تیونس کا نیا نظریاتی صدر اور باشعور عوام

(Quayyum Raja, )

تیرہ اکتوبرکو ہونے والے صدارتی الیکشن میں تیونس کی عوام نے ملک کے ایک اکسٹھ سالہ پروفیسر قیس سعید کو اپنا نیا صدر منتخب کیا ہے۔ جناب قیس سعید قانون اور آئین کے مائر ہیں۔ وہ 2011 میں تیونس میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں میں قومی سطع پر ابھر کر سامنے آئے۔ سیاسی منظر نامے پر انکی آمدسیاسی مہم یا ان کے سیاسی مقاصد کا نتیجہ نہ تھی بلکہ قومی میڈیا انکو ٓئینی اور قانونی پہلو پر تبصروں کے لیے بلاتا تھا۔ ان سے قوم کو آئینی، سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے حوالے سے سوالات کیے جاتے تھے۔ قیس سعید نے ایک سرکاری ملازم ہونے کے باوجود حاکم وقت کے انتقامی رد عمل کو بالا طاق رکھتے ہوئے جرات کا مظاہرہ کر کے عوامی مسائل کے حل کے لیے کھل کا قومی ٹی وی چینلزپر اظہار خیال کیا۔ تیونس کی عوام کو انکا اندازفکر اور جرات مندانہ رویہ پسند آیا۔ وہ آہستہ آہستہ عوام کے دلوں میں جگہ بناتے گے۔ جمہوریت پر تبصرہ کرتے ہوئے قیس سعید اختیارات کو تقسیم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کو موثر بنانے کی تجویزدیتے۔ دوسرے لفظوں میں عوام کو با اختیار اور با اثر بنانے کے لیے انہوں نے جو فارمولہ پیش کیا اس کے تحت اختیارات کو نچلی سطع تک لا کر اداروں اور عوام کے رشتوں کو قریب تر اور تعلق کو مضبوط تر بنانے کی تجویز دی ۔ انہوں نے کہا کرپشن صرف عوام ختم کر سکتے ہیں اس لیے عوام سے وو ٹ لے کر حکمرانوں کو مطلق العنان بنانے کے بجائے سیاسی اورحکومتی ڈھانچہ ایسا ہو جس تک عوام کی رسائی آسان تر ہو سکے۔ اس کے لیے انہوں نے لوکل کونسل کی تشکیل کا مشورہ دیا جو ریجنل نمائندے منتخب کرے اور ریجنل نمائندے قومی نمائندوں کا چناؤ کریں۔ قیس سعید کا کہنا تھا کہ مقامی نمائندوں کو کنٹرول کرنا اور ان سے کام لینا مقامی لوگوں کے لیے آسان ہوتا ہے۔

تیونس کی عوام کو اس بردبار سکالر کی دیانتداری پر مزید یقین پختہ ہو گیا جب پچیس امیدواروں کے مقابلے کا پہلا مرحلہ سر کرنے کے بعد اپنے مد مقابل محمد کروتی کے خلاف یہ کہہ کر الیکشن مہم بند کر دی کہ انکا مد مقابل امیدوار جیل میں ہے جو اپنی الیکشن مہم نہیں چلا سکتا اس لیے سیاسی میدان میں انکی عدم موجودگی سے ناجائزفائدہ اٹھانا بد دیانتی ہو گا۔ قیس سعید نے صاحب حیثیت افراد، ت سیاسی نطیموں اور دوسرے ممالک سے فنڈ لینے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ انکا خیال تھا کہ جو فنڈ دیتے ہیں انکے اپنے مقاصد ہوتے ہیں جو بعد میں آزادانہ پالیسیاں بنانے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ قوم اور ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے قیس سعید نے تعلیم، صحت اور انصاف پر سب سے زیادہ توجہ دینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے نوجوان طبقے کو تعلیم سے لیس کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ موجودہ آئین کے مطابق صدر کے اختیارات امور خارجہ اور دفاع تک محدود ہیں۔ جن آئینی تبدیلیوں کا انہوں نے اظہار کیا ہے ان کے لیے انہیں پارلیمنٹری حمایت کی ضرورت ہو گی جسکی وجہ سے اصلاحات ان کے لیے کسی بڑے چلینج سے کم نہیں۔ تیونس کے نئے صدر معاشرتی قدروں پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ معاشرتی استحکام کے لیے صحت مندانہ سو چ و فکر انتہائی ضروری ہے۔ قیس سعید کی کامیابی میں تیونس کی عوام کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سعید کے مقابلے میں دوسرے بببامیدوار پرانے سیاسی کھلاڑی اور مالدار لوگ تھے۔ ان کے بڑے حریف کا اپنا ٹی وی چینل بی ہے لیکن عوام نے اپنی صفوں سے ہی ایک اعلی تعلیم یافتہ مفکرکو صدر منتخب کر کے شعور کا ثبوت دیا ہے۔ اﷲ کرے کہ قیس سعید اپنے عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکیں تاکہ تیونس سے چلنے والی جمہوری ہواؤں کا سفر جاری و ساری رہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Quayyum Raja

Read More Articles by Quayyum Raja: 48 Articles with 21983 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2019 Views: 369

Comments

آپ کی رائے