میڈیا مجرم نہیں

(Muddasir Ahmed, India)

اکثر میڈیا کے تعلق سے مسلمانوں کایہ نظریہ ہے کہ میڈیامسلمانوں کی حمایت میں نہیں بلکہ مسلمانوں کی مخالفت میں کام کرتا ہے۔ یقیناً مسلمانوں کا یہ الزام قابل تسلیم ہے اور یہ حقیقت بھی ہے۔ لیکن اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ میڈیا کو اتنی اہمیت نہیں دی ہے جتنی کہ انہیں دینا چاہئے تھا۔جب کبھی کسی مقام پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں یا مسلمانوں پر تشدد ہوتا ہے تو میڈیا کے نمائندے وہاں ضرور پہنچتے ہیں لیکن جو حقیقت انہیں منظر عام پر لانی ہوتی ہے وہ نہیں لائی جاتی بلکہ اسکے برعکس خبریں دکھائی جاتی ہیں، ان خبروں کو دیکھنے کے بعد مسلمان پھر میڈیا کے متعصبانہ رویہ پر واویلا مچاتے ہیں لیکن انکا یہ واویلا محض چار دیواری یا زیادہ سے زیادہ ہوٹلوں کی میز پر چائے کی پیالی ختم ہونے تک رہتا ہے پھر مسلمانوں کو نہ ظلم و ستم یاد رہتا ہے نہ ہی میڈیا کا تعصب انکی نظروں میں رہتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب کوئی اپنے قیام کے لئے ایک گھر کی تعمیر کرتا ہے تو وہ گھر اسی کا ہوتا ہے، اس گھر میں وہ اپنی مرضی کے مطابق آرائش کا سامان لاتا ہے ور اپنے گھر میں دوسروں کی مداخلت کو منظور نہیں کرتا اور اسکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اسکے گھر میں کسی کی بھی مداخلت نہ ہو بالکل اسی طرح سے میڈیا کا بھی یہی معاملہ ہے، ہر ایک میڈیا کمپنی کے مالکان اپنے مخصوص ایجنڈے کو سامنے رکھ کر اپنے مقاصد اور ضرورتوں کی ترجمانی کے لئے میڈیا ہاو?زس کو عمل میں لاتے ہیں اور وہ اس میڈیا کے ذریعے سے اپنے نظریات کی تشہیر کرتے ہیں، سرمایہ انکا،کام کرنے والے انکے ، انتظامات کرنے والے انکے ہی نظریات رکھنے والوں میں سے ہوں تو کیوں کر دوسروں کی ترجمانی یا حمایت میں کام کریگا ؟۔ ویسے ہندوستان بھر میں مسلمانوں کے کچھ اخبارات اور رسائل موجود ہیں مگر ان کا تعلق اردو صحافت سے ہے اور ہر ایک شخص اب جان چکا ہے کہ اردو اب سرکاری زبان ہے لیکن اسے مسلمانوں کی زبان بنا کر رکھا گیا ہے ، اگر آج کوئی اردو پڑھتا ہے اور بولتاہے تو وہ صرف مسلمان ہیں اور غیروں تک ان اردو اخباروں و رسائل کا پیغام بہت کم پہنچتا ہے۔ ہم نے ہمارے اخبارات و رسائل میں مسلمانوں کی ترجمانی کابیڑہ ضرور اٹھایا ہے ، پچھلے50 سالوں سے ہم نے ان اخباروں و رسائل کے ذریعے اسلام و مسلمانوں کو امن کے پیمبر ثابت کرنے کی بہت اچھی پہل کی ہے۔ ہمار ے ان اردو اخبارات میں مسلمانوں کا دہشت گرد نہ ہونے کی دلیلیں بہت اچھی طریقے سے دی ہیں ، ہر بم دھماکے کی مذمت مسلمانوں کے ہر ادارے نے بہت اچھی طرح سے کی ہے اور اس مذمت کو بیشتر اردو اخبارات نے سرخی کے ساتھ پیش کیا۔ ہندوستان کے آئین کے تعلق سے مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے ان اردواخبارات میں اچھے خاصے مضامین شائع ہوئے ہیں۔ جہاد ، فتویٰ ، شادی ، طلاق اور مسلم پرسنل لاء کے تعلق سے بھی اردو اخبارات میں مسلسل مضامین شائع ہوتے رہے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود مسلمانوں اور اسلام کے تعلق سے جو منفی یا غلط نظریات دوسری اقوام میں پائی جاتی ہیں ان نظریات کو بدلنے یا حقیقت کو ان تک پہنچانے میں اردو میڈیا ناکام رہاہے۔ کوئی ہمیں یہ بتادے کہ اسلام کی حمایت میں کیا کسی انگریزی اخبار یا الیکٹرانک میڈیا نے کبھی کسی مضمون کو جگہ دی ، انگریز ی نہ صحیح مقامی علاقائی زبانوں میں تک اس کام کو انجام دینے سے گریز کیا جارہاہے ، ایسے میں ہم اب بھی اس آرزو میں ہیں کہ میڈیا اسلام اور مسلمانوں کی غلط شبیہہ پیش کرنے سے گریز کرے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس میڈیا کو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ہی بنایا گیا ہو وہ اسلام اور مسلمانوں کی تعریف یا اسکا اصل خاکہ پیش کرے ؟۔یہ سوچ تو ایسی ہے جیسے کہ کوئی دودھ میں کھٹا ڈال کر اسے دودھ ہی بنے رکھنے کی توقع کریں۔ آج اگر اسلام اور مسلمانوں کو میڈیا کا شکار ہونے سے بچانا ہوگا تو سب سے پہلے مسلمانوں کو اپنے میڈیا کمپنی کا قیام کرنے کی سمت میں پہل کرنی ہوگی اور اس میڈیا کمپنی کو پوری طرح سے کمرشلائز کرتے ہوئے اسے مسلم میڈیا بنانے کے بجائے میڈیا تک ہی محدود رکھنا ہوگااور اس میں اسلام کی تشہیر کرنے کے بجائے اسلام پر اٹھنے والے سوالات کا جوابات دیا جانے لگے تو یہی اسلام کی بدنامی کو روکنے کے لئے سب سے بڑا کام ہوگا۔ اگر ہم نے ماضی کے واقعات سے سبق نہیں سیکھا اور اگلے دو چار سالوں میں اس سمت میں کام نہیں کیا تو آج کا جو میڈیا صرف ڈسنے کی کوشش کررہاہے وہ اگلے دنوں میں ڈس کر ہی رہیگا اور اس کا زہر جسموں پر ایسا اثر کریگا کہ کوئی اسکا علاج نہیں کر پائیگا۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 185 Articles with 55424 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Feb, 2021 Views: 127

Comments

آپ کی رائے