کشمیر جس کی شہ رگ ہے․․وہ سویا ہوا کیوں ہے!

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘،مگر ہماری شہ رگ بے دردی سے کاٹ دی گئی،لیکن ہم مستیوں میں لگے ہیں ۔اس واقع کے بعد تو ہماری سانسیں بند ہو جانا چاہیے تھیں۔من حیث القوم ایک سانس اور آواز بن کر ابھرتی،جب کہ ہم تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔خود پسندی کے حصار میں قید حکومت ہر طرف سے بے خبر نظر آتی ہے۔جہاں ملک بھر میں ہر طبقہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے،وہاں حکمرانوں نے اپنی انتقامی سیاست جبری حکمرانی میں ہرطبقۂ زندگی کے لئے جینا دوبھر کر دیا ہے،میڈیا کا گلا دبا دیا گیا ہے،پارلیمنٹ اور معیشت اعضائے رئیسہ ہیں،یہ معطل ہو چکے ہیں،پھر کیوں کر ممکن ہے کہ ہم اپنی شہ رگ کاٹنے والوں کے سامنے ہلکی سی آواز نکال سکیں ۔

بھارت نے باضابطہ طور پر جموں وکشمیر کو ریاست بنا لیا ہے اور سوچی سمجھی سوچ کے ساتھ اس کے دو حصے جموں وکشمیر اور لداخ بھی کر دیئے ہیں ۔5اگست 2019ء کو مودی سرکار نے جموں وکشمیر تشکیل نو بل کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کیا اور 30اکتوبرکو یہ بل نافذ ہو گیا۔اس کے تحت جموں وکشمیر اسمبلی ہو گی،اس کے 20 اضلاع ہوں گے اور لداخ دو اضلاع پر مشتمل ہو گا ،مرکز کے 106 قانون ان پر لاگو ہوں گے،جب کہ ریاست کے 153پرانے قانون ختم کر دیئے گئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو اور لداخ میں رادھا کرشن ماتھر کی تعیناتی بھی ہو گئی۔گورنس کی حلف برداری کی تقریب کو سری نگر میں منعقد کیا گیا ،یہ صرف اس لئے کہ مودی سرکار دنیا اور خاص طور پر پاکستان کو بتانا چاہتی تھی کہ کشمیر اب مکمل طور پر بھارت کا حصہ بن گیا ہے ۔
عمران خان تو ایک قصۂ پارینہ بن جائیں گے ،مگر ان کے دور میں جو کشمیر کا سودا ہوا،تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔اب حکمران طبقے نے ملک میں ہیجانی کیفیت صرف اس لئے طاری کر رکھی ہے کیوں کہ سماج میں غوروفکر کی روایت پنپنے نہ پائے۔اگر کوئی اس کی جسارت کر بھی لے تو اسے بہت سے القابات سے نوازا جاتا ہے۔خیر یہاں جس کا جو دل کرتا ہے وہ کر رہا ہے ،لیکن ان حالات میں ملک کی سالمیت کو خطرات لا حق ہو رہے ہیں۔فوج نے اپنی اہمیت کو اسی لئے بار بار اجاگر کیا ہے۔چناں چہ عوام کی سوچ بن چکی ہے کہ ہماری حفاظت فوج کی حکمرانی میں پنہا ہے ،لیکن ہمارے درینہ دشمن بھارت کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں جمہوریت نظام مضبوط ہے۔اس میں ہر پانچ سال کے بعد انتخابات متواتر ہوتے چلے آ رہے ہیں ۔17بار لوک سبھا کو منتخب کیا جا چکا ہے۔ان کا جودستور آزادی کے فوراً بعد بن گیا،وہی مسلسل نافذ العمل ہے ۔اس کی ترمیم درج شدہ طریقہ کار کے عین مطابق عمل میں لائی جاتی ہے،اس کا مذاق اڑانے کی کسی کو جرأت نہیں ہے ، نہ ہی منسوخ کیا جا سکا ہے اور نہ ہی کبھی معطل کیا گیاہے ۔آج تک کسی ادارے نے دوسرے ادارے کی ذمہ داری نہیں سبنھالی ہے ۔یہ نہیں کہ وہاں ایسا موقع ہی نہ آیا ہو ۔اندرا گاندھی کے خلاف انتخابی معاملات پر فیصلہ آیا ،جس پرانہیں اپنی نشست سے محروم ہونا پڑا۔انہوں نے ایمرجنسی نافذ کر دی ،عدالتوں اور میڈیا کو کنٹرول کر لیا گیا،مگر ان کے خلاف ایک سیاسی متحدہ اتحاد بنا،جس کے نتیجے میں بال آخر بی جے پی جیسی شکل میں نمودار ہونے والی سیاسی جماعت بن گئی۔
بھارتی انتخابات کی خصوصیت مضبوط الیکشن کمیشن ہے ۔یہاں ہر الیکشن پر دھاندلی کے الزامات سننے کو نہیں ملتے ۔اس کے برعکس پاکستان نے اپنی غلطیوں کو بار بار دھرایا ہے ۔اصلاحات کی بجائے انتقام کا رویہ رکھا ہے۔جس کا فائدہ اندرونی و بیرونی دشمنوں نے بھر پور انداز میں اٹھایا۔یہاں جانشینی کا ایسا رواج فروغ پایا،جس نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر کے رکھ دی ہیں ۔بار بار مارشل لاء نافذ ہوئی،کئی بار آئین معطل ہوا۔صدر کے اختیارات گھٹائے اور بڑھائے گئے ،اکثر اسلامی نظام کا شوشا چھوڑا جاتا رہا ہے ۔ متعدد بار موقع ملا،جس میں اسلامی صدارتی نظام نافذ کیا جا سکتا تھا ،مگر یہاں کہنے والے بھی اسلامی نظام سے خائف ہیں ۔اسلامی نظام کے لئے مچلتے لوگ صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے مذہبی کارڈ کھیلتے ہیں۔وگرنہ اسلامی نظام ان کا مقصد ہر گز نہیں ہے۔

اپنے اپنے آلاپ ہانکنے والے حکمران اور سیاسی پارٹیاں کشمیر کا سودا کرنے میں برابر کی ملوث ہیں،کیوں کہ چند دنوں تک کشمیر کے مسئلہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی تھی۔لیکن جیسے ہی حکمرانوں کو اپنی کشتی ڈوبتی نظر آئی،سب کچھ بھول کر اقتدار بچانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔حزب اختلاف کی مکمل توجہ اپنے اپنے مفادات اور جانیں بچانے کی طرف توجہ مبزول ہے۔ہاتھ رکھنے سے کہیں دردِ جگر جاتا ہے؟بیان بازی یا ’’رنگ بازی‘‘ سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے ۔ان کی انہی رنگ بازیوں نے ہماری شہ رگ کٹوا دی ہے ۔پاکستان زندہ تو رہے گا،مگر شہ رگ کے بغیر ۔ایسی صورت حال میں اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہم کن مشکوک حالات سے گزر رہے ہیں۔کشمیر کے لئے برسوں کی محنت اور قربانیوں کو جھٹکے میں قربان کر دیا گیا ہے اور کسی کے ماتھے پر شکن تک نہیں ۔

حکمتِ عملی کی طرح اظہارِ خیال بھی حالات اور واقعات کے مطابق ہونا چاہیے،ان حالات میں کہ جس کی شہ رگ کشمیر ہے،اسے بے دردی سے ساری دنیا کے سامنے اعلانیہ کاٹا جا رہا رہے،جس کے لئے وزیر اعظم اقوام متحدہ میں اپنی شعلہ بیاں تقریر میں کئی دعوے کرتے رہے،مگر آج تک ایک عملی قدم نہیں اٹھایا۔پاکستان میں جتنے بھی سابقہ ادوار میں حکمران رہے ان میں کسی نے خاص طور پر کشمیر پر ناموزوں ادنیٰ لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا،جسے وہ پورا نہ کر سکتے ہوں ،لیکن عمران خان اور ان کے سرپرستوں نے حد کر دی ہے ۔انہوں نے کشمیر تحریک کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔کشمیر تحریک کا آغاز 1989ء میں ہوا تھا ۔جنرل ضیاء الحق نے بنیاد رکھی،افغانستان کی آزادی کے بعد حریت کشمیر ایک خواب تھا۔پاکستان ،ایران،آزاد افغانستان اور ترکی کا ایک بلاک کی تشکیل کا خواب،جس کے ساتھ عرب ممالک کے ساتھ خوش گوار تعلقات ہوں گے،لیکن بعض سنگین غلطیوں کی وجہ سے یہ خواب ادھورا رہ گیا۔اس کے بعد بھی ہم نے اپنی غلطیوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی ۔ہم ایک متوازن ،موزوں اور فعال کشمیر پالیسی نہیں بنا سکے ۔جس کا نیتجہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔

ہم توازن سے نا آشنا قوم بن چکے ہیں ۔ انتہا سے زیادہ بھڑکنا یا بجھ جانا وطیرہ بن چکا ہے۔حقائق چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ دشمن اپنا گہرا وار کر چکا ہے،مگر حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو دوآم دینے اورداخلی تنازعات میں مصروف عمل رہے ہیں۔حکمرانوں نے اپنے مفادات کی خاطر مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈالا اور اپنی شہ رگ کی حفاظت نہیں کر سکے۔آغاز کار سے ہی اگر توجہ سفارتی مہم جوئی پر لگا دی جاتی تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔

اب یقین کر لینا چاہیے کہ بین الاقوامی طاقتیں اس خطۂ ارض میں امن نہیں چاہتیں ۔اگر وہ خطے میں دہشت گردی کو ختم اور امن چاہتے تو بھارت کو تخریب کاری سے روکتے ۔پاک بھارت تعلقات بہتر کرنے میں سنجیدہ اقدام کیے جاتے ،تاکہ پاک فوج کے تین لاکھ جوان بھارتی سرحد کی حفاظت کر رہے ہیں وہ قبائلی پٹی پر ہوتی اور افغانستان کی صورت حال یکسر مختلف ہو چکی ہوتی۔

بھارت سمجھ رہا ہے کہ کشمیر پر قابض ہو کر اس نے تحریک کشمیر ختم کر دی ہے ۔اس کی یہ غلط فہمی جلد ختم ہو جائے گی،کیوں کہ تحریک آزادی تحلیل نہیں ہو سکتی۔یہ تحریکیں دلوں اور دماغوں میں پیوست ہو جایا کرتی ہیں۔انہیں کسی صورت مارا نہیں جا سکتا ۔ایک دن کشمیر آزاد ہو کر ہی رہے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 142 Articles with 47350 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Nov, 2019 Views: 323

Comments

آپ کی رائے