پاکستان،ترکی او رملیشیاء کا نیا اتحاد ۰۰۰ کس حد تک کامیاب؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

کشمیرسے دفعہ 370کی برخواستگی کا مسئلہ اپنی جگہ ۰۰۰ہندوستانی وزیر اعظم کی عالمی سطح پر پذیرائی اور ایوارڈس ہمارے لئے باعثِ افتخار ۰۰۰ لیکن ملک کے تمام عوام کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ کرتے ہوئے کسی ریاست خصوصاً کشمیر ی عوام کے ساتھ ظالمانہ کارروائیاں کرنے کیلئے سیکیوریٹی ایجنسیوں کو کھلی چھوٹ دینا اس وزیر اعظم کیلئے ایک ایسا نشانِ ملامت بن جائے گا جنہوں نے عالمی سطح پر تو خراجِ تحسین حاصل کیا اور اپنے ہی ملک کے عوام میں ایک ظالم حکمراں کی حیثیت پائی۔ اگر وزیر اعظم ہند نریندر مودی کشمیری عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنا چاہتے ہیں تو وہ فوراً کشمیری حالات کو بہتر بنانے کے لئے کرفیو برخواست کریں اور ریاست میں گرفتار کئے گئے افراد بشمول معصوم بچوں اور نوجوانوں کو آزاد کریں ۔

کشمیری عوام گذشتہ بچاس سے زائد دنوں سے بھوک و پیاس اور نہیں معلوم کن کن آفات اور بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ نریندر مودی حکومت کی جانب سے جس طرح کشمیری عوام کو اپنے گھروں میں قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور کرکے رکھ دیا ہے۔ عوام سے بات چیت کے ذرائع بند کردیئے گئے۔ حالات کتنے خطرناک ہیں اور مظالم کا سلسلہ کتنا شدت اختیار کرتا جارہا ہے اس کے خلاف کوئی رپورٹ نہیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی رپورٹس سے پتہ چلتا ہیکہ معصوم معصوم بچوں کو تک فوج اور سیکوریٹی عہدیدار حراست میں لے لئے ہیں۔ حکومت ہند کشمیری عوام کو دیگر ابنائے وطنوں کی طرح خوشحال زندگی فراہم کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بات کی تھی لیکن موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ کشمیری عوام پر جو ظلم و زیادتی کی جارہی ہے شاید مودی سرکاری قہر خدا وندی کی شکار ہوجائے گی اور جو لوگ اپنے مفاد کیلئے ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور مودی حکومت کے تماش بین بنے ہوئے ہیں وہ بھی خالقِ الٰہی کے سامنے ظالم ہی قرار پائیں گے ۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح عالمی سطح پر اپنی شخصیت کو منوانے کی سعی کررہے ہیں اور عالمی سطح پر ان کی پذیرائی ہورہی ہے شاید بہت جلد انہیں ان معصوم بچوں اور بے قصور نوجوان مرد و خواتین اور ضعیف افراد کی آہ و بکا اور غمخواری کی الم ناک آہوں کا بدلہ ملے گا۔ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کس نوعیت کے ہیں اسکی خبریں تک منظر عام پر نہیں آسکتی کیونکہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا وغیرہ کی ترسیل حکومت نے بند کررکھی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کشمیری عوام کے مسئلہ کو حل کرنے اور ان مظلوموں پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں ہیں اور ان مظلوموں کو امن و آمان وخوشحال زندگی فراہم کرنے کے لئے جس طرح عالمی سطح پر کوشش کررہے ہیں یہ قابلِ تقلید اور لائق ستائش ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی آواز پر ایک اور بین الاقوامی شخصیت رجب طیب اردغان صدر ترکی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن ممکن نہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور اس موقع پر اپنی تقریر میں کشمیر کے محاصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود 80لاکھ لوگ کشمیر میں بد قسمتی سے آج بھی محصور ہیں۔ طیب اردغان نے کہا کہ دنیا کے مستقبل کو صرف پانچ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے نیو یارک میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران صدر ترکی رجب طیب اردغان کی جانب سے کشمیر کے مسئلہ کو اٹھائے جانے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ صدر رجب طیب اردغان کے اس بیان کو کہ’ جنوبی ایشیاء کے استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے الگ نہیں کیا جاسکتا‘ نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات بڑے مثالی ہیں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردغان آئندہ ماہ پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عمران خان اپنے دورہ امریکہ سے قبل سعودی عرب کا دورہ کرچکے ہیں اور وہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اور فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کرکے کشمیر کے مسئلہ کے حل کیلئے بات چیت کرچکے ہیں لیکن عالمی سطح پر کسی بھی اسلامی ملک نے عمران خان کا ساتھ نہیں دیا سوائے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے۔عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد جس طرح پاکستان کی معیشت کی بہتری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے کوشاں دکھائی دیتے تھے اور ساتھ میں پڑوسی ممالک خصوصاً ہندوستان کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات کی امید کئے ہوئے تھے اس پر پاکستان میں اپوزیشن اور پڑوسی ملک ہندوستان کی نریندر مودی حکومت نے ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے نہ دیا ۔ لیکن ایک مردِ مجاہد کی طرح عمران خان پاکستان میں دو محاذوں یعنی دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمہ کیلئے اپنا اقتدار داؤ پر لگائے ہوئے ہیں ۔اب دیکھنا ہیکہ ان کے اقتدار میں ملک ترقی کی کن راہوں پر چل پڑتا ہے اور کرپشن کاخاتمہ کس حد تک ہوپاتا ہے، یہی نہیں بلکہ ملک میں دہشت گردی پر کس طرح قابو پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو پاکستانی فوج اور عدلیہ کا مکمل تعاون حاصل ہے اور وہ اسی تعاون کے پیشِ نظر اپنی ہچکولے کھاتی کشتی کو خطرناک لہروں اور طوفانی آندھیوں کے پیچ سے کامیابی کے ساتھ کنارے لاکھڑا کرنے کی سعی میں مصروف عمل ہیں۔دیکھنا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی جانب سے اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد دیگر اسلامی و غیر اسلامی ممالک کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کیلئے نریندر مودی حکومت ان دو عالمی قائدین کے خطاب کے بعد مظلوم کشمیری عوام کے تیئں نرم رویہ اپناتی ہے یا پھر وہی ظلم و بربریت جاری رکھتی ہے۔ اگر کشمیر میں حالات پرسکون اور بہتر ہیں تو پھر حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ کرفیو برخواست کریں اور عوام کو ایک دوسرے سے بات چیت کیلئے سیل فون سرویسز اور ذرائع ابلاغ بحال کریں۔

تینوں عالمی مسلم رہنماؤں کا اتحاد اور اردغان کا دورہ پاکستان
پاکستان، ترکی اور ملیشیاء نے ایک نیا محاذ تشکیل دیا ہے۔ اب تینوں ممالک مشترکہ طور پر انگلش ٹی وی چیانل شروع کریں گے، تاکہ عالمی برادری کو اسلام سے متعلق صحیح معلومات فراہم کی جاسکے۔ عمران خان ، رجب طیب اردغان اور وزیر اعظم ملیشیاء مہاتر محمدکی جانب سے نئے محاذ کی تشکیل کے بعد عالمی سطح پر کس قسم کا ردعمل سامنے آتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔ ٖپاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان پاکستان کے دورہ کی دعوت دی تھی ۔ بتایا جاتاہیکہ رجب طیب اردغان 24؍ اکٹوبر کو پاکستان کا دورہ کرینگے۔اس موقع پر سمجھا جارہا ہے کہ ترکی صدر کے ساتھ سرمایہ کاروں کا ایک بڑا وفد بھی پاکستان کا دورہ کرے گا۔

اسرائیل میں پھر ایک مرتبہ نیتن یاہو کی حکومت ۰۰۰؟
اسارئیل میں انتخابات مکمل ہوچکے ہیں اور نتیجہ کسی بھی ایک پارٹی کے حق میں نہیں آیا جس کی وجہ سے صدر رووِن ریولن نے آخر کار حکومت سازی کیلئے اسی تعصب پرست حکمراں کو اقتدار پر دوسری مرتبہ براجمان ہونے کیلئے دعوت دی ہے۔ یتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی اور سابق فوجی سربراہ بینی گینٹس کے درمیان گرینڈ کولیشن کے حوالے سے بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت نے گینٹس کے بلیو اینڈ وائٹ اتحاد کے مقابلے میں ایک نشست کم حاصل کی تھی تاہم پارلیمان کے 55 ارکان نے نیتن یاہو کو وزیراعظم بنانے کی تجویز دی ہے۔ گینٹس کی حمایت کرنے والے ارکان کی تعداد 54 رہی۔اس طرح نتین یاہو جو انتخابات سے قبل کہا تھا کہ اگر انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے وہ اردن کے سرحدی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرلیں گے اب دیکھنا ہیکہ وہ اپنے اس وعدے کو پورا کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات کرتے ہیں او راگر وہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے خلاف فلسطین اور دیگر عالمِ اسلام کے ممالک کس قسم کے ردّ عمل کا اظہار کرتے ہیں ویسے اس سے قبل سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک نے نتین یاہو کے بیان کی سختی سے مذمت کی تھی لیکن اس کے باوجود صیہونی قائدین اپنی بدمعاشیوں اور مسلمانوں کے ساتھ تعصب پرستی کو قائم رکھنے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

افغانستان میں شادی کی تقریب ماتم کدہ میں تبدیل
یوں تو ماضی میں کئی مرتبہ دہشت گردوں کی جانب سے شادی بیاہ ، ہاسپتلوں ،قبرستانوں ، مدارس وغیرہ پر دہشت گردانہ کارروائیاں ہوتی رہیں ہے۔ لیکن اس مرتبہ دہشت گردوں کی جانب سے نہیں بلکہ افغان سیکیوریٹی فورسز کی جانب سے ایک شادی کی تقریب ماتم کدہ میں تبدیل ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند میں امریکہ اور افغان سیکیورٹی فورسز کی طالبان کے خلاف مشترکہ کارروائی کے دوران فائرنگ اور بم دھماکوں سے شادی کی تقریب میں شریک 35شہری ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام کا کہناتھا کہ جس گھر پر چھاپہ مارا گیا اس میں طالبان خود کش بمباروں کو تربیت دیتے تھے اور اس کے بالکل سامنے واقع گھر میں ایک لڑکی کی شادی تھی اور چھاپے کے دوران کی جانے والی فائرنگ کی زد میں شادی کی تقریب میں شریک افراد بھی آ گئے۔افغان وزارت دفاع کے ایک سینئرعہدیدار نے بتایا کہ یہ چھاپہ ایک غیرملکی دہشت گرد گروپ کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا تھا جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھا۔افغان وزارت دفاع کے ایک دوسرے عہدیدار کے مطابق ایک غیرملکی دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے اس کے اطراف موجود ایک خاتون سمیت دیگر افراد ہلاک ہو گئے۔ہلمند کی صوبائی کونسل کے رکن عطااﷲ افغان نے بتایا کہ ضلع موسیٰ کلا کے علاقے خاکسر کے قریب چھاپہ مارا گیا تھا اور اس کے قریب ہی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے 35شہری ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔صوبائی کونسل کے ایک اور رکن عبداﷲ ماجد اخندزادہ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں مرنے والوں کی تعداد 40 ہے۔وزارت دفاع کے مطابق طالبان کے اس اڈے کو شدت پسند تنظیموں کیلئے کام کرنے والے دیگر غیرملکی شہری بھی استعمال کرتے تھے۔وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صوبہ ہلمند کے ضلع موسی کلا میں کیے گئے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں 22 طالبان شدت پسند ہلاک جبکہ 14 کو گرفتار کر لیا گیا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کے خاتمے کے بعد افغان فورسز اور طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان تصادم، بم دھماکوں اور فضائی کارروائیوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔امریکہ کے ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا تھا۔ امریکہ نے افغانستان پر 2001 میں حملہ کردیا تھا اور اس کے بعد سے امریکا افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔افغانستان میں ابھی قیام امن ممکن دکھائی نہیں دیتا اور طالبان اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں مزید اضافہ کرتے دکھائی دے رہیں کیونکہ انہوں نے موجودہ اشرف غنی حکومت سے بات چیت کے مراحل کو رد کردیا کیونکہ طالبان کا کہنا ہے کہ اشرف غنی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کے عہدیداروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اب چند دنوں میں افغانستان میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور آئندہ صدر کون بنتا ہے اور طالبان اس حکومت کے ساتھ کس قسم کا تعاون کرتے ہیں یا اسکے بھی خلاف کارروائیاں کرتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 259 Articles with 99988 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Oct, 2019 Views: 134

Comments

آپ کی رائے