شینا زبان کے سب سے بڑے خطیب، مولانا عیسی خان سے ملاقات

(Amir jan haqqani, Gilgit)
گوہرأباد کے جوڑ میں مولانا نے اپنے کلیدی خطبے کے أخر میں سامعین شرکاء سے ایک وعدہ لیا کہ *ہر أدمی اپنا ایک بیٹا دینی تعلیم کے لیے وقف کرے گا۔ میرے والدماجد نے بھی بطور وعدہ ہاتھ کھڑا کیا۔ اگلے دن مجھ سے کہا کہ میں نے مسجد میں اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ اپنے ایک بیٹے کو دینی تعلیم دلاوں۔چونکہ أپ میرے اکلوتے بیٹے ہیں لہذا کل سے أپ ہی قاری اشرف صاحب سے حفظ قرأن کا أغاز کیجے۔* ۔پھر یوں ہوا کہ میں پہلے ٹاٸم اسکول جاتا، ٹاٸم سیکنڈ حفظ قرأن کیساتھ جڑ گیا۔ درمیان میں کچھ عرصہ یہ سلسلہ منقطع بھی ہوا اور دوبارہ ایسا جڑا کہ 1999 سے تاحال دینی علوم کیساتھ عصری علوم کی تعلیم و تدریس اور ترویج کا سلسلہ جاری ہے۔الحمدللہ!

امیرجان حقانی ،مولانا عیسی خان سے ان کی سوانح عمری قلم بند کررہے ہیں۔فوٹو

مولانا عیسی خان صاحب گلگت بلتستان میں شینا زبان کے سب سے بڑے خطیب ہیں۔ مولانا اپنے مخصوص طرز خطابت اور تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔1978 سے أج تک دعوت تبلیغ کیساتھ منسلک ہیں۔اور شینا خطابت پر بلاشرکت غیر مولانا کا راج ہے۔

یہ غالباً 1993 کی بات ہے۔ میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ گوہرأباد میں تبلیغی جماعت کا جوڑ ہوا۔داریل سے مولانا عیسی خان صاحب تشریف لاٸے۔اپنے مخصوص وعظ میں اہالیان گوہرأباد کے دل و دماغ جھنجھوڑ دیے۔مولانا جب طرز لگاتے ہیں تو سامعین مبہوت رہ جاتے ہیں۔بڑے سے بڑا عوامی مجموعہ پر سکوت طاری ہوتا۔سامعین منہ میں انگلی دابے بہت ہی غور سے مولانا کو سنتے رہتے ہیں۔

گوہرأباد کے جوڑ میں مولانا نے اپنے کلیدی خطبے کے أخر میں سامعین شرکاء سے ایک وعدہ لیا کہ *ہر أدمی اپنا ایک بیٹا دینی تعلیم کے لیے وقف کرے گا۔ میرے والدماجد نے بھی بطور وعدہ ہاتھ کھڑا کیا۔ اگلے دن مجھ سے کہا کہ میں نے مسجد میں اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ اپنے ایک بیٹے کو دینی تعلیم دلاوں۔چونکہ أپ میرے اکلوتے بیٹے ہیں لہذا کل سے أپ ہی قاری اشرف صاحب سے حفظ قرأن کا أغاز کیجے۔* ۔پھر یوں ہوا کہ میں پہلے ٹاٸم اسکول جاتا، سیکنڈ ٹاٸم حفظ قرأن کیساتھ جڑ گیا۔ درمیان میں کچھ عرصہ یہ سلسلہ منقطع بھی ہوا اور دوبارہ ایسا جڑا کہ 1999 سے تاحال دینی علوم کیساتھ عصری علوم کی تعلیم و تدریس اور ترویج کا سلسلہ جاری ہے۔الحمدللہ!

مشاہیر علما ٕ گلگت بلتستان نامی کتاب کےلیے 2007سے گلگت بلتستان کے علما ٕ کرام کی سوانح عمریاں جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اب تک درجنوں علما ٕ کی مختصر سوانح قلم بند کرچکا ہوں۔ أج مدرسہ صفہ پڑی بنگلہ کے سالانہ جلسے میں مولانا عیسی خان کا خطاب سنا۔ مولانا بہت ضعیف ہوچکے ہیں۔ضعف اور بیماریوں کے باوجود بھی مولانا نے خطابت کے جوہر دکھاٸے۔ وہ اپنے مخصوں طرز خطابت کے خود موجد ہیں اور انہی پر وہ طرز ختم ہے۔ تقریب کے بعد مولانا سے تین چار گھنٹوں پر مشتمل ایک طویل انٹرویو کیا جو پہلے سے طے شدہ تھا۔یہ انٹرویو بطور تحریر میری کتاب مشاہیر علما ٕ گلگت بلتستان کا حصہ بنے گا۔
مولانا نے بلاکم وکاست اپنی پوری زندگی میرے سامنے رکھی اور میں نے ایک ایک چیز نوٹ کیا۔مولانا کی زندگی کی چوالیس بہاریں دعوت تبلیغ میں صرف ہوٸیں۔اور پندرہ سال دینی علوم کی تحصیل میں لگے۔یعنی جب سے ہوش سنھبالا تب سے أج تک دین کی تحصیل اور تبلیغ کیساتھ جڑے ہوٸے ہیں۔ دوران انٹرویو اہل علم کے لیے بہت سے نصاٸح فرماٸی۔انہوں نے فرمایا”علم کی قدر خود علمإ کرواسکتے ہیں مگر افسوس علما ٕ خود علم کو دنیا ، دنیا داروں اور حکومتوں کے دروازے تک لے جاتے ہیں اور انکے پاوں میں رکھ دیتے ہیں۔ ایسے میں علم اور صاحبان ِعلم کی کیونکر عزت اور قدر کی جاسکتی ہے۔“مولانا نے دعوت تبلیغ میں جڑنے کے بعد سرکاری نوکری سے استعفی دیا۔چار سال بطور اورینٹل ٹیچر اسکول میں پڑھایا پھر تبلیغی سرگرمیوں اور اسفار کی کثرت کی وجہ سے جاب سے استعفی دیا۔سرکاری نوکری کیساتھ داریل پھوگچ میں اپنی مسجد میں تدریس بھی کی۔جو چھ سال جاری رہی۔تبلیغ کی وجہ سے تدریس کا سلسلہ بھی جاری نہ رکھ سکے۔

مولانا مرجع خلاٸق ہیں۔وسعت قلبی اور امت کو جوڑنا ان کی زندگی کے اساسی مقاصد میں شامل ہے۔وہ دین کی عالمگیریت کے دل و دماغ سے قاٸل ہیں۔مولانا عامة الناس سے بھی گزارش کرتے رہتے ہیں کہ وہ دینی اداروں اور دعوت تبلیغ کیساتھ جڑیں۔ مولانا نے یہ بھی کہا جو بھی دین کی خدمت اور اصلاح امت کرتا ہے اس کی قدر کرنی چاہیے۔اور مدد کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا”جماعت اسلامی والے بھی دین کی دعوت دیتے ہیں اور نوجوانوں کو دین کی طرف بلاتے ہیں۔ ان سے اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ دین کے کاموں میں معاون ہوتے ہیں جو بہت اچھی بات ہے۔“

مولانا سے انٹرویو کے بعد دعا کی درخواست کی تو میرے حق میں ایک رقت أمیز اور خلوص بھرا دعا فرمایا۔مولانا مستجاب الدعوات بزرگ عالم دین ہیں۔ اللہ حضرت کی دعا قبول فرماٸے۔ میرے ساتھ برادرم شیراز عالم بھی تھے۔وہ بھی مولانا کی باتیں غور سے سنتے رہے۔ میں احترام و محبت میں کسی کے ہاتھ نہیں چومتا مگر مولانا میں للہیت اور سوز وگداز اتنا زیادہ ہے کہ فرطِ محبت میں رخصت ہوتے ہوٸے بلا اختیار مولانا دامت فیوضہم کے ہاتھ چوم لیے۔حضرت نے بھی کمال شفقت سے رخصت کیا۔ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا محمد یوسف دینی علوم کی تحصیل میں لگا ہوا ہے۔ دارالعلوم غذر کے طالب علم ہیں اور مجھے سے عربی کورس بھی کیا ہے۔مولا! درست معنوں میں یوسف کو اپنے والدماجد کا جانشین بناٸے۔یہی مولانا کی چاہت بھی ہے۔ مولانا عیسی خان کی سوانح عمری بطور انٹرویو محفوظ کیا ہے۔ زندگی رہی تو تمام تفصیلات أپ کے گوش گزار کرونگا۔تو احباب کیا کہتے ہیں۔؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 193 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 251 Articles with 114341 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: