پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا ذوالفقارعلی بھٹو کے سر ہے

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
عالم اسلام کے عظیم سیاسی رہنما قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹو کے 40 ویں یوم شہادت کے موقع پر لکھی گئی خصوصی تحریر
ذوالفقارعلی بھٹو ! کی خدمات اور کارنامے ان کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔

 جن پاکستانیوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام،پاکستان اور پاکستانی عوام کی سربلندی، آزادی اور تحفظ کی خاطر اپنی جان اور مال کی پرواہ کیئے بغیراپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے ہوئے قربانیاں دیں اور جام شہادت نوش کیا وہ بلاشبہ ہمارا قیمتی اثاثہ تھے جنہیں جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو شہید کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں کیا جاتا ہے جنہوں نے ملک اور قوم کی خاطربے شمار کارنامے انجام دیے حتیٰ کہاپنی جان بھی انہوں نے پاکستان پر قربان کردی۔ گو کہ ہم ذوالفقارعلی بھٹو جیسے عظیم رہنما کوکھوچکے ہیں لیکن ان کی سوچ،نظریے،خدمات اور کردارنے ان کوزندہ جاوید بنا دیا ہے اور وہ مرنے کے 40 برس بعد بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں میں آج 4 ،اپریل کو بھٹو صاحب کی 40 ویں برسی نہایت محبت ،عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔اور ان کے کروڑوں چاہنے والے ان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کررہے ہیں جبکہ 5 جنوری بھٹو صاحب کی سالگرہ کا دن ہے اس موقع پر بھی ملک بھر میں ان کے عقیدت مند باقاعدہ کیک کاٹ کر ان کی سالگرہ اس طرح بناتے ہیں جسیے کہ وہ زندہ ہوں ۔ایسی دیوانہ وار محبت اور عقیدت بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے جوبھٹو صاحب کو ملی ۔

آج پھر ایک بار4 ،اپریل کا دن آیاہے تو پاکستانی عوام کی اکثریت کے ذہنوں اور لبوں پر صرف بھٹو صاحب کا نام ہے کہ پاکستان کے تحفظ اور عوامی حقوق وفلاح وبہبود کے جو بڑے بڑے کام قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے دور حکومت میں کیئے وہ کو ئی دوسرا لیڈر آج تک نہیں کرسکا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بھٹو صاحب اور بھٹو خاندان کا نام آج بھی زندہ جاوید ہے اور پاکستان میں الیکشن کے موقع پر آج بھی سب سے زیادہ ووٹ ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر ہی پڑتا ہے۔راقم الحروف چونکہ ایک شاعر بھی ہے اس لیئے ذوالفقار علی بھٹو جیسی ناقابل فراموش کرشماتی سیاسی شخصیت کو راقم الحروف نے اپنے چند اشعار کے ذریعے خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو بھٹو شہید کے کروڑوں شیدائیوں اور قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہیں ۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرگیا بھٹو
دار پر چڑھ کر دلوں میں اتر گیا بھٹو
یوں تو لیڈر بہت سے آئے ، گئے اور آئیں گے
قائداعظم کے بعد ہے سب سے بڑا بھٹو

یہ حقیقت ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے بعدقائدعوام ذوالفقار علی بھٹو ہی وہ دوسری شخصیت تھے جن کو پاکستانی قوم نے سب سے زیادہ محبت ،عزت اور مقام دیا ،باقی تما م سیاسی لیڈروں کا نمبر ان کے بعد ہی آتا ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی بھٹو صاحب کے40 ویں یوم شہادت کے موقع پر ملک بھر میں خصوصی اجتماعات منعقد ہورہے ہیں اور لوگوں کے لبوں پر بھٹو صاحب کی خدمات ،کارکردگی اور کردار کا تذکرہ ہے ۔

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے عظیم سیاسی لیڈر،بین الاقوامی شہرت یافتہ قد آور سیاسی شخصیت، عالم اسلام کے عظیم رہنما،پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم،قائد عوام ، ذوالفقار علی بھٹو شہید5 جنوری1928 کولاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور14 اگست1973 کوپاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے نظام حکومت سنبھالا جبکہ 5 جولائی1977 کوفوجی جنرل محمد ضیاالحق نے امریکی سازش کا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی عوامی حکومت کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کرکے ان کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرتے ہوئے مارشل لا لگادیا اور پھرکچھ ہی عرصے بعد قتل کے ایک پرانے مقدمے میں کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ملوث کرکے انتہائی متنازعہ عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر جنرل ضیا نے امریکی اشارے پر4 ، اپریل 1979کوبھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا حکم جاری کر کے ہماری قوم کو ایک عظیم دماغ اورقابل فخرسیاسی رہنماسے ہمیشہ کے لیئے محروم کردیا ،یہ جنرل ضیا کا ایک ایسا جرم ہے جسے ہماری قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔

پاکستان میں قائد اعظم محمدعلی جناح کے بعد سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے قابل فخر سیاسی لیڈرذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاست میں ایک ایسے فلسفے کی بنیاد رکھی جو ان کی موت کے40 برس بعد بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ قائداعظم کے انتقال کے بعدپاکستان میں عظیم سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو ہی وہ واحد لیڈر تھے جنہوں نے ملک وقوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ اگر مرکزی قیادت محب وطن ہو تو عوام کے لیئے بہت کچھ ایسا کر جاتی ہے کہ لوگ اسے مرنے کے بعد بھی یاد رکھتے ہیں۔4 ۔اپریل 1979 کو ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دے کر قتل کرنے کے بعد بہت سے ناسمجھ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بس اب بھٹو کی کہانی ختم اوربہت جلد لوگ بھٹو کی پھانسی اور بھٹو کو بھول جائیں گے لیکن کیا ایسا ہوا؟ ہماری سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بھٹو کو شہید کرکے راستے سے ہٹانے والے خود بے نام ونشان ہوگئے لیکن وہ بھٹو کی محبت پاکستانی عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ مردہ بھٹو ،زندہ بھٹو سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوااور آج بھی پاکستانی سیاست میں بھٹو اپنی قبر سے بیٹھ کر حکومت کررہا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت بھٹو کا ووٹ بینک ہے جو زرداری کی کرپشن اور مفاد پرستانہ سیاست کے باوجودآج بھی برقرار ہے اوردوسرا ثبوت ہر سال بھٹوصاحب کے یوم شہادت کے موقع پران کے مزار پر جمع ہوکر فاتح خوانی کرنے والی عوام کا ہجوم ہے ،ہر سال 4 ۔اپریل کو بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر ان کے مزار پر لوگوں کا ایک میلا سا لگا ہوتا ہے اور اسے مارنے والے آمرجنرل ضیاالحق کی برسی کے موقع پر اسکی قبر پر چار آدمی بھی دکھائی نہیں دیتے اورماضی میں خود کو جنرل ضیاء الحق کا روحانی بیٹا قرار دینے والے نواز شریف تو اب جنرل ضیاء الحق کانام بھی لینا پسند نہیں کرتے اور فوجی آمروں کی برائیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اسے کہتے ہیں وقت کا انصاف اور فیصلہ کہ کون صحیح تھا اور کون غلط؟ اس کا سب سے بہتر فیصلہ وقت ہی کرتا ہے اور وقت نے ثابت کردیا کہ بھٹو ایک سچا پاکستانی اور حقیقی عوامی سیاسی لیڈر تھا یہی وجہ ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید کو حیات جاوداں نصیب ہوئی اور ان کے سب سے بڑے مخالف جنرل ضیاء الحق کا آج کوئی نام بھی لینا پسند نہیں کرتا۔

1957 میں بھٹو صاحب کی عملی سیاست کا آغاز ہوا جب اقوام متحدہ میں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی1958 میں ہی وہ بحیثیت وزیر توانائی ایوب خان کی کابینہ میں شامل ہوئے۔ ان کا شمار ایوب خان کے معتمد ترین رفقا میں ہونے لگا، 1960 میں بھارت سے سندھ طاس اور1961 میں سوویت یونین روس سے پٹرول نکالنے کے معاہدوں میں بھی ان کی مشاورت کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔1962 بھٹو صاحب کے قومی عروج کا سال تھا جب انہیں پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا گیا۔1966 میں انہوں نے وزارت خارجہ سے استعفی ٰدیدیا۔30 نومبر 1967 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ایوب مخالف سیاست شروع کی 12 نومبر1968 میں پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے۔ 7 دسمبر1970کے پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت بن کر ابھری. 20 دسمبر1971 سے 13 ، اگست1972 تک بھٹو صدر پاکستان کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ 14 ۔ اگست 1973 سے5 جولائی 1977 تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

اس عرصے میں1973 کا آئین،ایٹمی پروگرام کا آغاز،اسلامی سربراہی کانفرنس اور دیگر کارنامے تاریخ میں بھٹو صاحب کے نام لکھے گئے۔ 5 جولائی 1977 کو ان کی حکومت ختم کر دی گئی اورپاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کو گرفتار کر کے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو3 ستمبر کو نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کے الزام گرفتار کیا گیا اور ان پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔24 ، اکتوبر سے مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ مسعودمحمود سلطانی گواہ بن کر بھٹو کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ 18 ،مارچ 1978 لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو مجرم قرار دے کر سزائے موت دینیکا فیصلہ سنادیا گیا۔ 25مارچ 1978 سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی اور مختلف مراحل کے بعد24مارچ 1979کو نظر ثانی کی اپیل بھی مستردکردی گئی۔ بالآخر گیارہ روز بعد 4 ۔اپریل 1979 کواس اہم قومی رہنما کوفوجی آمرجنرل محمد ضیاالحق کے دور حکومت میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم قائد عوام ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی شخصیت اتنی پہلودارہے اور ملک و قوم او رعالم اسلام کے حوالے سے ان کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ کسی ایک مضمون میں کرنا ممکن ہی نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ہی وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جنہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ۔بھٹو کے دور میں سب سے پہلے قومی شناختی کارڈز کا اجرا شروع کیا گیا،عالم اسلام کو بھٹو صاحب نے ہی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور لاہور میں عالم اسلام کے رہنماؤں کی پہلی سربراہ کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا،بھٹو صاحب کے دور میں پہلی بار زرعی اصلاحات کا نفاذکیا گیا،1973 کا آئین پاکستا ن بھی بھٹوصاحب کی کوششوں سے ہی بنا اورپاکستان کے اس واحد متفقہ آئین کی تخلیق اور اس کا نفاذ بھی بھٹو صاحب کا ہی کارنامہ ہے ،شراب نوشی پر پابندی اورقادیانیوں کو کافر قرار دینے کے انقلابی اقدامات بھی بھٹو صاحب نے ہی کیئے ،1973 کے آئین میں پہلی بار اردو کوپاکستان کی قومی اور سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا،بھٹوصاحب نے ہی پاکستانی قوم کو قومی لباس شلوار قمیض سے روشناس کروایاجو دنیا بھر میں پاکستانیوں کی پہچان بن چکا ہے ،سستی روٹی اور سستے کپڑے کے پلانٹ بھی سب سے پہلے بھٹو صاحب ہی نے لگائے ،پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیئے بنیادی کوششوں کا آغاز بھی بھٹو صاحب کے ہی دور میں شروع ہوا اور بھٹو صاحب نے ہی پاکستان کا سب سے پہلاایٹمی پلانٹ اور ری ایکٹر فرانس کے تعاون سے لگایا جس کے نتیجے میں آج ہمار ملک عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے دشمن اب تک ہمار اکچھ نہیں بگاڑ سکے غرض یہ کہ بھٹو صاحب کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے مقبول ترین محب وطن سیاسی رہنما ’’بھٹو‘‘کو فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے امریکی اشارے پر اقتدار پر قابض ہوکر ایک نام نہادقتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے نہایت بے دردی اوربزدلی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں پھانسی پر لٹکادیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو اپنے قیام کے 25سال بعد یعنی1973میں ایک ایسا منظم اور مربوط دستور دیاکہ یہ دستور آج بھی پورے پاکستان کی لاج ہے اور اِسی دستور نے آج پورے پاکستان یعنی وفاق سمیت صوبوں کو ایک اکائی کے طورپر متحدکر رکھاہے اور اِس کے ساتھ ساتھ شہیدذوالفقارعلی بھٹو کا جودوسرا اور بڑا عظیم کارنامہ یہ تھاکہ انہوں نے پاکستان سے کئی گنابڑے اور جارحیت پسنداپنے پڑوسی ملک بھارت کو لگام ڈالنے کے لئے اپنی اولین ترجیحات میں پاکستان کو ایک ایٹمی ملک بنانے کی داغ بیل ڈالی اور بالآخر یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کاہی منصوبہ تھا اور اِن کی ہی انتھک محنت کا ثمر تھا کہ پاکستان 1998میں ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایک ایٹمی ملک کا درجہ دلوانے میں کامیاب ہوااوریہی شہید ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے ملک میں پہلی بار شراب کی پابندی لگانے اور قادیانیوں کو غیر مسلم کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں جمعہ کے دن مکمل طور پر عام تعطیل کا اعلان بھی کیا یوں اِن کے اِن اقدامات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ ایک اﷲ ، ایک رسول صلی اﷲ علیہ وال وسلم اور ایک قرآن کو ماننے والے پکے اور سچے مسلمان بھی تھے ۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹوکی زندگی اور موت دونوں قابل رشک ہیں کیونکہ ان جیسی متحرک اور فعال زندگی اوردلیرانہ شہادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔بھٹو صاحب نے جس خاندان میں جنم لیا اس میں شروع سے ہی روپے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی کہ وہ کرپشن کرنے کے لیئے سیاست کا رخ کرتے بلکہ بھٹو صاحب نے تو پاکستانی سیاست میں مفادپرست قوتوں کی مضبوط گرفت اور اثرورسوخ کا علم ہونے کے باوجود اپنے لیئے پرخطر اور دشوار راستے کا انتخاب کیا جس پر چلنے کی پاداش میں ان کو غیر ملکی طاقتوں کے اشارے پر ایک متنازعہ مقدمے میں ملوث کرکے پھانسی پر چڑھا دیا گیاایک بھٹو صاحب تھے جنہوں نے عوامی حققوق کی بالا دستی اور پاکستان کو ایٹی طاقت بنانے کی پاداش میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر جام شہادت نوش کیالیکن اپنے اصولوں اور نظر یات پرسمجھوتا نہیں کیا،انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ذاتی مفاد کی بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ ملکی مفادات اور عوامی خواہشات کو مقدم رکھ کر نظام حکومت کو چلایا لیکن افسوس کہ آج کا دور مفاد پرستی،لسانیت،اور قومیت کا پرچار کرنے والے سیاست دانوں کا دور ہے جس میں حب الوطنی ایک جرم بن چکی ہے اور چمچہ گیری کو سب سے بڑی خوبی اور کامیابی حاصل کرنے کاآسان راستہ سمجھا جاتا ہے ۔اگر کسی کو سیاست دان بننے اور کہلانے کا شوق ہے تووہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے سیاست سیکھے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنے مثالی کردار اور عمل سے پاکستانی سیاست دانوں کا اچھا اور قابل تقلیدامیج بنایایہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھٹو خاندان کا نام عموماً اورذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکا نام خصوصاً بہت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔

بھٹو خاندان کے چار افراد کو قتل کرکے راستے سے ہٹایا گیا، پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذو الفقارعلی بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے پھانسی دے کر شہید کیا گیا اور ان کے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کوفرانس میں زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا،ان کے بڑے بیٹے میرمرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں ان کے گھر کے سامنے گولیاں مارکر قتل کر دیا گیااور ان کی چہیتی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کوپہلے توکراچی میں خودکش بم دھماکے کے ذریعے مارنے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں ناکامی کے بعد27 دسمبر کو2007 کوراول پنڈی میں تاریخی جلسہ عام کے بعد لیاقت باغ کے قریب ان کو بھی گولیاں مار کر شہید کردیاگیا ۔ پاکستانی سیاست میں بھٹوخاندان اپنا لہوشامل کر کے پاکستانی قوم کو ہمیشہ اس بات کا احساس دلاتا رہا کہ عوام کی جائز ضرورتوں، امنگوں اور خواہشات کو پورا کرنے اور پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیئے اپنی جان کی بازی لگانے والے محب وطن لوگ ابھی ختم نہیں ہوئے لیکن افسوس27 دسمبر کی شام بھٹوخاندان کے لہو سے روشن پاکستانی سیاست کا آخری چراغ بھی بجھادیا گیا اور پاکستان دشمن عناصربے نظیر بھٹو کو بھی ابدی نیند سلانے میں کامیاب ہوگئے اوربے نظیر بھٹو کو بھی اپنی حب الوطنی،بہادری اورعوامی مقبولیت کی قیمت آخر کار اپنے خون سے ہی چکانی پڑی لیکن تمام تر کوششوں اور مظالم کے باوجود’’بھٹو‘‘ کانام پاکستانی سیاست اور پاکستانی عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکا۔

ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے مفادپرست معاشرے میں ذوالفقارعلی بھٹواوربے نظیر بھٹو جیسے محب وطن رہنماؤں نے جنم لیاجنہوں نے اپنی ساری زندگی عوامی حقوق کی سر بلندی اور پاسداری کے لیئے وقف کردی لیکن افسوس ان دونوں قابل فخر سیاسی حکمرانوں کو قتل کردیاگیااورپاکستانی قوم عظیم مدبر اور محب وطن سیاسی رہنما ؤں سے محروم ہوگئی۔ذوالفقارعلی بھٹو کی شہادت کے بعد جو خلا پیدا ہوا اسے تو ان کی باصلاحیت اور بہادر بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پر کردیا تھا لیکن محترم بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پاکستانی قیادت میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے اب شاید ہی کبھی پورا کیا جاسکے کیونکہ ان کے بعد ان کے جانشین کے طور پر غٰیر متوقع طور پر جو شخصیت پیپلز پارٹی کے نئے قائدکی صور ت میں سامنے آئی وہ بھٹوخاندان کا داماد ہونے ،بے نظیر بھٹوشہید کا شوہر ہونے اور بے نظیر بھٹو کے بچوں کا باپ ہونے کے ناطے بھٹوخاندان میں شامل ضرور ہیں لیکن ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون بھٹو خاندان کا نہیں ہے ،بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب پارٹی اور ملک کی قیادت کسی ’’بھٹو‘‘کے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہی وہ فرق ہے جو ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ اورحالیہ قیادت کے طرز سیاست میں واضح طور پرنظرآتا ہے۔

آج 4 ،اپریل کو جبکہ پوری قوم قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹو کا40 واں یوم شہادت منا رہی ہے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ تمام قائدین اور کارکنوں کو آج کے دن اپنا احتساب کرکے یہ سوچنا ہوگا کہ پارٹی کے بانی اور قائدذوالفقارعلی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے فلسفے اور نظریے(بھٹوازم) کواختیار کرنے میں ہی پیپلزپارٹی اور پاکستان کی بقا کا راز پوشیدہ ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بھٹوصاحب کے انداز فکر،فلسفے اور طرز حکمرانی (بھٹوازم )کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔

اﷲ تعالیٰ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کو قائم و دائم رکھے اور اس پارٹی کی قیادت مفاد پرست گروپ سے نکل کر ان مخلص قائدین کے ہاتھ میں آجائے جو’’بھٹوازم‘‘کے سچے پیروکارہیں اوربھٹوزکے فلسفے اورنظیریے سے اچھی طرح واقف ہیں اور ملک کو اس کے مطابق چلانے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ آخر میں فخر پاکستان قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہیدکی شخصیت کو منظوم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے میں اپنے یہ چند اشعاربھٹو صاحب کے چاہنے والوں کی نذرکرتا ہوں۔
ذوالفقارعلی بھٹو کو منظوم خراج عقیدت
۔۔۔۔۔شاعر:فریداشرف غازی۔۔۔۔۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو ، مرگیا بھٹو
دار پر چڑھ کر ، دلوں میں اتر گیا بھٹو
یوں تو لیڈر بہت سے آئے ، گئے، او ر آئیں گے
قائداعظم کے بعد ہے ، سب سے بڑ ا بھٹو

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 231 Print Article Print
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 103 Articles with 55475 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More

Reviews & Comments

Language: