عمران خان کا شیخ حسینہ کو ٹیلیفون

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

وزیراعظم عمران خان کی بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ٹیلیفون کال نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہلچل سی مچا دی ہے۔یہ کال دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی کی خاموشی سے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔بدھ کے روز دوپہر ایک بجے جولائی کی شدید گرمی میں دونوں وزرائے اعظم کے مابین کم از کم پندرہ منٹ کی ٹیلی گفتگو سے کیا برسوں کی جمی برف پگل جائے گی؟ اس بارے میں ہر کوئی دلچسپی رکھنے والا دلچسپ تبصرے کر رہا ہے۔ تا ہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارت کاری کا یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ دونوں ممالک آپسی تعلقات تعطل کے شکار ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہاگیا کہ عمران خان نے اپنی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان باہمی اعتماد، باہمی احترام اور خودمختاری مساوات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔وزیر اعظم نے شیخ حسینہ کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کورونا وائرس کے دوران جاں بحق افراد کے لئے تعزیت کا اظہار کیا،بنگلہ دیش میں حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا اور اس قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔دونوں رہنماؤں نے کوویڈ 19 کے ذریعہ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ عمران خان نے شیخ حسینہ کو اپنی حکومت کی کاوشوں سے آگاہ کیا اور وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے بارے میں اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب کی تعریف کی۔انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لئے اپنے 'قرض سے متعلق امداد پر عالمی اقدام' سے بھی آگاہ کیا۔عمران خان نے بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی تعلقات کی پاکستان کی اہمیت سمیت دوطرفہ رابطوں اور عوام سے عوام کے تبادلے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سارک کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیراعظم نے پائیدار امن اور خوشحالی کے لئے علاقائی تعاون کو بڑھانے کے لئے کام کرنے والے دونوں ممالک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ہندوستان کے مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر کابیان کیا اور محفوظ اور خوشحال خطے کے لئے جموں و کشمیر تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے چار ماہ قبل بھی شیخ حسینہ واجد سے رابطہ کیا۔انہیں پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی دعوت دی۔ عمران خان نے یہ دعوت شیخ حسینہ کو ایک خط کے ذریعے مارچ میں بنگلہ دیش کے یوم آزادی اور قومی دن کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے دی تھی۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے اصولوں کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ''ہمارے دونوں ممالک علاقائی امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے مشترکہ خواہشات رکھتے ہیں اور یہ مشترکات ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہیں جس کے ساتھ ہی ہم آنے والے سالوں میں اپنے تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔''۔ عمران خان نے پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اور اپنی طرف سے کہا کہ وہ عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے یوم آزادی اور قومی دن کے موقع پر خلوص بھری مبارکباد پیش کررہے ہیں۔انہوں نے بنگلہ دیش کے برادرانہ عوام کے لئے امن، ترقی اور خوشحالی کی خواہش ظاہر کی۔یہ درست ہے کہ موجودہ علاقائی سلامتی کے ماحول نے دونوں برادر اسلامی ممالک کو اپنے کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے پر مجبور کیا۔رواں ماہ کے شروع میں، پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبد المومن سے ڈھاکہ میں ایک ملاقات کی۔ اس ملاقات نے نئی دہلی کو کافی پریشان کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے اس ملاقات کو ایک ''کارٹسی کال'' قرار دیا تھا مگر یہ اس سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران حسینہ ٹیلی فونک گفتگو اسی ملاقات کا نتیجہ ہو۔دونوں ممالک کے مابین گزشتہ کئی سال سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک ابھی تک 1971 کی ان تلخ یادوں پر قابو نہیں سکے جو سقوط ڈھاکہ اوربنگلہ دیش کی تخلیق کا باعث بنے تھے۔ تعلقات میں مزید کشیدگی کی وجہ یہ تھی کہ شیخ حسینہ واجد کی موجودہ حکومت نے 1971 میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں پر مقدمے کئے اور کئی کو پھانسی پر لٹکا دیا۔پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔ کیوں کہ بنگلہ دیش حکومت اس سہ فریقی معاہدے کی بھی خلاف ورزی کر رہی تھی جو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین 1974 کے درمیاں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش سمیت تمام ممالک نے 1971 کے واقعات میں ملوث لوگوں کے خلاف مقدمات کی پیروی نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہو گئے کہ قومی اسمبلی نے 2016 میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کی پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی۔صرف یہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی حکومت نے 20 ماہ تک پاکستانی ہائی کمشنر کی تقرری کی منظوری سے انکار کردیا۔ بالآخر اسلام آباد کو ڈھاکہ میں بطور ایلچی عمران احمد صدیقی کی تقرری کے لئے نئی تجویز پیش کرنا پڑی۔ سال کے 2019 نومبر میں ان کے نام کو ڈھاکہ نے منظور کیا ۔ جنوری میں صدیقی نے ڈھاکہ میں پاکستانی مشن میں شمولیت اختیار کی، اورپھر دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی۔اس کے باوجود پاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلہ وزیر خارجہ سے ملاقات کو کوئی پیش رفت قرار دینے کو تیار نہ تھا۔

اسلام آباد حکومت نے اس بار محتاط بالغ نظری کا ثبوت دیا ۔ہمیں ارباب اختیار سے اسی سوجھ بوجھ اور معاملہ فہمی کی توقع رہتی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات بگاڑنے کے حامیوں کو منفی سر گرمیوں کا موقع نہ مل سکا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں پاکستانی مندوب اور بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کے مابین ہونے والی ملاقات پرتشویش کا اظہار کیا گیا، اور یہ دعوی کیا گیا کہ اسلام آبادموقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔نئی دہلی اور ڈھاکہ کے مابین دیرینہ تعلقات ہیں اور مئی 2014 میں جب نریندر مودی اقتدار میں آئے تویہ تعلقات مزید گہرے ہوئے۔ لیکن ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب گذشتہ سال مودی سرکار نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) منظور کیا اور بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کی گئی ۔ بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور مارچ میں، بھارت کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات کی وجہ سے مودی کو اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا ۔ اسی دوران چین نے بنگلہ دیش کو اقتصادی اور دیگر شراکت داری کی پیش کش کی۔ ڈھاکہ پہلے ہی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا حصہ ہے۔حال ہی میں، بیجنگ نے بنگلہ دیش کو زیرو محصولات کے ساتھ چین کو سامان برآمد کرنے کی اجازت دی۔ اسی طرح چین کوویڈ۔19 وبائی امراض سے نمٹنے میں بنگلہ دیش کی مدد کرتا رہا ہے۔بنگلہ دیش نے بھارت اور چین کے مابین وادی گللوان، مقبوضہ لداخ میں حالیہ فوجی تعطل پر خاموشی اختیار کی۔ ڈھاکہ نے لداخ خطے میں چین کے ساتھ خونی لڑائی کے دوران ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر بھی دہلی سے اظہار تعزیت نہیں کیا۔ان بدلے ہوئے حالات نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو اپنے تعلقات پر نظر ثانی کا ایک اچھا موقع فراہم کیاہے۔اس موقع کو چین کی ثالثی سے تعبیر کئے بغیر وقت کا تقاضا سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو بنگلہ دیش اور ڈھاکہ کو یہاں کے مارکیٹ کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک صرف باہمی دوستی سے ہی ترقی کا سفر طے کر سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ شیخ حسینہ پہلی فرصت میں اسلام آباد کا دورہ کریں گی اور پاکستان کی طرف سے مل کر ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنے کی پیشکش کا مثبت جواب دیں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 587 Articles with 230405 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
28 Jul, 2020 Views: 210

Comments

آپ کی رائے