نواز شریف کو جانے دیں

(Zahid Abbasi, )

میرا دوست بضد تھا کہ نواز شریف کی سزا معطل کرکے اسے ملک سے باہر جانے دیا جائے اسی میں پاکستان اور موجودہ حکومت کا فائدہ ہے لیکن میں اسکی بات نہیں مان رہا تھا ۔ آخر میں نے اسے کہا کہ تم کن وجوہات کی بناء پر ایک سزا یافتہ مجرم کو یہ رعائت دلانے پر تلے ہوئے ہو جبکہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی یہ استدا مسترد کر دی ہے ، تو اس نے مجھے جو وجوہات بتائیں وہ قارئین کے گوش گزار کیئے دیتا ہوں اور یہ فیصلہ بھی پڑھنے والوں پہ چھوڑتا ہوں کہ آیا ان وجوہات میں اتنا دم ہے کہ نواز شریف کو جانے دیا جائے ؛

۱۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اس حساب سے وہ ایک VVIPمجرم ہیں ۔سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں VIPمجرموں کیلئے VIPسہولیات فراہم کی جاتی ہیں جیسے کلاس بی وغیرہ ۔ VIPمجرموں کو جو سہولیات دی جاتی ہیں ان پر اٹھنے والے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا ہوتے ہیں اسطرح VIPمجرمان سرکاری خرچ پر جیل میں ایک شاہانہ زندگی گزارتے ہیں ۔ اگر نواز شریف کو جیل میں رکھا جائے گا تو اس پر ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہونگے ۔ نواز شریف کو سات سال کی سزا ہوئی ہے سات سال میں84مہینے ہوتے ہیں ۔اگر نواز شریف کو جیل میں رکھنے پر ایک لاکھ روپیہ ماہانہ بھی خرچ ہو تو 84ماہ میں نواز شریف پر 84لاکھ روپیہ خرچ ہوگا ۔ اگر نواز شریف کو جانے دیں تو یہ پیسہ بچ سکتا ہے ۔

۲۔نواز شریف بیمار ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں بیشمار بیماریاں تشخیص کی ہیں ۔جیل میں قیدیوں کا علاج کرانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ نواز شریف کو جو بیماریاں ہیں وہ بھی VIPقسم کی ہیں جن کا علاج عام معالج نہیں کر سکتے بلکہ انکے علاج کیلئے بڑے ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے اور ظاہرہے بڑے ڈاکٹر وں کا مطلب ہے بڑی فیس بڑا خرچہ جو کہ حکومت کو ادا کرنا ہوگا اور یہ سرکاری خزانے پر ایک اضافی بوجھ ہوگا، اگر نواز شریف کو جانے دیں تو یہ پیسہ بھی بچ سکتا ہے ۔

۳۔وزیر اعظم کی تنخواہ، یومیہ اور استحقاق کے قانون مجریہ 1975ترمیمی حکم مجریہ 2012کی دفعہ 17کے تحت تمام سابقہ وزراء اعظم کو عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعدتاحیات سیکیورٹی حاصل رہے گی ۔اس قانون کے تحت نواز شریف بطور سابق وزیر اعظم قانونی طور پر سیکیورٹی کے حقدار ہیں اور وفاقی حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ انہیں یہ سہولت مہیا کرئے ۔ نواز شریف کی سیکیورٹی اور پروٹو کول پر بھی لاکھوں روپے خرچ ہونگے اوریہ بھی سرکاری خزانے سے ادا کیئے جائیں گے لیکن اگر نواز شریف کو جانے دیا جائے تو یہ پیسہ بچ سکتا ہے ۔ اسی سے منسلکہ ایک اور نکتہ ہے اور وہ یہ کہ اگرحکومت نواز شریف کومناسب سیکیورٹی مہیا نہیں کرتی اور سرکاری تحویل میں نواز شریف کو کچھ ہو جاتا ہے ۔فرض کریں عدالت لاتے لیجاتے نواز شریف پر کو ئی دہشتگردحملہ ہو تا ہے جیسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر ہواتھا جس میں انکی قیمتی جان چلی گئی تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت وقت پر عائد ہوگی اور عمران خان بطور چیف ایگزیکٹو اسی طرح اسکے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے جیسے بینظیر بھٹو شہید کے کیس میں پرویز مشرف بطور چیف ایگزیکٹو آج تک ٹھہرائے جاتے ہیں ۔ ا س داغ کو اپنے دامن سے دور رکھنے کیلئے عافیت اسی میں ہے کہ نواز شریف کو جانے دیا جائے۔

۴۔اسمبلی کے ایک اجلاس پر ٹیکس دہندگان کے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن اجلاس میں گالم گلوچ اور مار کٹائی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ایک indirect نقصان ہے جو نواز شریف کو جیل میں رکھنے سے ہو رہا ہے ۔ یہ کروڑوں روپے ضائع ہونے سے بچائے جا سکتے ہیں اگر نواز شریف کو اس understandingکے تحت جانے دیا جائے کہ ن لیگ اسمبلی میں اپنا رویہ درست رکھے گی اور قانون سازی میں تعاون کرئے گی ۔حکومت کب تک صدارتی آرڈیننس جاری اور ان میں توسیع کرتی رہے گی ۔صدارتی آرڈیننس باقاعدہ قانون سازی کا نعم البدل نہیں ہو سکتے اور باقاعدہ قانون سازی کرنے کیلئے حکومت کے پاس عددی اکثریت نہیں ہے ۔وزیر اعظم صحافیوں سے تعاون مانگتے پھر رہے ہیں ۔ بھلا صحافی قانون سازی اور سیاسی معاملات پر حکومت کو کیا تعاون دے سکتے ہیں جبکہ وہ خود حکومتی پالیسیوں سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں؟

۵۔نیشنل ایکشن پلان، مدرسہ ریفارمز، معیشت ،عدالتی اصلاحات ،بجٹ ، نیب، فوجی عدالتیں،سیکیورٹی ان تمام معاملات پر حکومت کو اپوزیشن کا تعاون در کار ہے ۔ موجودہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی کمی ہے بصورت دیگر اگر اپوزیشن متحد ہوتی یا ہو جاتی ہے تو اس حکومت کی بساط لپیٹنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ایسی صورت حال میں سیاسی بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے نواز شریف کو تھوڑی سی ڈھیل دیکر ن لیگ سے بڑے کام لیئے جا سکتے ہیں ۔ نواز شریف کو جیل میں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اسے ذرا سی رعائت دیکر حکومت کو بہت بڑا فائدہ ہو سکتا ہے ۔ اس سے ن لیگ Friendly Oppositionکا راستہ اختیار کر سکتی ہے اور اگر ن لیگ ایسا کرتی ہے تو پھر عمران خان کو Walk overمل جائے گا اور پی ٹی آئی اپنے ایجنڈے کے مطابق کام کر سکے گی ۔رہی بات پیپلز پارٹی کی تو اسکی سیاست دم توڑ چکی ہے ۔

۶۔انصاف کے تقاضے پورے ہو چکے ہیں ۔ نواز شریف کو سزا مل چکی؛ وہ تاحیات الیکشن کے میدان سے باہر ہو چکے ، وہ تاحیات اپنی پارٹی کی صدارت سے محروم ہو چکے ، انہیں کرپشن پر سزا سنائی جا چکی ، وہ جیل کی ہوا کھا چکے اور سب سے بڑی سزا یہ کہ انکے خاندان کا شیرازہ بکھر چکا ؛ بیوی دنیا سے رخصت ہوگئی، بیٹے مفرور ہوگئے، خود پر اور بیٹی پر سزا یافتہ کا لیبل لگ چکا ، سیاست دفن ہو چکی ۔ اب نواز شریف جیل میں رہیں یا لندن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔رہی یہ دلیل کہ پاکستان کے قانون کے تحت کسی سزا یافتہ مجرم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور یہ کہ پاکستان میں اسکی کوئی قانونی نظیر نہیں ملتی ۔ یہ نکتہ اپنی جگہ درست ہے ۔ لیکن پاکستان میں اسکی بھی کوئی قانونی نظیر نہیں ملتی کہ کسی Sitting Prime Ministerکو جھوٹ بولنے پر تاحیات نا اہل قراردیا گیا ہو ، اس سے پارٹی صدارت چھین لی گئی ہو اور اس پر سیاست کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کر دیئے گئے ہوں۔ قانون میں ہر نکتہ پہلے سے طے نہیں ہوتا ۔ جب کوئی نکتہ پہلی بارعدالت کے سامنے آتا ہے تو وہ Matter of First Instanceکہلاتا ہے عدالت اس نئے نکتے پر جو فیصلہ دیتی ہے اسے پھر بعد میں آنے والے اسی نوعیت کے معاملات میں نظیر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔اس طریقے سے Precedentsسیٹ ہوتی ہیں لیکن اگر ہر نئے نکتے کو عدالت یہ کہہ کر رد کر دے گی کہ اسکی پہلے کوئی نظیر موجود نہیں تو پھر تو کوئی نئی نظیر Setہی نہیں ہوگی اور یہ قانون کی بنیادی روح کے منافی ہوگا کیونکہ قانون ایک متحرک شے کا نام ہے یہ کوئی جامد چیز نہیں کہ جس میں کوئی نئی مثال قائم نہیں کی جا سکتی ۔قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ جو پہلے کبھی نہیں ہوا وہ آئیندہ کبھی ہو بھی نہیں سکتا۔ برطانیہ میں سزا معطلی کا قانون موجود ہے ۔مجرم آدھی سزا جیل میں کاٹتا ہے اوراسکی آدھی سزا معطل کرکے اسے کچھ شرائط کے تحت جیل سے رہا کر دیا جاتا ہے ۔ البتہ اگر وہ مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے وآپس جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ نواز شریف کے ساتھ بھی کچھ شرائط کے تحت یہ معاملا کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے پہلے ہی انہیں 6ہفتے کی مشروط رہائی دیکر مثال قائم کر دی ہے ۔ اب تو صرف مدت بڑھانے اور باہر جانے کی اجازت کا اضافہ ہی کرنا باقی رہ گیا ہے ۔

۷۔ ن لیگ سے متعلق یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پیپلز بارٹی کے بر عکس یہ جماعت antiنہیں بلکہ proاسٹیبلشمینٹ ہے ۔ اس نے اسٹیبلشمینٹ کی کوکھ سے جنم لیا ہے اس لیئے ن لیگ بطور ایک سیاسی جماعت اسٹیبلشمینٹ کی Team Bہو سکتی ہے ۔ جو لوگ اس بیانیہ کو لیکر چل رہے ہیں کہ عمران خان پاکستان کی سیاست میں آخری Optionہے یا یہ کہ عمران خان کا کوئی متبادل نہیں ہے تو وہ غلطی پر ہیں ۔ نواز شریف آج بھی ایک مقبول لیڈر ہیں اور ن لیگ کا ووٹ بینک اب بھی قائم ہے اگر ن لیگ کا ووٹ بینک ختم ہو چکا ہوتا تو 2018کے الیکشن میں عمران خان دو تہائی اکثریت لیکر کامیاب ہوتے جبکہ وہ دو تہائی اکثریت لینا تو دو ر کی بات سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکے ۔ اگر عمران خان اور پی ٹی آئی ناکام ہوتے ہیں تو اسٹیبلشمینٹ ملک کے وسیع تر مفاد میں ن لیگ کو آگے لا سکتی ہے (چہرہ کوئی بھی ہو سکتا ہے)۔ پی ٹی آئی کے پاس اسد عمر کا کوئی متبادل نہیں تھا تو پیپلز پارٹی دور کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو ملک کے وسیع تر مفاد میں نئے پاکستان کا وزیر خزانہ نامزد کروایا گیا اور وہ بھی صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اسٹیبلشمینٹ کے پاس پلان بی ،سی ہر وقت تیار ہوتاہے اسلیئے یہ کہنا کہ عمران خان آخری آپشن ہیں یا انکا کوئی متبادل نہیں ، یہ محض خام خیالی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر میر ظفر اﷲ جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور شوکت عزیز اس ملک کے پرائم منسٹر نہ بنے ہوتے۔ ان میں سے کوئی پلان اے تھا تو کوئی بی اور سی ۔

۸۔نواز شریف کو ڈھیل دینے سے مراد یہ نہیں کہ احتساب کا عمل روک دیا جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک سیاسی ہم آہنگی اور مفاہمت پیدا کر لی جائے تاکہ کاروبار مملکت خوش اسلوبی سے چلایا جا سکے اس سے عوام کوبھی فائدہ ہوگا اور ملک بھی آگے بڑھے گا۔ رہی بات احتساب کی تو وہ نیب کا کام ہے ۔ نیب اپنا کام کرئے سیاستدان اپنا کام کریں ۔

اپنے دوست کی تفصیلی وجوہات سننے کے بعد میرا ذہن کسی حد تک اسکی باتوں سے متفق ہے کیونکہ نواز شریف کو پاکستانی ٹیکس دہندگان کے پیسے پر کیوں پالا جائے ؟ اسے جیل سے نکالیں ، وہ اپنے خرچے پر لند ن سے علاج کرائے یا دوبئی سے ، اپنی سیکیورٹی کا بندوبست خود کرئے ، خوامخواہ پاکستان کے عوام جیل میں اسکی شاہانہ زندگی اور علاج معالجے کا بوجھ کیوں اٹھائیں ؟ اسے جیل میں رکھ کر نہ تو پاکستان کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی اس سے عوام کا کوئی بھلا ہوگااور نہ ہی انصاف کا قد اونچا ہوگا ۔ اسلیئے نواز شریف کو جانے دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahid Abbasi

Read More Articles by Zahid Abbasi: 24 Articles with 11546 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 May, 2019 Views: 334

Comments

آپ کی رائے