شاہ عبدالعلیم الصدیقی علیہ الرحمہ (آخری حصہ)

(Abu Abdul Quddoos Muhammad Yahya, Karachi)
واہ سبحان اللہ! کیا ہی پاک طینت نفوس قدسیہ میں سے آپ کا وجود تھا ۔ حجاز مقدس میں ذی الحجہ کی ٢٣ویں تاریخ کو١٣٧٣ھ بمطابق ٢٢، اگست ١٩٥٤ء اس فانی اوربے ثبات عالَم سے روانہ ہوئے ۔ آپ کی رحلت کا وقت اورمقام اس بات کی شہادت اور ثبوت ہے کہ بلاامتیاز اوربلاتفریق سب تک دین کا پیغام خلوص اورللہیت سے پہنچایاکیوں کہ جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی وہ اسلام کا مرکز ،جس ماہ آپ کاوصال ہوا وہ مسلمانوں کے اجتماع عظیم کا مہینہ یعنی حج کے بابرکت مہینے میں حج کی ادائیگی کے بعد آپ کی وفات ان ہی دنوں میں ہوئی جب دنیا کے تمام گوشوں ، اطراف،اور کونوں سے مسلمان وہاں پہنچے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک جم غفیر کو آپ کی نماز جنازہ پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔

Shah Abdul Aleem Siddiqui RA(شاہ عبدالعلیم الصدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ

گزشتہ سے پیوستہ
سیاسی رہنمائی:
آپ علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کو سیاسی میدان میں بھی تنہا نہ چھوڑا بلکہ سیاست میں بھی بھرپور اور سرگرم حصہ لیا۔ آپ علیہ الرحمہ نے سیاست میں بھی تمام پہلوؤں سے امت مسلمہ کی بھرپور رہنمائی فرمائی۔اس رہنمائی کا ایک ہلکا سا خاکہ جناب علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب علیہ الرحمہ کے الفاظ میں پیش خدمت ہے:
"آپ کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ دنیا کے کسی گوشے میں مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھایاجاتا تو آپ بے چین ہوجاتے ۔ تحریک خلافت ، شدھی تحریک اورتحریک پاکستان میں مردانہ وار حصہ لیا۔ صرف پاک و ہندہی میں نہیں بلکہ دیگرممالک میں بھی تحریک پاکستان کے لیے فضا ہموار کی۔ مصراورانگلینڈ میں کانگریسی ایجنٹوں سے مناظرے کیے، مسلم لیگ کی طرف سے باقاعدہ طورپرعلماء کی ایک جماعت کے قائد کی حیثیت سے حج کے موقع پر مکہ مکرمہ جاکر دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے مسلمانوں کے سامنے پاکستان کی اہمیت کو واضح کیا۔مفتی اعظم فلسطین سید امید الحسینی،حسن البناء قائد اخوان المسلمین، سید عبداللہ شاہ (اردن) اوردیگرعرب لیڈروں کوتحریکِ پاکستان سے پوری طرح روشناس کرایا۔
1946ء میں آل انڈیا سنی کانفرنس ،بنارس میں شرکت فرمائی اورعلی الاعلان تحریکِ پاکستان کی حمایت فرمائی۔ قائد اعظم کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے عالمی دورے سے واپسی پر کراچی میں عظیم کانفرنس منعقد کی جس میں سندھ پنجاب اورمشرقی پاکستان کے اکابرعلماء ومشائخ نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے لیے آئین اسلامی کے جامع دستور کا مسوّدہ تیارکرلیاگیا۔علماء نے تائیدی نوٹ لکھے اورحضرت مولاناصدیقی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی سرکردگی میں قائد اعظم کی خدمت میں مسوّدہ آئین پیش کیاگیا۔ ۔ قائداعظم نے تین گھنٹہ تک مسوّدہ آئین کے مختلف پہلوؤں پرگفتگوکی حضرت مولانا نے انہیں اس خوش اسلوبی سے مطمئن کیا کہ قائداعظم نے یقین دلایا کہ انشاء اللہ قومی اسمبلی کے منظورکرنے پر بہت جلد یہ آئین نافذ کردیاجائے گا۔ اس کے بعد جلد ہی ان کی وفات ہوگئی اورقائداعظم علماء کرام سے کیاہوا یہ وعدہ ایفاء نہ کرسکے۔یاد رہے کہ پاکستان بننے کے بعد قائداعظم نے پہلی نماز آپ ہی کی اقتداء میں اداکی تھی"( تذکرہ اکابر اہلسنت ، علامہ عبدالحکیم شرف قادریؒ،( مبلغ اسلام حضرت مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی،ص241))
حسن البناء کا آپ کو خراج تحسین پیش کرنا:
حضرت جناب علامہ عبدالحکیم شرف قادری علی الرحمہ نے حسن البناء شہید کے اس خراج تحسین کواپنے مضمون میں کچھ یوں نقل کیا:
"کما کان من فضل اللہ وتوفیقہ ان التقینا منذ عامین فی الارض المقدسۃ وعندالبیت العتیق بصاحب الفضیلۃ والداعیۃ الاسلامی الشیخ محمد عبدالعلیم الصدیقی۔۔۔۔۔ ونحن نسال اللہ تبارک وتعالیٰ ان یجزی الاستاذ المفضال الشیخ محمد عبدالعلیم الصدیقی المسلمین عامۃ خیر جزاء۔"
"اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دوسال ہوئے ہماری ملاقات ارض مقدس میں بیت اللہ شریف کے پاس صاحب فضیلت مبلغ اسلام الشیخ محمد عبدالعلیم صدیقی سے ہوئی۔(کچھ عبارت کے بعد) ہم اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاکرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صاحب فضلیت استاذ شیخ محمد عبدالعلیم صدیقی کوتمام مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطافرمائے۔"( تذکرہ اکابر اہلسنت ، علامہ عبدالحکیم شرف قادریؒ،( مبلغ اسلام حضرت مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی،ص240))
رحلت :
آپ نے رنگ ونسل، قوم وملک ، مسلک و مشرب،فرقہ واریت اورگروہ بندی سے بلند ہوکر ہرقوم، مذہب اور رنگ کے افراد تک اللہ رب العزت کے پیغام کو پہنچایا۔اس بات کا سب سے بین اورواضح ثبوت نہ صرف آپ کی تحاریر وتقاریر ہیں بلکہ آپ کی رحلت کی تاریخ ومقام بھی ہے۔ یعنی آپ کی رحلت کامہینہ اور تاریخ دیکھی جائے تو بے اختیار زبانیں رب کی پاکی بیان کرنے لگیں کہ واہ سبحان اللہ! کیا ہی پاک طینت نفوس قدسیہ میں سے آپ کا وجود تھا ۔آپ حجاز مقدس میں ذی الحجہ کی ٢٣ویں تاریخ کو١٣٧٣ھ بمطابق ٢٢، اگست ١٩٥٤ء اس فانی اوربے ثبات عالَم سے روانہ ہوئے یعنی سادہ الفاظ میں آپ کی رحلت کا وقت اورمقام اس بات کی شہادت اور ثبوت ہے کہ بلاامتیاز اوربلاتفریق سب تک دین کا پیغام خلوص اورللہیت سے پہنچایاکیوں کہ جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی وہ اسلام کا مرکز ،جس ماہ آپ کاوصال ہوا وہ مسلمانوں کے اجتماع عظیم کا مہینہ یعنی حج کے بابرکت مہینے میں حج کی ادائیگی کے بعد آپ کی وفات ان ہی دنوں میں ہوئی جب دنیا کے تمام گوشوں ، اطراف،اور کونوں سے مسلمان وہاں پہنچے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک جم غفیر کو آپ کی نماز جنازہ پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔جیسا کہ خلیل احمد رانا نے اپنی کتاب مبلغ اسلام ،علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ میں تحریر کیاہے:
"آپ کی نماز جنازہ میں دنیائے اسلام کے ان تمام مسلمانوں نے شرکت کی جو حج سے فراغت کے بعد مدینہ منورہ روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے۔"( مبلغ اسلام ،علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی،ص 63)
آپ مسلمانوں کو متحد اورمتفق دیکھنا چاہتے تھے۔اس طرح آپ دنیائے اسلام کے لیے وحدت ، اتحاد، اتفاق کا پیغام لائے ۔ اسی انداز سے آپ اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ اور حسنِ اتفاق دیکھئے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر قمری لحاظ سے تقریباً ٦٣ برس تھی۔ اس طرح عمرمیں بھی آپ نے حضور ﷺ کی سنت پر عمل فرمایا۔
نورٌ علیٰ نور:
سنن النسائی کی ایک حدیث میں آتا ہے جس شخص کاانتقال اپنی جائے ولادت سے دور ہواس کی قبر (اس کے جائے ولادت سے جائے وفات تک )کوجنت کا ایک باغ بنادیاجاتاہے یعنی قبراتنی کشادہ کردی جاتی ہے۔ سنن نسائی کی روایت ملاحظہ ہو:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ. ( سنن النسائی)
"حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک آدمی کا مدینہ میں انتقال ہوا جس کی پیدائش بھی مدینہ میں ہوئی تھی۔آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اورپھر کہا کہ کاش اس کا انتقال کسی دوسرے خطے میں ہوتا،صحابہ نے عرض کی اورایساکیوں اے اللہ کے رسول ﷺ،آپ ﷺ نے فرمایا اس لیے کہ بے شک جب آدمی کا انتقال ایسی زمین میں ہوتاجہاں اس کی پیدائش نہ ہو ۔ اس کے لیے اس زمین جہاں اس کاانتقال ہوا ہو وہاں سے اس کے پیدائش کے مقام تک پیمائش کی جاتی ہے ۔"
تو اس طرح آپ علیہ الرحمہ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہوئی کہ آپؒ کی پیدائش میرٹھ ،انڈیا میں ہوئی۔جہاں سے آپ علیہ الرحمہ ہجرت کرکے کراچی،پاکستان تشریف لائے اور آپ کا وصال مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ اپنی زندگی کے اس سفر کے ختم ہونے کا بڑی بیتابی سے انتظار فرمارہے تھے جس کا شاید آپ کو پہلے ہی سے علم تھا کہ یہ مدینہ منورہ پر جاکر ختم ہوگا۔بقول حفیظ الرحمن احسن
سفر تمام ہو کب منزلِ مدینہ کا
کہ مدتوں سے دیارِ کرم کی راہ میں ہوں
نیز کہا جاتا ہے انسان کا وجود جس جگہ کی خاک سے بنتا ہے وہی مقام اس کا مرقدومدفن ہوتا ہے۔عربی زبان میں ایک محاورہ ہے کہ "کل شیء یرجع الی اصلہ ''ہر شے اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔یا بقول مرزا جواں بخت جہاں دار:
؎ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
توگویا آپ کا وجود بنا ہی یہاں کی خاکِ پاک سے تھا۔اور یوں توویسے بھی آپؒ کے جد امجد سیدناحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور پرنور علیہ الصلاۃ والتسلیم کے پہلو میں ہی ابدی نیند سورہے ہیں ۔
ہوئی حبیب کے پہلو میں خوابگاہ نصیب
خصوصیت یہ اگر ہے تو یارغار میں ہے
آپ علیہ الرحمہ کی طبیعت پر مدینہ منورہ سے بُعد اوردوری گراں گزرتی تھی ۔آپ کے لیے یہ فرقت وہجرکے ایام تنگی ،بیقراری اوراضطراب کا باعث بنتے تھے۔ آپ عالمی تبلیغی مشن پر نبی کریم ﷺ سے اجازت نامہ (حکم نامہ)ملنے کے بعد ہی سفر فرمایا کرتے تھے۔لیکن آپ کی آرزو اور خواہش یہی تھی کہ زندگی بھی آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم ہائے مبارک میں گزاریں اوربعد ازوصال بھی ان ہی کے قدمہائے مبارک میں جگہ پاسکیں ۔ جس کااظہار آپ اکثر شعر کی صورت میں فرمایا کرتے تھے۔
علیم خستہ جاں تنگ آگیا ہے درد ہجراں سے
الہی کب وہ دن آئے کہ مہمان محمد ( ﷺ) ہو
اور یہ آپ کی صرف تمنا،آرزو اور خواہش ہی نہیں بلکہ جذبہ دل،جنون اور تڑپ بن چکی تھی اور جب کوئی تمنا جنون، خواہش جذبۂ دل اور آرزو تڑپ بن جائے اس پر مستزادانسان کا شوق(لقاء) مچل جائے اوراس کے اختیار سے باہر ہوجائے اور وہ ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہا ہو تو ایسی صورت میں صرف یہی کہا جاسکتاہے ۔
اے شوق مچل اے پاؤں ٹھہر
اے دل کی تمنا خوب تڑپ
پھراس شوق کے مچلنے ،دل کے تڑپنے اورشعلۂ محبت کے بھڑکنے نے آپ علیہ الرحمہ کو عشق کے اس مقام پر پہنچادیا جہاں کہاجاتاہے :العشق نار تحرق ما سوی المحبوبِ ۔"عشق ایسی آگ ہے جو محبوب کے علاوہ ہر چیز کو جو غیر ہو جلا ڈالتی ہے"۔ جب انسان ایسے عشق میں مبتلا ہواوراس کے ساتھ انسان سراپا عجزو انکسار، خلوص اور یقین کاپیکر بن کر دعا کے لیے ہاتھ بارگاہِ ایزدی میں بلند کرے اور ہاتھ بلند کرنے کے ساتھ اس کی آنکھیں بھی اشکبار ہوں تو وہ دعا ضروربالضرور شرف قبولیت پاتی ہے۔ بقول حسرت موہانی:
کیوں نہ مقبول ہو دعائے خلوص
کہ اثر خود ہے خاکپائے خلوص
اللہ رب العزت نے آپ کا آخری مسکن، مرقد ،مدفن اورمزار مدینہ منورہ میں جنت البقیع کو منتخب کیا۔آپ کو جنت البقیع میں سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قدمہائے مبارک میں جگہ ملی یعنی کہ عالم اسلام کے مرکز میں آپ کی رحلت کا عظیم سانحہ پیش آیا اور وہیں آپ کودفن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ علیہ الرحمہ کو یہ سعادت صرف عشق حقیقی ہی کی بدولت میسرآئی تھی۔ کیونکہ یہ عشق ہی ہے جو ایک ہی جست میں اہل زمین کو بیکراں آسمان کی سیر کراسکتاہے بلکہ اس آکاش سے بھی اوپرلے جاسکتاہے ۔جیسا کہ حضرت ڈاکٹر علامہ اقبال علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
عشق کی ایک جست نے طے کردیا قصہ تمام
اس زمیں و آسماں کو بیکراں سمجھتا تھا میں
تقرر جانشین کی پرکیف اوردلفریب تقریب:
حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی القادری رحمۃ اللہ علیہ کا جانشین مقرر کرنے کا انداز بھی بڑا ہی دلفریب، پراسرار اور پروقار تھا۔یہ پراسرار، پروقاراورپرکیف تقریب کعبہ کے حطیم میں منعقد کی گئی۔آپ نے اپنے پیارے داماد سے پہلے تمام سلسلوں میں بیعت لی۔ مثلاً قادریہ،چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ ، شاذلیہ اورپھر انہیں تمام سلاسل کی اجازت اور سند دی ۔اس طرح آپ کی بزرگی اور بڑائی کی یہ ایک اور دلیل تھی کہ آپ نے اس امت کو مستقبل کا قائد اوراپناجانشین بھی عطافرمایایعنی اپنے زمانے کے سمندر سے ایک ایسا قابل، نایاب گوہر نکالا،تراشااور اسے کندن بنایا تاکہ مستقبل میں بھی وہ آپ کا مشن نہ صرف جاری رکھ سکے بلکہ مزید آگے بھی بڑھاسکے۔
وہی صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا (اقبال)
عرس مبارک:
ادارہ ہذا میں آپ علیہ الرحمہ کا عرس مبارک ہرسال 22 ذی الحجہ کو منایا جاتاہے ۔عرس منانے کی غرض وغایت کے سلسلے میں ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ نے حضرت صاحب کے تیسرے عرس کے موقع پرجو پیغام دیاتھا قارئین کے استفادے کے لئے اس کے ایک اقتباس کا ترجمہ یہاں نقل کیاجارہاہے:
"22 ذی الحجہ ہمارے پاک سلسلے کی تاریخ میں بہت اہم دن ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب ہمارے پیارے مرشد عظیم مبلغ حضرت علامہ مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ جنہوں نے موجودہ دور میں تبلیغی(اسلام) کام کے لئے نئی راہیں ور نئی جہتیں متعین کیں، نے اپنی سعید زندگی کی آخری سانسیں مدینہ منورہ میں گزاریں اور اپنا عظیم ومقدس تبلیغی کام ہمیں سپردکرکےاپنے رب کی طرف پلٹ گئے۔اس لئے یہ دن ہمارے لئے بہت خاص ہوناچاہئے کہ ہم اپنا جائزہ لیں ، اپنے رب ،اپنے پیارے آقا ومولیٰ حضرت محمد ﷺ اوراپنے سلسلے کے تمام روحانی رہنماؤں بالخصوص ہمارے مرشدکریم کو یاد کریں۔ہمارا اپناجائزہ لینا ہمیں ماضی میں کی گئی غلطیوں سے آگاہ کرے گا تاکہ مستقبل میں ہم ان غلطیوں کی اصلاح کرلیں اورہمارا ( بزرگان دین کو یاد کرنا) اورعزم نو کرنا ہمیں تقویت دے گا کہ ہم اسلام کی برکتوں، رحمتوں کو اپنے اندرسموتے ہوئے تمام انسانیت تک منتقل کریں۔"
(The Beacon Light (Third Urs) Pg 476)
حضرت صاحب کے عرس کا باقاعدہ آغاز قرآن خوانی سے کیاجاتاہے ۔ اس کے بعد طلباء کے درمیان اردو،انگریزی اورعربی تینوں زبانوں میں تقریری مقابلہ کا انعقاد کیاجاتاہے۔اوران مقابلوں میں اول دوم سوم آنے والے طلباء کو سرٹیفکیٹ سے نوازا جاتاہے۔
اس عرس کی تقریبات میں بعض اوقات دیگر پروگرام بھی ترتیب دیئے جاتے ہیں ۔تاکہ طلباء کی دلچسپی برقرار رہے اوروہ آپ علیہ الرحمہ کے پیغام کو اپنے قلوب میں راسخ کرکے آپؒ کے پیغام کو جس حد تک ممکن ہو عام کریں۔ مثلاً یکم اکتوبر2016 کو عرس کے موقع پر ادارے کے دو طلباء نے حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی ؒ اورجارج برنارڈ شا کے درمیان ہونے والے مکالمہ کو ڈائیلاگ کی شکل میں بہت ہی عمدگی اوراحسن انداز سے پیش کیا۔اس ڈائیلاگ میں جناب محمدحسین نوری (ساؤتھ افریقہ)نے حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ کا کردار ادا کیا اورجناب ذیشان احمدخان (اسلام آباد)نے جارج برنارڈ شا کا کردار اداکیا۔دونوں ذہین، ہونہار اورمحنتی طالب علموں نے یہ کردار اس خوبی سے نبھایا دیکھنے والے داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور عش عش کراٹھے۔اس پروگرام کی ویڈیو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
خلاصہ کلام:
آپ علیہ الرحمہ کی زندگی ابتداء سے انتہاء تک کے تمام مراحل وادوار پر اگرغورکیاجائے تو ایسا محسو س ہوتاہے کہ آپ علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت،نام نامی اسم گرامی، حسب و نسب ،بیعت و خلافت وجانشینی ، اولاد امجاد،رحلت حتی کہ تجہیز وتکفین اورمزارمبارک یعنی حیات معدوہ کے تمام شمارکئے گئے لمحات و واقعات انتہائی عظمت،بڑائی،بزرگی،پاکیزگی اورولایت کی گواہی دیتے ہیں ۔اس حد تک بزرگی ، عظمت اوربڑائی کسی اتفاق یاحادثہ کا نتیجہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے پیچھے ولایت ، سعادت اور خوش بختی ہی کا فیصلہ کار فرما نظر آتا ہے۔ جیسا کہ عربی مقولہ ہے السعادۃ قبل الولادۃ''سعادت(خوش بختی) کا فیصلہ ولادت سے قبل کردیا جاتا ہے۔''اور العنایۃ قبل الولایۃ اور'' عنایت ولایت سے قبل ہوتی ہے۔''

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 182 Print Article Print
About the Author: Abu Abdul Quddoos Muhammad Yahya

Read More Articles by Abu Abdul Quddoos Muhammad Yahya: 64 Articles with 51007 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: