین سے بھی مشاورت کریں۔ عدلیہ کو بھی اعتماد میں لیں تاکہ فیصلے کو غیرقانونی قرار نہ دے۔
پھر ایک ایکٹ لاٸیں۔اسمبلی سے منظور کراٸیں اور پھر سکون سے بیٹھ جاٸیں۔ گلگت بلتستان کے سرکاری تعلیمی ادارے بام عروج تک پہنچ جاٸیں گے۔ان کی مثالیں ملک بھر میں دی جاٸیں گی۔ تعلیمی اداروں کی بلڈنگیں عملہ اور ضروری بجٹ کا خود بخود انتظام ہوجاٸے گا۔ میرٹ بھی خود بخود بحال ہوگا۔ کیوں؟
کیونکہ سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے پالیسیاں اور قوانین بنانے اور نافذ کرنے والے تمام وزرا ٕ، ممبران اسمبلی، بیروکریٹس، أفیسرز، انجینرز ، اساتذہ اور دیگر تمام لوگ ایکٹیوو ہو جاٸیں۔کیونکہ یہ سارے لوگ اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ اور اسٹیک ہولڈرز کھبی بھی اپنا نقصان نہیں کرتے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میری اس تجویز کی زبردست مخالفت اساتذہ ہی کریں گے اور پھر تمام سرکاری ملازمین۔ان سب کے بچے پراٸیویٹ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں۔
جب بھی پالیساں اور قوانین دوسروں کے لیے بناٸے جاتے ہیں تو سرد خانوں میں پڑے رہتے ہیں۔ فاٸیلیں دبی رہتی ہیں یا کیوریز لگ کر سالوں دفتر ٹو دفتر چلتی رہتی ہیں۔ تعلیمی منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں۔محفوظ نوکری کے لیے بہترین ٹیلنٹ سرکاری تعلیمی اداروں کا رخ کرتا ہے لیکن سسٹم کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹیلنٹ مسلسل ضاٸع ہوتا جاتا ہے اور ایک وقت عضوِ معطل بن کر رہ جاتا۔
سسٹم میں چیک اینڈ بیلنس نام کی کوٸی چیز نہیں ہے۔
اور ہاں اگر قوانین ہوں بھی تو ان پر عملدرأمد نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں عملدرأمد کرنٕے کا اختیار ہے۔منصوبوں کی منظوری ہو یا تعلیمی پیکجز۔ان تعمیراتی چیزوں میں ان کا کوٸی مفاد یا نقصان شامل نہیں بلکہ منظوری نہ دینے اور کام نہ کرنے کی وجہ سے ان کی مٹھی گرم ہوتی ہے اس لیے مسلسل ٹالا جاتا۔تحدید و توازن اور احتساب و احساس ذمہ داری دور دور تک نظر نہیں أتی۔
پھر اداروں کا یہی حال ہوتا جو ہمارے تعلیمی اداروں کا ہے۔
وزیراعلی گلگت بلتستان کے پاس صرف ایک سال ہے۔ وہ بس ایک *ایجوکیشن ایکٹ* لاٸیں اور اس قوم اور علاقے پر احسان کریں۔یہ ایک کڑوی گولی ہے اگر أپ اور اسمبلی نے ایک ہی دفعہ یہ گولی نگل لیا تو سمجھ جاٸیں ہمیشہ کے لیے أفاقہ ہوگا۔ أپ تصور کیجے کہ سرکاری اسکولوں اورکالجز میں وزیر تعلیم،ممبران اسمبلی، سیکریٹری تعلیم ،دیگر سکریٹریز اور بیوروکریٹس، ایجوکیشن سیکریٹریٹ و ڈاٸریکٹریٹ کے ملازمین کے بچوں کیساھ تمام سرکاری ملازمین کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہوں تو کیا سرکاری اداروں کی یہی حالت ہوگی جو اب ہے۔؟ یقیناً نہیں ۔تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 240 Articles with 107653 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: