ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک دہشت گرد ہے اور پاکستان کی بیٹی نہیں ہے

(Syed Anis Bukhari, )

ہم آجکل اپنی سڑکوں پر بڑے بڑے نعرے لکھے ہوئے دیکھ رہے ہیں جن میں ایک نعرہ بھی ہے کہ ’’ جو عافیہ کو لائے گا وہی لیڈر کہلائے گا‘‘ ہمیں سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک امریکی شہری ہے جس نے اپنی تعلیم بھی امریکہ میں ہی سے مکمل کی ہے۔ جو لوگ اسے پاکستان کی بیٹی کہتے تھکتے نہیں وہ جان لیں کہ وہ پاکستان کی بیٹی کبھی بھی نہیں رہی اور نہ ہی ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔ اسکے تعلقات دہشت گر د تنظیموں سے تھے وہ ان تنظیموں کیلئے کام کرتی تھی اور اسنے القائدہ اور طالبان سے روابط بڑھا کر انکے لئے اپنی خدمات پیش کیں ۔ اسے تحقیقی اداروں نے تحقیق کے بعد گرفتار کیا ۔ وہ ان جماعتوں کی ہیرو ہو سکتی ہے جو مذہب کی آڑ میں عافیہ صدیقی کارڈ کو استعمال کر کے لوگوں کے جذبات کو ابھارتے ہیں او ر اپنے مقاصد حل کرتے ہیں۔ آئیں ایک طائرانہ نظر عافیہ کی زندگی پر ڈالتے ہیں۔

ایشین انسانی حقوق کی تنظیم نے عوام کی توجہ ایک انتہائی حسساس مسلئے کی جانب مبذول کرواتے ہوئے ایک پریس ریلیز جاری کیا جسمیں کراچی کی ایک خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ 30 مارچ 2003 ء کو اپنے تین بچوں کیساتھ گلشن اقبال سے اپنی والدہ کے گھر سے راولپنڈی جانے کیلئے میٹروکیب میں سوار ہوکرائرپورٹ پر فلائٹ پکڑنے کیلئے نکلی اور اس دن سے اسکے بارے میں کوئی علم نہ ہے کہ وہ کہا ں ہے۔اس پریس ریلیز میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو پاکستانی انٹیلی جنس نے راستے میں ائیر پورٹ پر جاتے وقت اغوا کر لیا تھااور اسے امریکن انٹیلی جنس ایجنسی ایف بی آئے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جب اسے اغوا کیا گیا اسوقت اسکی عمر تقریباً تیس سال تھی۔اور وہ تین بچوں کی ماں تھی بڑے بچے کی عمر اس وقت سات سال تھی وہ 1999 میں پیدا ہوا اسکانام محمد احمد تھاجبکہ سب سے چھوٹے بچے کی عمر صرف ایک ماہ تھی جو 2000 میں پیدا ہو ا سکا نام سلیمان تھا اسکی منجھلی بیٹی کا نام مریم تھا اسکے خاوند کا نام عمار ال بلوچ تھا جس نے عافیہ صدیقی کو ماجد خان نامی ایک شخص کے کاغذات کی تیاری کیلئے کہا تاکہ ماجد خان کو امریکہ میں لایا جائے عمار نے اپنی گرفتاری سے کچھ عرصہ پہلے ہی عافیہ صدیقی سے شادی کی تھی جو اب گوانتا نامو بے کیوبا کے عقوبت خانے میں ماورائے عدالت مقید ہے۔محمد خان نامی جو کہ عافیہ صدیقی کا سابقہ خاوند تھا وہ کراچی کے ایک ہسپتال میں فزیشن ہے ۔ کہتے ہیں کہ خان اور عافیہ صدیقی میں اس بات پر طلاق ہو گئی تھی کہ خان بچوں کو پاکستان میں اسلامی ماحول میں تعلیم دلوانا چاہتا تھا جبکہ عافیہ صدیقی کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بچوں کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم دلوائے۔ اس طرح یہ بات ان دونوں میں طلاق کا باعث بنی۔ خان کے گھر والے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور کراچی کے ایک بہت مہنگے علاقے میں رہائش پزیر ہیں۔

کچھ عرصے پہلے ایک امریکی چینل این بی سی نے خبر شائع کی کہ عافیہ صدیقی کو اسامہ بن لادن کی دہشت گرد تنظیم کیلئے کام کرنے اور اس تنظیم کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ نے امریکی چینل این بی سی کی رپورٹ کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ اسکی بیٹی ایک پڑھی لکھی خاتون ہے اور وہ نیورولاجیکل سائینسدان ہے اور وہ امریکہ میں اپنے خاوند امجد کیساتھ کافی سالوں سے رہ رہی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972 ء کو کراچی میں محمد صدیقی کے گھر پیدا ہوئی اسکے والد ڈاکٹر تھے جنہوں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔اسکی والدہ کا نام عصمت ہے اسکے اپنے شوہر محمد صدیقی سے تین بچے ہیں۔ جنمیں ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔عافیہ 1990 ء میں ٹیکساس میں اپنے بھائی کے پاس چلی گئی ۔ وہاں پر یونیوسٹی آف ہوسٹن میں ایک سال زیر تعلیم رہنے کے بعد وہ ایم آئی ٹی میں آگئی ۔ وہاں پر عافیہ نے اپنے ساتھ پڑھنے والے ایک طالبعلم جسکا نام محمد امجد خان ہے سے شادی کرلی ۔نتیجتاً وہ نیورو سائینس کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے برانڈی یونیورسٹی میں چلی گئی۔ 9/11 کے حملوں کے بعد مسلمانوں کا امریکہ میں رہنا دوبھر ہو گیا اسطرح وہ اور اسکا خاوند پاکستان واپس آگئے ۔ جب عافیہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھی تو اسکے خاوندکے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور اس نے طلاق حاصل کر لی ۔اپنے بچے کو جنم دینے کے بعد عافیہ اپنی ماں کے گھر ایک سال تک رہی ۔اور اپنے بچوں کے بغیر دسمبر 2002 ء میں وہ واپس امریکہ ملازمت کی تلاش میں اپنی بہن کے پاس بالٹی مور چلی گئی جہاں پر اسکی بہن سنائی ہسپتال میں کام کرتی تھی۔

وہ اپنی تعلیم حاصل کرنے کیلئے امریکہ آئی اور اس نے دس سال تک یہاں پر تعلیم حاصل کی اسنے 1992 میں جب وہ انٹر میڈی ایٹ میں پڑھتی تھی پاکستان میں اسلام اور اسکے عورت پر اثرات کے نام سے ایک مقالہ لکھااور کم عمری میں مقالہ لکھنے پر اسے 1200 ڈالر دئے گئے۔ اپنی گریجوایشن کے دوران وہ کارمیک ہال میں رہائش پزیر تھی اور ایم آئی ٹی لائبریری میں کام کرتی تھی۔ اسنے اپنی گریجوایشن بھی ایم آئی ٹی سے1995 میں حاصل کی۔ اپنی گریجوایشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1996 میں اسنے ایم آئی ٹی کیلئے ایک آرٹیکل لکھا جسمیں اسنے کمپیوٹر کے پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنے اور فائل ٹرانسفر پورٹوکول اور انہیں آپس میں مرج کرنے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اسکے بعد وہ اپنی نیورو سرجری کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے برانڈی یونیورسٹی چلی گئی جہاں پر اسنے پی ایچ ڈی کی ڈگری کیلئے 2001 میں ایک مقالہ Seperating the components of Imitation کے نام سے لکھا۔ 1999 میں جب وہ بوسٹن میں تھی اسنے اور خان نے ایک ریسرچ سینٹر قائم کیا جہاں پر اسلامی تعلیمات پر ریسرچ کی جاتی تھیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی انتہائی پڑھی لکھی خاتون ہے جس نے دس سال تک زیر تعلیم رہنے کے بعد امریکی میشاسوسیٹس انسٹیٹیوٹ سے جینیاتی انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری اور اسکے بگرام کے مقام پر امریکی عقوبت خانے میں مقید ہونے کے بارے میں تب علم ہوا جب معظم بیگ نے اپنی کتاب THE ENEMYCOMBATANT میں بگرام کے مقام پر دوران اسیری ان دلدوز چیخوں کے بارے میں اس راز کو افشاء کیا کہ دوران تفتیش ایک قیدی خاتون نمبر 650 کے نام سے جانی جاتی تھی جسکی دلدوز چیخوں سے رات بھر مجھے نیند نہیں آتی تھی اوراسکی دل ہلا دینے والی چیخیں پورے کمرے میں گونجتی تھیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آسمان سر پر گر پڑے گا۔میں پہلے پہل یہ سمجھتا تھا کہ شاید مجھے خوف زدہ کرنے اور ڈرانے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے مگر مجھے بعد میں یہ علم ہوا کہ یہ چیخیں ایک قیدی خاتون 650 کی ہیں جسکا نام غالباً ڈاکٹر عافیہ ہے ۔

یکم اپریل 2003 ء کو ایک اردو روزنامے میں فیصل صالح حیات جو کہ اسوقت کے وزیر داخلہ تھے کی پریس کانفرنس کے حوالے سے ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ۔جب فیصل صالح حیات وزیر داخلہ پاکستان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اسکے بارے میں علم نہ ہے حالانکہ وہ وزیر داخلہ تھے اور انہیں اس بارے میں علم ہونا چاہئے تھا مگر نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر انہوں نے اس سے لا علمی کا اظہار کیا اور اس بات کو گول مول کر گئے۔ دو اپریل کو فیصل صالح حیات کی ایک اور پریس کانفرنس کے حوالے سے اردو کے ایک اخبار کے آرٹیکل کی اشاعت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں سوال پر فیصل صالح حیات نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کا تعلق القاعدہ نامی دہشت گرد تنظیم سے تھا ۔اسے گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ کہیں پر روپوش ہو چکی ہے۔ اس بات میں کس حد تک سچائی تھی یہ عقدہ تو بعد میں کھلے گا۔ انہوں نے مذید کہا کہ آپکو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سرگرمیوں کے بارے میں سن کر بھی حیرانی ہوگی ۔ ڈاکٹر عافیہ کے غائب ہوجانے کے ٹھیک ایک ہفتے کے بعد کراچی کے ایک انگریزی ماہنامے نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اینٹیلی جنس کے لوگوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر والوں کو تنبیہ کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ تم نے اگر ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو اچھالنے کو کوشش کی تو اسکے نتائج بہت سنگین ہونگے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے انکل نے 2003 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسے پاکستان میں مقید رکھا گیا ہے اور اس سے ایف بی آئی اور پاکستانی ایجنسیاں پوچھ گچھ کر تی رہی ہیں مگر ایف بی آئی اس بات سے انکار کرتی رہی ہے ۔ بوسٹن میں ایف بی آئی کے آفس کا کہنا ہے کہ جہاں تک انکی معلومات کا تعلق ہے انہیں اس بات کا علم نہیں ہے ۔ 28 فروری 2007 کو ہیومین رائٹ واچ نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سی آئی نے اپنی خفیہ تحویل میں لیا ہوا ہے۔ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ کہتی رہی ہیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار انکے گھر آیا اور اسنے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو چند روز میں رہا کر دیا جائیگا ذیادہ شور مچانے کی ضرورت نہیں اور اپنا منہ بند رکھیں اسی طرح انہیں مختلف طریقوں سے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں ۔ اسی طرح کے بیانات اعجاز الحق سابقہ وزیر برائے مذہبی امور و حج (سا بق ڈکٹیٹر صدر ضیا ء الحق کے بیٹے) سے بھی منسوب کئے جاتے رہے۔حراست کے دوران ڈاکٹر عافیہ کو ذبردستی مجبور کیا جاتا رہا کہ وہ خالد شیخ محمد کے بارے میں کچھ اگلے۔ جسمانی تشدد کیوجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اسکے گردے بھی متاثر ہوئے۔ڈاکٹر عافیہ کے وکیل اقبال جعفری نے عدالت میں ایک پیٹیشن دائر کی ہے جس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی اور اسکے رکھے جانے کے مقام کے تعین کے بارے میں کہا گیا ہے اسی طرح انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایک پٹشن دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوپرویز مشرف کے بیٹے بلال مشرف نے امریکی اینٹیلی جنس ایجنسیوں سے بھاری رقم وصول کرکے انکے حوالے کیا تھا ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا اکاؤنٹ فلیٹ نیشنل بینک بوسٹن میں تھا ۔ اسکی دستاویز جو نیوز ویک نے حاصل کی ہیں۔ ان دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عافیہ صدیقی نے اسلامی چئریٹی فرنٹ کو کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیاں کی تھیں۔ Benevolence International ویلفئیر جس پر آجکل یو این نے پابندی عائد کی ہوئی ہے عافیہ صدیقی الخیفہ مہاجر سینٹر کی سرگرمیوں میں بھی ملوث پائی گئی ہے۔ اسی طرح بوسنیا کے یتیموں کے نام پر کام کرنے والی ایک آرگنائزیشن جو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی نظر میں تھی جسکے بارے میں شبہات پائے جاتے تھے۔ جب فلیٹ بینک کے سیکورٹی آفیسرزنے سعودی سفارتخانے سے تفتیش شروع کی تو یہ عافیہ صدیقی پر جا کر ختم ہوتی تھی جس سے اسکے تعلقات مختلف مشکوک تنظیموں سے ظاہر ہوتے تھے۔ ایک تفتیش کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے جھوٹ پر مبنی اپنے آپکو مائکرو بائیو لاجسٹ کے طور پر متعارف کروایاجو کہ غلط تھا۔ بوسٹن ہیرالڈ اپنی 23 مارچ 2003 کی رپورٹ میں کہتا ہے کی عافیہ صدیقی اگست 2001 ء تک بوسٹن میں مشن ہل کی عمارت میں ایک اپارٹنمنٹ میں رہی جو اپارٹمنٹ2008 کے نام سے جانا جاتا تھا۔ الداہری اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مشترکہ بینک اکاؤنٹ تھے مگر یہ بات معلوم نہ ہو سکی کہ کیا یہ دونوں ایک ہی وقت میں اسی اپارٹنمنٹ میں اکھٹے رہتے تھے؟ سعودی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ الداہری کی تفتیش ہوتی رہی ہے مگر اسنے ایف بی آئی کو عافیہ صدیقی کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا۔ آخر فلیٹ بینک کی تفتیش کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاوند کو اسلحے کی خریداری میں ملوث پایا گیا جس میں اسنے انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے ہتھیار خریدے جن میں باڈی آرمرز، رات کے اندھیرے میں دیکھنے والی عینکیں اور بہت سے دوسرے جدید ہتھیار وں کی خریداری بھی شامل تھی جنکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ سب چیزیں پاکستان بھیجی تھیں۔ اسی طرح دونوں کے اکاؤنٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ فلیٹ نیشنل بینک کا یہ اکاؤنٹ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے امریکن ائر لاینز اور دوسری پٹسن برگ ،پینسلوانیا اور نارتھ کیرولینا میں آٹھ ہزار ڈالرز 21 دسمبر2001 ء کو ایک پاکستانی بینک جسکا نام حبیب بینک بتایا جاتا ہے کو منتقل کروائے ۔ یہ بینک دہشت گردوں کی رقوم کے لین دین کے معاملے میں ملوث پایا گیا۔ نیوز ویک کی ایک رپورٹ کے مطابق فلیٹ نیشنل بینک نے ایک تحقیق کے بعد یہ بات افشا کی کہ یہ دونوں ایک اور بینک اکاؤنٹ بھی استعمال کیا کرتے تھے اور اس اکاؤنٹ کے ذریعے انہوں نے انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے ملٹری ہتھیاراور ملٹری میں استعمال ہونے والے کپڑے بھی خریدے جو انہوں نے بلیک ہاک انڈسٹریز ورجینیا ، چیسپیک اور بریگیڈ کوارٹر ماسٹر جارجیا سے خریدا (بلیک ہاک وہیب سائٹ جو کہ بندوقوں کے پرزے اور دوسرے آلات بنانے اور AK-47 اور دوسری حملہ کرنے والی بندوقیں ، لڑائی میں کام آنے والے کپڑے بشمول جسم پر اندر کیطرف پہننے والی واسکٹیں وغیرہ بھی شامل ہیں جو بم ڈسپوزل کیلئے ڈیزائن کی گئی تھیں۔فلیٹ نیشنل بینک کی تفصیلی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر محمد امجد جو کہ عافیہ صدیقی کا خاوند تھا ان دونوں نے مل کر 2002 ء تک دہشت گرد کارروائیوں کی پلاننگ کرنے میں مدد کی۔
اسی اثناء میں برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈ ز کے نذیر احمد نے ہاؤس میں یہ سوال اٹھایا کہ قیدی نمبر650 جو ایک خاتون ہے اور اسکا نام ڈاکٹر عافیہ صدیقی بتایا جاتاہے اسے افغانستان میں بگرام کے امریکی عقوبت خانے میں امریکی تفتیشی آفیسران اسے متواتر جنسی اور جسمانی تشدد کا نشا نہ بناتے رہے ہیں۔ لارڈ نزیر احمد نے کہا کہ خاتون ہونے کے ناطے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا یہ اخلاقی اور قانونی حق ہے کہ پیشاب پاخانہ کرنے کیلئے اسکا علیحدہ ے انتظام ہوتا مگر ایسا نہیں ہے اور اسے عام مردوں کیساتھ ہی ہے ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس سے اسکی پردہ دری ہوتی ہے۔ 2007 ء میں میڈیا نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغوا کے اس کیس کے بارے میں پوری دنیا کی توجہ مبذول کروائی جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے جون 2007 ء میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور اغوا پر امریکہ کے اس فعل پر پوری دنیا میں آواز بلند کی اور اس کیس کو اپنے ایجنڈے پر لے لیا ۔

6 جولائی 2008 ء کو برطانیہ کی ایک صحافی رڈلے کو پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مدد کیلئے بلایا گیااسنے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دلدوز چیخوں کی وجہ سے میں اسے گھوسٹ کے نام سے پکارتی ہوں کیونکہ اسکی دلدوز چیخیں اتنی خوفناک ہوتی تھیں کہ جو بھی انہیں سنتا تھا وہ ان سے خوفزدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔اس صحافی خاتون جسکا نام ریڈلے ہے نے کہا کہ مجھے اس کے بارے میں تب علم ہوا جب میں نے معظم بیگ کی کتاب The enemy combatant میں پڑھا۔ 2000 ء میں اسلام آباد میں گرفتاری کے بعدمعظم بیگ کو قندھار اور بگرام کے عقوبت خانے میں لایا گیاجہاں پر وہ تقریباً ایک سال تک صعوبتیں برداشت کرتا رہا۔ اسکے بعد اسے گوانتا نامو بے منتقل کر دیا گیا جہاں پر وہ تین سال رہا اور 2005 ء میں اسے رہائی ملی۔اسنے نے اپنی اس کتاب میں اس عرصے میں اپنے ساتھ بیتے ہوئے تمام حالات و واقعات کو قلمبند کیا ہے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی جس نے امریکہ میں دس سال تک تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی وہ پاکستان میں 2002 میں کراچی منتقل ہوئی جو اپنے والدین کے ساتھ گلشن اقبال میں رہائش پذیر تھی وہ پاکستان میں ملازمت کی تلاش میں رہی مگر اسے کوئی اسکے مطلب کی ملازمت نہ مل سکی اور وہ دوبارہ امریکی ویزے پر فروری 2003 ء میں واپس امریکہ روزگار کی تلاش میں چلی گئی ۔اسنے امریکن امیگریشن میں درخواست دی اور اسطرح وہ امریکہ میں آزادانہ طور پر گھومتی پھرتی رہی اور 2003ء کے آخیر میں پاکستان کراچی واپس آگئی۔ ایف بی آئی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ دوران رہائش امریکہ اسنے میری لینڈ میں ایک پوسٹ باکس حاصل کیا ہوا تھا جس میں اسکی ڈاک آتی تھی جو مشکوک ہوتی تھی ۔ نیوز ویک انٹرنیشنل 23 جون 2003 کے میگزین سے معلوم ہوتا ہے کہ پوسٹ باکس ایک ماجد خان نامی شخص جوکہ القاعدہ کا ممبر بتایا جاتا ہے اسکے لئے حاصل کیا گیا تھاجو بالٹی مور میں رہتا تھا ۔اسی طرح مارچ 2003 کی امریکہ کی سلگتی ہوئی ٹی وی چینل کی خبروں سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک خطرناک تنظیم القاعدہ کیلئے کام کرتی ہے جو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ایف بی آئی کو مطلوب ہے۔ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے خطرہ محسوس کیا تو وہ زیر زمین غائب ہوگئی اور کراچی میں ہی کہیں چھپ گئی اور اپنی گرفتاری تک چھپی رہی۔جون 2003 ء کے نیوز ویک ایشو نے اپنے اس میگزین میں القاعدہ کے بارے میں کافی مواد شائع کیا اور ایک آرٹیکل بھی شائع کیا جسکا نام تھا امریکہ میں القاعدہ کا نیٹ ورک ۔ اس آرٹیکل میں تین تصاویر بھی شائع ہوئیں یہ تصویریں القاعدہ کے ممبران خالد شیخ محمد،ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور علی ایس المعاری کی تھیں جو کہ قطر کا رہنے والا تھا اور اس نے امریکہ ہی میں تعلیم حاصل کی تھی ۔ میگزین میں شائع ہو نے والے اس آرٹیکل میں ڈاکٹر عافیہ پر صرف یہی الزام تھا کہ ڈاکٹر عافیہ نے ایک پوسٹ بکس حاصل کیا تھا اور وہ ان تنظیموں کیلئے بینک سے رقم کے لین دین کے معاملے میں بھی ملوث رہی ہے۔ 3 اپریل 2003 کو سی این این نے یہ رپورٹ دی کہ القاعدہ کے خالد شیخ محمد نے ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم القاعدی کی ممبر ہے۔

بوسٹن کے ایک میگزین میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں تفصیل سے ای رپورٹ شائع ہوئی جس میں کیتھرین اوزمنتھ نامی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہے جو القاعدہ نامی دہشت گرد تنظیم کی ممبر ہے۔ وہ اکثر مونرووان میں اپنے خفیہ مشن کیلئے سفر کرتی تھی اور ہوٹل بولیوارڈ جایا کرتی تھی جہاں پر القاعدہ نامی دہشت گرد تنظیم کے دوسرے ممبر قیام پذیر تھے۔ جو شخص ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اس ہوٹل میں لایا کرتا تھا وہ بعد میں یونائیٹد نیشن کے دفتر میں چیف انفارمر کے عہدے پر فائز ہوا۔ اسنے دوران تفتیش بتایا کہ وہ ایک خاموش خاتون تھی جو اپنے سر پر سکارف اوڑھتی تھی اور ہفتوں اپنے کمرے میں ہی رہتی تھی اور اکثر اپنے کسی مشن کیلئے جایا کرتی تھی۔جنوری 2001 ء میں اسنے مونر وارن کو خاموشی سے ایسے ہی چھوڑ دیا جس خاموشی سے وہ داخل ہوئی تھی۔ مگر جاتے ہوئے اسکے پاس ایک بہت بڑا پارسل تھا جس میں ہیرے تھے جو اس نے غیر قانونی طور پر افریقہ سے سمگلنگ کئے تھے۔ اسکے بعد وہ مونر وارن میں بھی دیکھی گئی۔ مگر جلد ہی ان میں سے ایک شخص نے جس نے اسے لائیبیریا میں دیکھا تھا اسنے اسکا فوٹو دیکھتے ہی اسے پہچان لیا۔

اسوقت بوسٹن ہیرالڈ نے بھی یہ خبر دی کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے عدنان شیخ کا تعلق بھی خالد شیخ محمد سے ہے اور ڈاکٹر عافیہ بھی اسی دہشت گرد تنظیم کی ممبر ہے اس خبر نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ یہی وہ خاتون تھی جو ایف بی آئی کو مطلوب تھی۔یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل نے یہ خبر29 مارچ2003 ء کو دی کہ ایف بی آئی کو مکمل طور پر یہ یقین ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی القاعدہ نامی دہشت گرد تنظیم کی رکن ہے اور اس تنظیم کی دہشت گرد کارروائیوں کیلئے رقوم فراہم کرنے میں مدد کرتی رہی ہے۔

2004 ء کے شروع میں ہی امریکہ کے اعلیٰ عہدیداران نے یہ انکشافات کئے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ امریکیوں پر حملے کریگی۔ القاعدہ کے ہٹ لسٹ پر وہ نیشنل کنوینشن بھی تھا جو 26 جولائی سے 29 جولائی 2004 ء تک منعقد ہونا تھا ۔ عافیہ صدیقی کافی عرصے تک بوسٹن میں رہی اور یہی وجہ ہے کہ ایف بی آئی کی اس خاتون پر کڑی نگاہ رہی اور اس کی اس موجودگی نے ایف بی آئی کو شبہے میں ڈال دیا۔ایک سال تک ایف بی آئی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر کڑی نگرانی رکھی اور وہ وہاں پر ایک سال رہنے کے بعد غائب ہو گئی۔26 مارچ 2004 ء کو جان ایشرافٹ امریکی اٹارنی جنرل اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے ان رپورٹوں کی روشنی میں امریکیوں کو خبردار کیا کہ القاعدہ امریکہ پر بڑے حملوں کی پلاننگ کر رہی ہے۔ڈاکٹر ملر نے عافیہ صدیقی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ القاعدہ نامی دہشت گرد تنظیم کی رکن ہے اور اسکے لئے کام کرتی ہے ۔ اور یہ ان سات دہشتگردوں میں سے ایک وہ خاتون ہے جو ایف بی آئی کو انتہائی درکار ہیں انکے نام احمد خلفان ،فضل عبد اﷲ محمد، عامر الماتی، آدم یحیحیٰ ، عبد الرؤف، اور عدنان شکری جمعہ بتائے گئے یہ لوگ ایف بی آئی کی ٹاپ لسٹ پر تھے جو اسے انتہائی مطلوب تھے۔ انمیں سے 2001 ء تک پہلے دو شخص 1998 ء میں امریکی سفارتخانے کو بم سے اڑانے میں مطلوب تھے۔ عبد الرؤف پہلے ہی 17 جنوری 2002 ء سے ایف بی آئی کو مطلوب تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ان مطلوب دہشت گردوں کی لیسٹ میں بعد میں شامل کیا گیا۔ 26 مئی 2004 ء کے انتہائی سنجیدہ الزامات جو کہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں عائد کئے گو کہ ایف بی آئی کی اطلاعات محض یہ بتاتی تھیں کہ اگرچہ ایف بی آئی کے مطابق عافیہ صدیقی موقع پر کسی ایسی دہشت گرد ی کی واردات میں میں ملوث نہ پائی گئی تھی مگر پھر بھی ایف بی آئی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پر اسرار سرگرمیوں کی روشنی میں اس سے پوچھ گچھ کرنی مقصود ہے۔ اسکے علاوہ القاعدہ کے دوسرے چار الزام علیہان کے آپس کے تعلقات کے بارے میں ایف بی آئی نے تحقیق کرکے یہ رپورٹ دی جس میں کہا کہ ممکنہ طور پر یہ لوگ امریکہ میں دہشت گرد حملے کرنے کیلئے ایک خطرہ ہیں اور انکے بارے میں خبردار بھی کیا گیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے زور دیتے ہوئے یہ بات کہی کہ ان ساتوں میں سے ہر ایک امریکہ میں یا پھر امریکہ سے باہر دہشت گرد کارروائیوں کیلئے کام کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کے محکمہ انصاف نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہ کی ہے کہ عافیہ صدیقی کو پوچھ گچھ کیلئے لسٹ پر رکھا گیا مگر دہشت گرد کارروائیاں کرنے والوں کی لسٹ پر کیوں نہ رکھا گیا۔ یہ تشہیر اس بات کو اور بھی خوفناک بنا دیتی ہے کہ دہشت گردی کی ظاہری شکل تبدیل ہو رہی ہے وہ یہ کہ یہ عورت اپنے بچوں کیساتھ بھیس بد ل کر دہشت گرد کارروائیوں کی تکمیل کیلئے اپنی منزل مقصود کیطرف سفر کر رہی تھی۔

25 جولائی 2004 ء کو احمد خلفان کو گرفتار کیا گیا ۔ بہت سے اخبارات کی رپورٹوں اور یو این نے اپنی اطلاعات کے مطابق یہ دعویٰ کیا کہ القاعدہ کے بہت سے ممبران بشمول ڈاکٹر عافیہ صدیقی لائبیریا میں قیمتی ہیروں کی ڈیل میں ملوث ہیں ۔بوسٹن گلوب کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے مونرووائی میں چارلس ٹیلر کی دعوت پر ایک ہفتے تک قیام کیا اور اسے کہا گیا کہ وہ ان ہیروں کی ڈیل کے بارے میں پاکستان میں موجود القاعدہ کے ہیروں کے بزنس کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کرے۔

یہ بات حیرتناک ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغوا کی رپورٹ کسی بھی تھانے میں درج نہ کروائی گئی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ نے اس ایشو کو پبلک میں کیوں نہ اٹھایا۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو بہت سے شکو ک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ سندھ پولیس کے چیف سید کمال شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہ ہے اور نہ ہی کسی نے بتایااور نہ ہی کسی نے اس بارے میں مجھ سے رابطہ کیا۔ مگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ عصمت صدیقی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی عافیہ صدیقی کی پر اسرار گمشدی کے بارے میں پولیس اور کمال شاہ جو کہ کراچی پولیس کا ایک اعلیٰ عہدیدار تھا سے رابطہ کیا مگر انہوں نے کچھ بھی بتانے سے انکار کیا اور اس سے لا علمی کا اظہار کیا ۔ اس کے دوسرے ہی روز انہیں دھمکیاں دی جانے لگیں۔ انہیں اپنی جان کا خطرہ تھا۔ کیونکہ سفید کپڑوں میں ملبوس انٹیلی جنس کے لوگ انکے گھر پر آکر انہیں دھمکیاں دیتے رہے کہ اپنی زبان بند رکھو ورنہ اسکے نتائج برے ہونگے۔

ایف بی آئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری کے بارے میں اپنے موقف کو مذید تقویت پہنچانے کیلئے کہتی ہے کہ یکم مارچ 2003 کو 9/11 کے ماسٹر مائینڈ خالد شیخ محمد کو صبح سویرے اندھیرا ڈھلنے کے وقت پاکستانی ایجنسی نے راولپنڈی سے گرفتار کیا جسکی خبر آن واحد میں پورے انٹرنیشنل میڈیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی مگر عافیہ صدیقی اور اسکے تین چھوٹے چھوٹے بچوں کی خبر جو کہ پانچ سال سے غائب ہے اسے کیوں چھپایا گیا۔ یہ بھی ایک معمہ ہے جسے حل کرنا ضروری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوران تحقیق خالد شیخ محمد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام کو القاعدہ کے ایک بڑے ممبر ہونے کی حیثیت سے بتانے سے گریز کیا۔ تاہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حمایتیوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی شناخت کو چرایا گیا ہے۔ میرے خیال میں عافیہ غالباً ایک بھولی بھالی اور دوسروں پر اعتماد کرنے والی خاتون تھی کسی بھی شخص کیلئے یہ آسان تھا کہ جو کسی کی شناخت کو چوری کرنا چاہے وہ اسے چوری کرلے اور آخر کار 2003 میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور وہ غائب ہوگئی۔ امریکی ایف بی آئی اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے اس بارے میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی ملٹری کی دستاویز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عافیہ صدیقی کے اندرون خانہ القاعدہ کے انتہائی اعلیٰ عہدیداروں سے مشکوک تعلقات تھے اور وہ القاعدہ کیلئے کام کرتی تھی۔ امریکہ میں 9/11 کے حملوں میں ملوث ماسٹر مائینڈ شیخ خالد محمد کے ساتھ بھی اسکے گہرے روابط تھے اورڈاکٹر عافیہ صدیقی نے القاعدہ کے ایک اہم دہشت گرد کیلئے سفری دستاویزات بھی مہیا کی تھیں۔ گوانتا نامو بے کی دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسنے ایک شخص علی عبدالعزیز علی نامی جو کہ القاعدہ کو مختلف طریقوں سے امداد مہیا کرتا تھاسے بھی شادی کی ہوئی تھی جو امریکہ میں پیٹرول اسٹیشنوں اور پانی کے ٹینکوں میں زہر ملانے کا ارادہ بھی رکھتا تھا۔

9/11 کے حملے کے بعد عافیہ صدیقی پاکستان واپس جانے پر اسرار کرتی رہی۔ کیونکہ وہ القائدہ کیلئے کام کرتی تھی اسنے بھانپ لیا کہ کہیں وہ گرفتار نہ ہو جائے اسنے اپنے شوہر خان کو بتایا کہ انکی زندگیاں خطر ے میں ہیں اور انہیں امریکہ چھوڑ دینا چاہئے۔اسنے اپنے شوہر سے کہا کہ امریکی حکومت مسلمان بچوں کو ذبردستی عیسائیت کی ترغیب دے رہی ہے اور انہیں عیسائی بنا رہی ہے جو اسکے لئے تشویش کا باعث ہے اسطرح وہ پاکستان آ گئئی جب سردی کا موسم گز ر گیا تو اسنے اپنے خاوند سے کہا اور زور دیا کہ ہمیں افغانستان کے بارڈر کے ملحقہ علاقے میں جا کر افغانستان کے جہاد میں حصہ لینا چاہئے اور ہم ذاول کے صوبے کے ہسپتال میں کام کرینگے او ر وہاں پر جہاد میں زخمی ہو کر آنے والے طالبات کا علاج معالجہ کرینگے ۔ مگر خان نے انکار کر دیا اور کہاکہ وہ وہاں نہیں جائیگا ۔ اس پرعافیہ غصے میں آگئی او ر خان کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اسے طلاق دے دے۔ اپنی طلاق کے ٹھیک چھ ماہ بعد اسنے عمار ا ل بلوچ نامی (علی عبد العزیز علی) جو کہ 9/11کے ماسٹر مائینڈ خالد شیخ کا بھیتیجا تھا سے کراچی میں سادگی سے شادی رچا لی مگر عافیہ کے گھر والے اس شای کا انکار کرتے رہے۔ بعد میں ایف بی آئی اور پاکستان کی اینٹیلی جنس نے اس شادی کی تصدیق کر دی یہ شخص بھی 9/11کو فنانس کرنے میں ملوث پایاگیا۔

پریس کی گردش کرتی ہوئی خبروں کے چند روز بعد جن میں یہ کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان کے ایک امریکی مقید خانے میں بگرام کے مقام پر رکھا گیا ہے ۔ امریکی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی انکی تحویل میں 2003 ء سے ہے وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان میں مورخہ 17 جولائی 2008 ء کو غزنی میں گورنر ہاؤس کے باہر مشکوک حالت میں پھرتے ہوئے گرفتار کیا گیاوہ مارچ2003 ء سے اتنا عرصہ کہاں غائب رہی انہیں اس بارے میں انہیں کچھ علم نہ ہے۔

مہتاب سید جو کہ فیڈرل بیورو انویسٹی گیشن کی سپیشل ایجنٹ ہے نے نیو یارک میں سدرن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک حلفی بیان دیا جس میں وہ کہتی ہے کہ میں ایف بی آئی کی joint terrorism task force کی سپیشل ایجنٹ ہوں اور میں ذاتی طور پر اس تمام کیس کی انویسٹی گیشن میں ملوث رہی ہوں۔ میں اس کیس کے تمام حالات و واقعات سے واقف ہوں ۔ یہ کہ حلفی بیان محدود مقصد کیلئے دیا جا رہا ہے جس میں میری اس کیس کے بارے میں حقیقت پر مبنی معلومات اور جو کچھ میں نے اس کیس کے بارے میں اپنی تحقیق کی ہے اس پر مبنی ہے۔ عافیہ صدیقی ایک پاکستانی خاتون ہے جو امریکہ میں رہتی رہی ہے۔ 17 جولائی 2008 کو تقریباً شام کے وقت افغانستان کے صوبے غزنی میں نیشنل پولیس کو گورنر ہاؤس کے احاطے میں ایک مشتبہ خاتون اپنے ایک بارہ سالہ بچے کیساتھ جسکا نام بعد میں صدیقی کے طور پر سامنے آیا پائی گئی۔ نیشنل پولیس کے آفیسران نے اس خاتون سے مقامی زبان اور پشتو میں پوچھ گچھ کی مگر صدیقی نے انکے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا یہ خاتون صرف اردو بول سکتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کوئی غیر ملکی خاتون ہے۔

سوالات کے دوران نیشنل پولیس کے ان آفیسران نے صدیقی کے بیگ کی تلاشی لی تو تلاشی کے دوران اسکے بیگ سے کئی دستاویزات برامد ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دستاویزات کیمیکل ہتھیار، بم بنانے کے طریقوں اور دوسرے بیالوجیکل میٹیریل کے بارے میں ہیں ان دستاویزات میں امریکہ کے اہم جگہوں کے نقشے اور دستاویزات بھی تھیں۔ ان دستاویزات میں امریکی اثاثوں کی تفصیلات بھی تھیں۔ اور ایک گیگا بائٹ کی میڈیا سٹور کرنے والی دیوائس جسے تھمب ڈرائیو بھی کہتے ہیں پا ئی گئی۔

صدیقی کے قبٖضے سے بہت سے کیمیکل سیال مادے اور جل بھی برامد ہوئی جو ایک شیشے کی بوتل اور جار میں سیل شدہ تھیں۔ وہ پھر کہتی ہے کہ میرے ، ایف بی آئی اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے معائنے کے مطابق میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ 18 جولائی2008 کو یا اسکے لگ بھگ امریکیوں کی ایک ٹیم جو ایک آرمی کیپٹن اور امریکی فوج کے ایک ترجمان پر مشتمل تھی افغانستان پہنچی جہاں پر عافیہ صدیقی کو رکھا گیا تھا۔یہ لوگ دوسری منزل پر ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ اس کمرے میں ایک پیلے رنگ کا پردہ لمبائی کے رخ لٹکا ہوا تھا۔ جسکا ایک رخ چھپا ہوا تھا۔ کسی کو بھی یہ علم نہ تھا کہ عافیہ صدیقی کو غیر محفوظ طور پر یہاں پر رکھا گیا ہے۔جو اس پردے کے پیچھے ہے۔ وارنٹ آفیسر دیوار کے ساتھ ایک کرسی پر بیٹھ گیااور اس نے اپنی ایم 4 رائفل کو پردے کے دائیں جانب فرش پر اپنے دائیں پاؤں کے قریب رکھ دیا۔ رائفل لوڈ تھی مگر محفوظ تھی۔ میٹنگ شروع ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ کیپٹن نے پردے کے پیچھے سے ایک خاتون کی چیخنے کی آواز سنی کیپٹن نے مڑ کر پردے کی جانب دیکھا تو پردے کی پیچھے سے عافیہ صدیقی شور کرتی ہوئی نظر آئی جو اب آہستہ آہستہ سرک رہا تھا صدیقی نے وارنٹ آفیسر کی گن اٹھا رکھی تھی اور کیپٹن کو نشانے پر لیا ہوا تھا۔ کیپٹن نے صدیقی کو انگریزی میں کچھ کہتے ہوے سنا جو سمجھ میں آنے سے قاصر تھا۔ کیپٹن نے ترجمان کو دیکھا جو کیپٹن کیساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا جیسے ہی صدیقی نے رائفل کے گھوڑے کو دبایا وہ ایکد م صدیقی پر جھپٹا اور رائفل کو دھکیلا ۔وارنٹ آفیسر نے دیکھا اور صدیقی کے دو فائر وں کی آواز سنی ترجمان نے رائفل کو دھکیلنے کی اور چھیننے کی کوشش کی فائر کسی کو نہ لگا۔ وارنٹ آفیسر نے سنا کہ صدیقی اﷲ اکبر کا نعرہ لگا رہی ہے ۔ دوسرے ترجمان نے صدیقی کو انگریزی میں کہتے ہوئے سنا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔ وارنٹ آفیسر نے 9 ایم ایم کے پسٹل سے واپسی فائر کیا اور ذیادہ سے ذیادہ دو فائر کئے ہونگے جن میں سے ایک صدیقی کو لگ گیا۔ فائر لگنے کے باوجود صدیقی نے انہیں ٹھوکریں ماریں اور انکے ساتھ لڑتی رہی اور اﷲ اکبر کے نعرے لگاتی رہی اور انگریزی میں چیختی رہی کہ میں امریکیوں کو جان سے مار دونگی۔ دوسرے ترجمان نے بھی عافیہ صدیقی کو ٹھوکریں مارتے ہوئے دیکھا ان آفیسران نے اسے روکنے اور پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ کافی جذباتی تھی اور اسی اثناء میں وہ بے ہوش ہوگئی۔ان امریکی ایجنٹ اور افسروں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو میڈیکل امداد دی۔ اڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 4 اگست 2008 کو نیو یارک لایا گیااور اسے امریکہ میں نیویارک کے ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا ۔ڈاکٹر عافیہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کیا اور انکی تردید کی ۔ عافیہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کی من گھڑت کہانی پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہی ہے کہ اسے کراچی میں اسکے تین بچوں سمیت 2003 ء میں ہی اغوا کرکے مقید کیا گیا ۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے کچھ ہفتے قبل پراونشل سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ سے گم شدہ اشخاص کے بارے میں ایک رپورٹ طلب کی تھی اس رپورٹ میں عافیہ صدیقی کا نام بھی تھا جو اپنے تین بچوں مریم،احمد اور سلیمان سمیت اغوا ہو گئی تھی ۔ اس رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ملٹری انٹیلی جنس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی 30 مارچ 2003ء کو اسکے تین بچوں سمیت اٹھا کر ایف بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔ پانچ سال کے اس عرصے میں حکومت مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے یہ یقین دہانی کرواتی رہی ہے کہ عافیہ واپس آجائیگی مگر اب جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حالت اتنی خراب ہے نہ جانے اسکے بچے کہاں ہونگے اور انکا کیا حال ہوگا اسکے بچوں کی ذندگی خطرے میں ہے۔اخبارات کی زبانی یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کی حالت اسکے زخموں کیوجہ سے بہت ذیادہ خراب ہے۔ پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے چئیرمین اقبال حیدر نے کہا کہ ڈاکٹرعافیہ کی حالت بہت خراب ہے اور اسکی زندگی کو خطرہ ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکا ایک گردہ نکال دیا گیا ہے۔ اسکے دانت بھی توڑ دئے گئے ہیں اسکی ناک کی ہڈی بھی توڑ دی گئی ہے، اسکے زخموں سے خون رس رہا تھا جو اسکے کپڑوں میں جم چکا تھا۔ اور اسکے جسم اور کپڑوں سے گندی بو آرہی تھی۔ اسکے ہاتھ اور پاؤں انتہائی خراب حالت میں تھے۔ اندریں حالات ہمیں مذہب کو بنیاد بنا کر انسانوں کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے پاکستان میں موجود ایک دہشتگرد گروپ عافیہ صدیقی بریگیڈ کے نام سے کام کر رہا ہے جس نے 2012ء میں پشاور پولیس وین پر حملہ کر کے دو پولیس افسران کو جان سے مار دیا تھا۔ اسی طرح 2013ء میں بھی جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ آور ہو کر 50سے زیادہ لوگوں کو زخمی او ر کئی بے گناہ لوگوں کو مار دیا جسکا الزام اسی بریگیڈ پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ان حالات میں یہ کہنا کہ عافیہ صدیقی بے گناہ ہے اور وہ دہشت گرد نہیں تھی اصل حالات سے روگردانی کے مترادف ہوگا۔ عافیہ صدیقی پر سنگین الزامات ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے لئے کام کرتی رہی ہے اور انکی معاونت میں انکے لئے اسلحہ کی خریداری اور انہیں فنانس مہیا کرنے میں بھی ملوث پائی گئی ہے لہٰذا ہم اس بات کو رد کرتے ہیں کہ عافیہ صدیقی ایک معصعوم اور بے گناہ ہے۔ کسی اور خاتون پر یہ الزام کیوں نہیں لگایا گیا ۔ ہمیں اندھی تقلید نہیں کرنی چاہئے اور ہمیں مذہب کا سہارا لیکر کسی بھی دہشت گرد کیلئے سافٹ کارنر نہیں رکھنا چاہئے۔ جوانسانوں کو مارنے اور کسی بھی طرح دہشت گردی میں ملوث ہے اسے اسکے انجام تک پہنچانا بہت ضروری ہے تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔
ٍ ( سید انیس احمد بخاری )
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 169 Print Article Print
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 87 Articles with 50790 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: