اور تحریک انصاف نے اورنج ٹرین چلا کر تاریخ بدل دی

(Mehr Iqbal Anjum, )

بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست مفادات کے لئے ہوتی ہے ،کسی کو عوام سے غرض نہیں ہوتی، ماضی میں جتنی حکومتیں آئیں انہوں نے اسی نہج پر کام کیا،الیکشن جیتے اسمبلیوں میں آئے ،حکومت کا حصہ بنے مال بنایا اور اگلے الیکشن کی تیاری شروع کر دی، خاص کر اگر الیکشن میں مخالف سیاسی جماعت جیت جاتی تو گزشتہ حکومت کے شروع کئے گئے تمام ترقیاتی منصوبے بند کر دیئے جاتے یا ان پر کام روک دیا جاتا اس کی کئی مثالیں موجود ہیں،موجودہ حکومت کے اتحادی چوھدری پرویز الہیٰ جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور انکے بعد شہباز شریف خادم اعلیٰ بنے تو پرویز الہیٰ کے تمام منصوبوں کو فائلوں میں بند کر دیا گیا بلکہ جو منصوبے مکمل ہو گئے تھے انکا افتتاح نہیں کیا گیا ،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بھی اس بات کا متعدد بار اظہار کر چکے ہیں کہ انکے منصوبوں کو روکا گیا، تا ہم تحریک انصاف کی حکومت نے ماضی کی حکومت کے منصوبوں کے تسلسل کو برقرار رکھا اور ان پر کام ہوتا رہا بلکہ ابھی بھی ہو رہا ہے۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں شہباز شریف کا ایک بڑا منصوبہ اورنج ٹرین کا تھا جو پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہے۔اورنج لائن لاہور میٹرو کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین نظام ہے۔ اورنج لائن لاہور میٹرو کی پہلی لائن ہے ،شہباز شریف دور میں بھی اس منصوبے کا آزمائشی افتتاح کیا گیا تھا،سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 4 سال 4 ماہ قبل اگست2015ء میں اورنج لائن ٹرین کا کام شروع کرایا تھا۔ایک ارب 62 کروڑ ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کو دسمبر2017ء میں مکمل ہونا تھا لیکن عدالتی حکم امتناعی اورحکومتوں کی تبدیلی کے باعث یہ منصوبہ دوسال کی تاخیر کا شکار ہوا۔ 162 ارب کے ابتدائی تخمینے سے شروع ہونے والی اورنج لائن ٹرین کی لاگت مسلسل بڑھتے ہوئے اب تقریباً 300 ارب روپے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ن لیگ کی حکومت کے رخصت ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تھا کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا تا ہم گزشتہ 15 ماہ کے دوران متعدد بار اعلان کیے گئے کہ فلاں وقت میں اورنج لائن منصوبہ چل جائے گا۔ تاہم ہر بار تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی منصوبہ مکمل نہ ہوا۔وزیراعظم عمران خان گزشتہ دنوں لاہور آئے جس کے بعد پنجاب میں کوئی تبدیلی تو نہ آئی البتہ تبادلوں کا طوفان آ گیا، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، سیکرٹریز ،ڈی سیز ،ڈی پی اوز، ڈی ایس پی، اسسٹنٹ کمشنرز سب کے تبادلے کر دئے گئے اور تین ماہ کا وقت دیا گیا کہ پنجاب میں تبدیلی لانی ہے تو لاو ورنہ پھر ایک بار تبادلے کے لئے تیار ہو جاو، وزیراعظم عمران خان نے دورہ لاہور میں پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اورنج لائن ٹرین کا آزمائشی افتتاح دس دسمبر کو کر دیا جائے گا اور پھر عمران خان کی بات پوری ہوئی،ٹرین کا آزمائشی افتتاح کر دیا گیا۔

افتتاح سے تین روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ہدایات دی تھیں کہ کام مکمل کیا جائے اور افتتاح کی تیاری کی جائے میں خود شرکت کروں گا لیکن پھر وزیراعلیٰ پنجاب افتتاحی تقریب میں نہ آئے۔ زیر تعمیر میٹرو اورنج لائن ٹرین نے پہلی بار مکمل روٹ پر آزمائشی سفر کامیابی سے طے کیا،صوبائی وزرا اور مہمانوں نے ٹرین پر ڈیرہ گجراں سے علی ٹاؤن تک سفر کیا۔ ٹیسٹ رن کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کھچی نے علی ٹاؤن سٹیشن پر افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔ میٹرو ٹرین سی پیک کا مکمل ہونے والا پہلا ٹرانسپورٹ منصوبہ ہے۔ ٹرین کو منگل کے روز پہلی مرتبہ پورے روٹ پر بجلی کے ذریعے چلایا گیا۔ مسافروں کی رہنمائی کے لئے ہر بوگی میں دو سکرینیں نصب کی گئی ہیں۔ٹرین نے ڈیرہ گجراں سے علی ٹاؤن تک 27 کلومیٹر کا فاصلہ 43 منٹ میں طے کیا اور اسے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا گیا۔گیارہ تاریخی مقامات کے قریب سے ٹرین کو کم رفتار سے گزارا گیا۔ٹرین میں ایک وقت میں 200مسافروں کے بیٹھنے اور 800 کے کھڑے ہونے کی گنجائش ہے۔ ٹیسٹ رن کا آغاز ڈیرہ گجراں سے ہوا،سٹیشن کو پاکستان اور چائنہ کے قومی پرچموں سے سجایا گیا تھا، ڈیرہ گجراں سے علی ٹاؤن سٹبلنگ یارڈ تک ٹرین نان سٹاپ چلائی گئی تاہم رن کے دوران ہر سٹیشن سے متعلق اعلان کیا جاتا رہا۔ علی ٹاؤن میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب خان کھچی نے کہا میٹرو ٹرین پاک چین دوستی کی علامت اور اہل لاہور کیلئے ایک شاندار تحفہ ہے ، یہ کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کا پراجیکٹ نہیں بلکہ عوام، حکومت پنجاب اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے جسے لاہور کے شہریوں کی سہولت کیلئے مکمل کیا گیا ہے۔ روزانہ ٹرین میں تقریباً اڑھائی لاکھ مسافر سفر کریں گے جبکہ پسنجر ٹائم ٹریول اور وہیکل آپریٹنگ کی مد میں تقریباً15ارب روپے کی سالانہ بچت بھی متوقع ہے۔ بریک، الائنمنٹ، سگنل اور دیگر ٹیکنیکل ٹیسٹوں کا عمل شروع ہو رہا ہے جس کے بعد ٹرین عوام کیلئے چلائی جائے گی،نہ صرف ملتان روڈ پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو گا بلکہ اس علاقے میں ماحولیاتی آلودگی میں بتدریج نمایاں کمی آئے گی۔اورنج ٹرین کا 25.4 کلو میٹر ٹریک ایلی ویٹیڈ جبکہ 1.72 کلومیٹر انڈر گراؤنڈ ہے، 26 سٹیشنز میں سے 24 ایلی ویٹیڈ اور 2 انڈر گراؤنڈ ہیں۔ ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے مگر ٹرین اوسطاً 34.8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ 16 مئی 2018 کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ڈیزل پر چلنے والے لوکوموٹو انجن کے ذریعے اسلام پارک سٹیشن سے لکشمی چوک سٹیشن تک اورنج ٹرین کی آزمائشی سروس کا افتتاح کیا تھا تاہم موجودہ حکومت نے اورنج ٹرین کو بجلی پر چلانے کا فیصلہ کیا ٹرین مکمل فعال ہونے کے بعد بھی بجلی سے ہی چلائی جائے گی جس سے جہاں سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا وہیں شہر کے باسیوں کے لئے مختص بجلی اورنج ٹرین کے کھاتے میں جائے گی۔میٹرو ٹرین کو چلانے کے لئے ٹریک پر پاور ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ یو ای ٹی سٹیشن اور ملتان روڈ سٹیشن کے پاور ہاؤسز کو 54، 54 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس طرح میٹرو اورنج ٹرین کو چلانے کے لیے مجموعی طور پر ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے لیسکو سے 108 میگا واٹ بجلی کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جو لیسکو کی جانب سے پوری کر دی گئی ہے۔لیسکو کی جانب سے اورنج لائن ٹریک کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لئے ہر پاور سٹیشن پر 132 کے وی کے چار سرکٹ سے بجلی فراہم کی جائے گی جس سے ٹرین کو چوبیس گھنٹے بجلی میسر ہوگی۔ تاہم 108 میگاواٹ بجلی کے استعمال سے سرکاری خزانے کو خاصا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

اورنج لائن ٹرین کے افتتاح کے بعد ن لیگ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ ن لیگ کے ہی منصوبے کا افتتاح حکومت کر رہی تھی، جو اچھی روش ہے اور عمدہ مثال ہے لیکن شاید اپوزیشن کا کام صرف حکومتوں پر تنقید کرنا رہ گیا ہے ،مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران و بزدارکو شہبازشریف کی اورنج لائن سے اتنی شرمندگی ہے کہ اس کا افتتاح بھی نہیں کررہے ،شہبازشریف نے پانچ میٹرو بنائیں جبکہ نالائقوں نے پانچ سال میں پشاور میٹرو کے ایک ارب کے کھڈے کھودے۔ عمران صاحب قوم کو بتائیں اورنج لائن کس نے بنائی؟ اور یہ کس کا ویژن تھا؟۔پندرہ ماہ سے موجودہ نالائق حکمران مسلم لیگ (ن) کے منصوبوں پر تختیاں لگارہے ہیں۔شہبازشریف بھی جو آجکل لندن میں ہیں اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج معالجے میں مصروف ہیں عدالتی حکم پر نواز شریف کے ہمراہ وہ لندن گئے انہوں نے ٹرین کے افتتاح کو خوش آئند قرار دیا، شہباز شریف کو اورنج لائن ٹرین منصوبے پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لیگی رہنما عظمٰی بخاری کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کروائی گئی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ میاں شہباز شریف نے اورنج لائن ٹرین کا تحفہ دے کر لاہور کے عوام کے دل جیت لیے ہیں جبکہ 15 ماہ کے دوران عمران اور بزدار حکومت ایک بھی عوامی فلاح کا منصوبہ شروع نہیں کر سکی اور مسلم لیگ (ن) کے منصوبوں کے بار بار افتتاح کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کے عوام آج بھی نوازشریف اور شہبازشریف کو اپنا لیڈر مانتے ہیں جس پر پنجاب اسمبلی کا ایوان میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کی ملک و قوم کیلئے خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اورنج لائن ٹرین بلا شبہہ پاکستان کی تاریخ کا بہترین منصوبہ ہے جو شہباز نے شروع کیا اور پی ٹی آئی نے مکمل کیا اس پر دونوں حکومتوں کو داد دینی چاہئے کہ سیاسی مخالفت اور مفادات کی بجائے نئی آنے والی حکومت نے عوامی منصوبے پر کام جاری رکھا ،اور تو کوئی تبدیلی آئی یا نہیں البتہ یہ تبدیلی ضرور دیکھنے میں آئی کہ شہباز سپیڈ کے پروجیکٹ کا افتتاح پی ٹی آئی کر رہی ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 89 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 100 Articles with 25290 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: