میجر شبیر شریف شہید (نشانِ حیدر)

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

میجر شبیر کے سامنے بھارتی فوج کے کنکریٹ سے بنے ہوئے بنکرز تھے جن میں جدید روسی اسلحے سے لیس دشمن کے ہزاروں سپاہی موجود تھے۔ بنکرز کے بعد دشمن کی فوج چوکی ’’جھانگر‘‘ تھی‘ یہ بھارت کا سرحدی علاقہ تھا۔ جھانگر سے پیچھے دشمن نے دو میل تک بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں تاکہ اگر پاکستانی سپاہی وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو بھی وہ بارودی سرنگوں کا شکار ہو جائیں اس کے بعد دشمن کا سرحدی گاؤں بیری والا تھا۔ بیری والا کے بعد تیس فٹ چوڑی اور دس فٹ گہری ایک دفاعی نہر تھی ویسے بھی سردیوں کی وجہ سے نہر کا پانی برف کی طرح ٹھنڈا ہوتا ہے‘ ان حالات میں نہر کو تیر کر عبور کرنا قریب قریب ناممکن تھا۔ نہر کی دوسری طرف ایک اہم بند تھا جس پر قبضہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا اور دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا سکتے تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ اس وقت صرف ایک پاکستانی کمپنی میسر تھی جب کہ دشمن کے ہمراہ ٹینکوں کا سکواڈرن اور توپ خانہ موجود تھا۔ علاوہ ازیں دشمن کو اپنی ٹڈی دل فوج کی بھی سپوٹ حاصل تھی۔

یہ جنگی مہم کچھ کم مشکل تھی لیکن میجر شبیر شریف ہمیشہ مشکلات سے ہی کھلتے آئے تھے اور ناممکنات کو ممکنات میں بدلنے میں انہیں روحانی تسکین حاصل ہوتی تھی جب آپ کو ان مشکلات سے واسطہ پڑا تو انہوں نے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے اپنے ذہن میں منصوبہ بندی کر لی تھی۔ یہ مشن ایسا تھا کہ جس میں زندگی کی کم اور موت کی زیادہ امید تھی۔ 12روز پہلے مشرقی پاکستان پر بھارتی افواج نے باضابطہ حملہ کردیا تھا لیکن 3 دسمبر 1971ء کو پاکستان کا مغربی حصہ بھی بھارتی یلغار کی زد میں آ گیا۔ دراصل ’’جھانگر‘‘ چوکی کی جانب ایک بڑے حملے کی توقع کی جا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ افواجِ پاکستان کی طرف سے آگے بڑھ کر دشمن کو ان کے مورچوں میں ہی تباہ و برباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا‘ پلاننگ جاری تھی۔ میجر شبیر شریف نے پلان اپنے کمانڈر کو پیش کر کے ان سے حملے کی اجازت چاہی لیکن بریگیڈ کمانڈر منصوبے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر رضامند نہ ہوئے‘ وہ منصوبے کی پیچیدگیوں اور مشکلات کے پیشِ نظر فیصلہ کرنے میں ہچکچا رہے تھے لیکن دوسری جانب میجر شبیر شریف اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مسلسل اصرار کر رہے تھے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد بریگیڈ کمانڈر نے اجازت دے دی۔

3 دسمبر کی شام‘ خون جما دینے والی سردی تھی۔ میجر شبیر شریف اپنی کمپنی کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے‘ سب سے پہلے وہ کنکریٹ سے بنے ہوئے بنکروں پر حملہ آور ہوئے۔ دشمن نے اپنے اسلحے کے زور پر مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن میجر شبیر شریف کی کمپنی نے بڑی تیزی سے دشمن پر قابو پا لیا اور بنکرز کی رکاوٹ ان کے لیے بے معنی ہو کر رہ گئی۔ کچھ دیر بعد پسپا ہوتی ہوئی بھارتی فوج کی اہم سرحدی چوکی جھانگر بھی پاکستان کے قبضے میں آ گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں بیٹھ کر بھارتی فوجی افسران پاکستان پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ میجر شبیر دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ جہاں شجاعت کا موقع ہوتا وہاں وہ سب سے آگے بڑھ کر خطرے میں کود جاتے ‘ جہاں حکمت و تدبیر ضروری ہوتی وہاں وہ بے مثال عسکری ذہانت کا ثبوت دیتے۔ نہر ابھی دو میل دُور تھی۔ یہ علاقہ دشمن کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں سے اَٹا پڑا تھا‘ قدم قدم پر موت منتظر تھی لیکن یوں دِکھائی دے رہا تھا کہ میجر شبیر شریف کی لغت میں ڈر اور خوف کا کوئی لفظ نہیں تھا۔ عام زندگی میں بھی وہ انہی خصوصیات کے حامل تھے لیکن اب تو ملک و قوم کی سالمیت ہی خطرے میں پڑ چکی تھی اس لیے ان کی ساری صلاحیتیں اور جبلتیں خودبخود کام کر رہی تھیں۔ وہ بارودی سرنگوں کے درمیان سے خود بھی گزر گئے اور اپنے ساتھیوں کو بھی بچا کر لے گئے۔ اسی اثناء میں دشمن کی توپیں ان پر گولہ باری کر رہی تھیں۔ دشمن خودکار اسلحے سے بھی فائر کر رہا تھا لیکن میجر شبیر کی کمپنی اپنے قائد کی قیادت میں آگے بڑھتی جا رہی تھی جوں جوں میجر شبیر شریف کی کمپنی دشمن کے قریب ہوتی جا رہی تھی‘ گولہ باری بڑھتی جا رہی تھی اس کے باوجود تیس منٹ میں میجر شبیر شریف کی کمپنی بارودی سرنگوں کے دومیل کی مسافت عبور کر چکی تھی اب وہ دشمن کے گاؤں بیری والا کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ یہاں پر میجر شبیر شریف کو خاصی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گاؤں میں بھارتی فوجی اپنے اسلحہ سمیت موجود تھے لیکن میجر شبیر اور اس کی کمپنی کے آگے دشمن زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا اور بیری والا گاؤں پر بھی پاکستانی جانبازوں کا قبضہ ہو گیا یہاں سے پسپا ہوتے ہوئے بھارتی فوجی ایک اور گاؤں گورمکھیڑہ کی جانب چلے گئے۔ میجر شبیر نے وائرلیس پر اپنے کمانڈر کو اطلاع دی تو انہوں نے مزید احتیاط کا حکم دیا۔
پیش قدمی کے لیے نہر عبور کرنا ضروری تھا‘ سردیوں کی سرد راتوں میں خون جما دینے والا ٹھنڈا پانی اور اس پر بھارتی توپ خانہ کی گولہ باری مزید مشکلات پیدا کر رہی تھی یہاں سے آگے بڑھنا ایک چیلنج بن چکا تھا۔ میجر شبیر کے جذبات الفاظ میں ڈھل گئے اور انہوں نے گرج دار آواز میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
’’بہادرو! یہ حق و باطل کی فیصلہ کن جنگ ہے‘ یہ ہماری ملی غیرت کا امتحان ہے۔ خدا کی قسم! اگر میں پیچھے ہٹوں تو مجھے گولی مار دینا اور اگر تم پیچھے ہٹے تو میں تمہیں گولی مار دوں گا جو پیچھے رہنا چاہتا ہے‘ وہ ابھی رہ جائے۔ ہمیں ہر حال میں آگے بڑھنا ہے۔ بولو! میرے ساتھ چلو گے؟‘‘

اس تقریر کے ایک ایک لفظ نے جوانوں کے دِلوں میں جوش کا طوفان کھڑا کر دیا۔ سب نے یک آواز ہو کر کہا کہ ہم چلیں گے اور ضرور چلیں گے۔ میجر شبیر شریف کی قیادت میں مجاہدوں کی یہ جماعت آگے بڑھتی ہوئی سبونہ نہر کے کنارے پر جا پہنچی۔ دشمن کے گولے پوری شدت سے برس رہے تھے۔ متواتر دھماکوں سے فضا گونج رہی تھی‘ انتہائی سردی میں پاکستانی مجاہد نہ صرف نہر کے سرد پانی میں خود اُترے بلکہ اپنے ہتھیاروں کی بحفاظت دوسرے کنارے پر رسائی بھی ان کے فرائض میں شامل تھی۔ نہر کا سرد پانی شمشیر کی طرح انسانی ہڈیوں میں پیوست ہو رہا تھا ۔ ان حالات میں دوسرے کنارے تک پہنچنا ناممکن نظر آرہا تھا لیکن میجر شبیر کی قیادت میں تمام جوانوں کے حوصلے بلند تھے اور ہر مجاہد نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینے کا پختہ عزم کر رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نہ دشمن کی فائرنگ انہیں خوف زدہ کر پا رہی اور نہ ہی برف کی طرح ٹھنڈک پانی پاکستانی مجاہدوں کے جذبوں کو سرد کر سکا۔ دشمن نے بہت کوشش کی کہ یہ جوان نہر کے دوسرے کنارے پر نہ پہنچ سکیں لیکن تمام تر رکاوٹوں کو عبور کر کے ہمارے مجاہد دوسرے کنارے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے لیکن یہ کنارہ بھی آخری منزل نہیں تھا بلکہ اب انہیں دشمن کے آہنی مورچوں کا سامنا تھا۔ فولاد کی دیواروں کے ساتھ ساتھ ٹینکوں کا ایک سکواڈرن بھی وہاں موجود تھا۔ میجر شبیر نے اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا تو تمام ساتھی دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ نعرۂ تکبیر فضا میں گونجتے ہی دست بدست لڑائی شروع ہو گئی اس عظیم کمانڈر کی قیادت میں فوجی جوانوں نے وہ جوہر دِکھائے کہ تمام تر حفاظتی تدابیر کے باوجود دشمن کو ان آہنی مورچوں سے پسپا ہونا پڑا۔ وہاں متعین 43 بھارتی فوجی مارے گئے جبکہ28 زندہ قیدی بنا لیے گئے اس معرکے میں ٹینکوں نے بھی اپنے جوہر دِکھانے کی کوشش کی لیکن چار ٹینکوں کو ایکشن میں آنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا باقی خاموشی سے پسپا ہو گئے۔

اس کامیابی کے بعد دشمن کے علاقے میں بنائے ہوئے عظیم بند کے اہم حصوں پر پاکستان کا قبضہ ہو چکا تھا۔ نہر پر بنا ہوا انتہائی اہم پل بھی پاکستان کے قبضے میں آگیا۔ گور مکھیڑہ گاؤں کی طرف رابطے کا یہ واحد ذریعہ تھا۔ یہ فتح دشمن کی عسکری حیثیت پر کاری ضرب تھی‘ دشمن کے جن حفاظتی انتظامات کو سبھی ناقابلِ شکست تصور کرتے تھے‘ میجر شبیر نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ان انتظامات کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

میجر شبیر شریف مزید آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن کمانڈنگ آفیسر مزید پیش قدمی پر رضامند نہ تھے چنانچہ پاکستانی مجاہدوں کے قدم مجبوراً رُک گئے۔ دشمن سے چھینے ہوئے مورچوں میں ہی پوزیشن مستحکم کر لی گئی‘ اندھیری رات میں دن کے اُجالے چھپ چکے تھے‘ ماحول پر مکمل تاریکی چھا چکی تھی۔

میجر شبیر شریف اس وقت اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے علاقے میں موجود تھے۔ وقتی طور پر وہ دشمن کو شکست دے چکے تھے مگر ابھی کئی اور امتحان باقی تھے۔ دشمن نے اس محاذ پر مزید فوجی کمک بھیج دی۔ رات بھر بھاری ہتھیاروں سے دشمن کا حملہ جاری رہا۔ میجر شبیر کی کمپنی نے یہ تمام حملے ناکام بنا کر دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوگا جب کسی جوان نے نیند کے لیے آنکھ بند کی ہو۔ دوسری صبح جب سورج طلوع ہوا تو اس کی کرنوں نے چاروں طرف اُجالے بکھیر دیئے۔ دن کے اُجالے میں بھارت نے پہلے سے کئی گنا زیادہ فوج کے ساتھ حملہ کر دیا اس معرکے میں ہلکی اور بھاری توپوں کے علاوہ اسے ٹینکوں کی بھی مدد حاصل تھی پھر جانبازوں اور ٹینکوں کا خوف ناک مقابلہ شروع ہو گیا جس مقام پر پاکستانی قابض تھے وہاں صرف دشمن کی گولہ باری ہی کا سامنا نہیں تھا بلکہ اردگرد زمین میں نصب بارودی سرنگیں بھی ان کی جانی دشمن تھیں اب تک کئی جوان ان بارودی سرنگوں کی وجہ سے شہید ہو چکے تھے۔ اسلحہ بھی تقریباً ختم ہونے کو تھااس کے باوجود میجر شبیر شریف اپنی جگہ ڈٹے ہوئے تھے‘ ان کی قیادت میں بچے کھچے مجاہد بے جگری سے لڑ رہے تھے۔ بہت سے ٹینکوں اور توپوں کو خاموش کرا دیا گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل دشمن کو روکنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ سارا دن دشمن سے زور آزمائی میں گزر گیا۔ رات کو دشمن نے پھر کئی حملے کیے لیکن میجر شبیر اور ان کے ساتھی ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیتے رہے اسی دوران دشمن کا کمپنی کمانڈر کسی نہ کسی طرح میجر شبیر کے مورچے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ میجر شبیر نے چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بروقت دبوچ لیا اسے ہلاک کر کے اس سے انتہائی قیمتی دستاویزات بھی چھین لیں جن میں بہت سے فوجی راز موجود تھے۔ میجر شبیر کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ اسی رات بھارتی فوج نے آسام اور جاٹ رجمنٹ کی دو بٹالین کے ساتھ حملہ کیا لیکن اس بار بھی انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پے درپے ناکامیوں کے بعد دشمن پر وحشت طاری ہو چکی تھی‘ اپنے کھوئے علاقے واپس لینا اسے ناممکن دِکھائی دے رہا تھا۔ اگلے دن ٰ6 دسمبر کی سہ پہر بھارتی فوج نے ٹینکوں اور فضائیہ کے ساتھ ایک اور حملہ کر دیا۔ ٹینک اور توپیں دیوانہ وار گولہ باری کر رہی تھیں لیکن یہ گولہ باری بھی ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہ کر سکی۔ ہمارے مٹھی بھر مجاہد اپنی جرأت اور بہادری سے بھارتی افواج کے دانت کھٹے کر رہے تھے۔ میجر شبیر اس وقت اتنے ہشاش بشاش دِکھائی دے رہے تھے کہ ان کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کئی راتوں سے مسلسل جاگنے والا شخص ہے۔ وہ نہایت جوش و خروش سے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ایک نازک موقع پر جب ان کا توپچی شہید ہو گیا تو انہیں یہ کام بھی خود سنبھالنا پڑا۔ وہ بڑی مستعدی سے دشمن پر گولہ باری کروا رہے تھے۔

یہ ان کی زندگی کا آخری معرکہ تھا۔ بھارتی ٹینکوں کی طرف سے ایک گولہ ان کے لیے شہادت کا پیغام لے کر آیا اور میجر شبیر شریف کے سینے میں کاری زخم لگا گیا جس سے وہ نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑے۔ بے ساختہ ان کی زبان پر کلمہ شہادت جاری ہو گیا جیسے ہی جوان ان کے قریب پہنچے تو وہ جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ یہ 6 دسمبر 1971ء کا دن تھا‘ شہادت کے وقت میجر شبیر شریف کے آخری الفاظ یہ تھے:
’’میرے جوانو! اس بند اور پل کو کسی قیمت پر نہ چھوڑنا یا میرے پیچھے پیچھے چلے آنا لیکن یاد رکھنا کہ دشمن کے ناپاک قدم اس پل پر نہ پڑیں۔ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے ڈٹے رہنا۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔‘‘

میجر شبیر شریف شہید نے پاک بھارت جنگ میں جرأت‘ بہادری‘ بلند حوصلگی‘ فرض سے بے لوث لگن‘ نظم و ضبط اور بہترین جنگی حکمتِ عملی کی درخشندہ اور قابلِ تقلید مثال قائم کی۔ شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کر کے سب سے بڑاعسکری اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا۔ میجر شبیر شریف مسلسل تین دن اور تین راتیں دشمن کے سامنے سینہ سپر رہے۔ شجاعت و مردانگی کے پیکر انتہائی جرأت‘ عزم اور استقلال کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے دشمن کے تمام عزائم اور منصوبے خاک میں ملا دیئے۔ دشمن کو اپنی عددی برتری اور جدید ترین سامانِ جنگ پر بہت ناز تھا۔ میجر شبیر شریف شہید نے اس کے غرور اور تکبر کے تمام بت پاش پاش کر کے اپنا وہ ناقابلِ یقین ٹارگٹ پورا کر لیا جو انہیں سونپا گیا تھا۔

میجر شبیر شریف بہادر‘ دلیر اور جنگجو راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلے آپ کا خاندان کشمیر میں سکونت پذیر تھا‘ بعد میں ہجرت کر کے ضلع گجرات کے نواحی قصبے کنجاہ میں مقیم ہو گیا۔ میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو کنجاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ نہایت متقی‘ پرہیزگار اور تہجد گزار تھیں۔ انہوں نے آپ کا نام شبیر حسین رکھا جو بعد میں والد کی مناسبت سے شبیر شریف ہو گیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی‘ مری اور کوئٹہ کے سکولوں سے حاصل کی پھر جب والد کا تبادلہ کوئٹہ سے لاہور ہو گیا تو آپ کو سینٹ انتھونی سکول لاہور میں داخل کرا دیا گیا۔ یہاں آپ نے کرکٹ اور ہاکی کے لاتعداد اعزازت حاصل کیے۔ سینئر کیمبرج کے بعد آپ گورنمنٹ کالج میں داخل ہو گئے یہاں بھی سائیکل ریس میں اوّل انعام حاصل کیا۔ یہیں سے آپ کیڈٹ کی حیثیت سے فوج میں بھرتی ہو گئے۔ 19 اپریل 1964ء کو آپ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کمیشن حاصل کیا۔ آپ نے انٹیلی جنس اور پیراشوٹ کورس خصوصیت سے پاس کیے۔ آپ اپنی آٹھ سالہ فوجی سروس کے دوران 6 ایف ایف کے پلاٹون کمانڈر‘ کمپنی کمانڈر‘ سگنل کمانڈر اور سگنل آفیسر بھی رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں چھمب جوڑیاں سیکٹر میں حصہ لیا اور آپ کی قیادت میں یونٹ منادر اور چھمب کو روندتے ہوئے 4 ستمبر کو جوڑیاں سے کچھ فاصلے پر پہنچ گئی اس محاذ جنگ پر ناقابلِ یقین بہادری کے جوہر دِکھانے پر آپ کو ستارۂ جرأت‘ تمغۂ حرب اور تمغہ دفاع سے بھی نوازا گیا۔

1967ء کو تین سال کے لیے آپ کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹوں کی تربیت پر مامور کیا گیا وہیں آپ کو میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی سے آپ کو 6 ایف ایف میں انفنٹری بٹالین کے کمپنی کمانڈر بنا کر سلیمانکی اور فاضلکا سیکٹر میں تعینات کر دیا گیا اس محاذ پر گور مکھیڑہ کا زبردست معرکہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پیش آیا جہاں آپ نے اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے بعد جامِ شہادت نوش کیا جس پر آپ کو نشانِ حیدر بعد از شہادت عطا کیا گیا چونکہ ماں کی طرف سے میجر عزیز بھٹی شہید بھی آپ کے رشتہ دار تھے اس طرح ایک ہی خاندان کے دو فرزندوں نے نشانِ حیدر حاصل کر کے پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک منفرد اعزاز حاصل کیا۔ آپ کی شہادت پر آپ کے والد میجر محمد شریف کے تاثرات تھے کہ اسلام کے سپاہی کے دو ہی راستے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے غازی کی حیثیت سے زندہ رہے یا پھر مادرِ وطن کی ناموس پر قربان ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے پاک فوج کی ان شاندار روایات کو اپنے لہو سے برقرار رکھا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 238 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 502 Articles with 225538 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: