فلسطین:جنسی تشدد پر چھائی خاموشی

بسم اللہ الرحمان الرحیم
5جولائی2026ء
مشرقی اُفق
میر افسر امان
فلسطین:جنسی تشدد پر چھائی خاموشی۔۳
ایک سابق اسرائیل افسر نے جیل کے ہسپتال میںBreaking the silence نامی اسرائیل گروپ کو دیے گئے بیان میںبتایا کہ یہ قبول شدہ رویہ عملی طور پر کیا معنی رکھتا ہے؟’’آپ عام ’اچھے لگنے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں، جو تفریح کے لیے لوگوں پر زیادتی کرنے لگتے ہیں، بس مزے کے لیے۔‘‘
زیادہ تر ریپ اورجنسی تشدد مردوں پرکیا گیا’اس لیے کہ فلسطینی قیدی ۹۰ فی صدسے زیادہ مرد ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے ایک فلسطینی عورت ،سے بات کی‘ جواکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے بعد ۲۳ سال کی عمر گرفتار ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ’’ اسے گرفتار کرنے والے فوجیوں نے اسے‘ اس کی ماںاورچھوٹی بھتیجی کے ساتھ ریپ کرنے کی دھمکی دی۔ جیل میںخاتون محافظوں کے ہاتھوں بے لباس کر کے تلاشی سے اس کا عذاب شروع ہوا‘لیکن پھر اسی دوران ایک مرد فوجی اندر آیا جب مجھے بے لباس کیا گیا تھا۔ اگلے چند دنوں تک مجھے بار بار بے لباس کیا جاتا‘ اورمرد و خواتین محافظوں کی ٹیموں کے ذریعے تلاشی لی جاتی رہی۔ اس مشق کا ہمیشہ ایک ہی طریقہ تھا:کئی محافظ(مرد اور عورتیں)میرے سیل میں آتے، زبردستی کپڑے اتارتے،‘ ہاتھ پیچھے کر کے ہتھکڑی لگاتے،چھٹکا دیتے(بعض اوقات سر ٹالیٹ کے کموڈ میں دبا دیتے)۔ اسی حالت میں مارا جاتا اور پورے جسم پر ہاتھ پھیرے جاتے۔ مجھ کچھ پتہ نہیں کہ انھوںنے مجھے ریپ کیا یا نہیں‘کیونکہ بعض اوقات میں مار پیٹ سے بے ہوش ہو جاتی تھی‘‘۔
اس کا خیال ہے کہ زیادتی کے مقصد دو تھے:حوصلہ توڑنا اور اسرائیل مردوں کے ایک بے لباس فلسطینی عورت کے ساتھ بلا روک ٹوک دست درازی کی اجازت دینا۔مجھے دن میں کئی بار بے لباس کر کے مارا جاتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ مجھے وہاں پر کام کرنے والے ہر شخص کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ہر شفٹ کے شروع میںدو لڑکوں کو مجھے بے لباس کرنے کے لیے لاتے۔ جیل سے رہا ہونے سے پہلے مجھے ایک کمرے میںبلایا گیا ،جہاں چھ افسران موجود تھے۔ انھوں نے سختی سے خبردار کیا کہ میںکبھی بھی کسی کو انٹر ویو نہ دینا، اور دھمکی دی کہ اگر میں نے بات کی تومجھے ریپ کریں گے،مجھے ماریں گے اور میرے باپ کو بھی ماردیں گے‘‘۔ اس متاثرہ خاتون مجھ سے مضمون میں اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
غزہ کے ایک صحافی نے۲۰۲۴ء میں گرفتاری کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کی تفصیل سنائی:’’کوئی بھی زیادتی سے نہیں بچا۔اگرچہ ہر ایک سے ریپ تو نہیں ہوا’لیکن سب نے ذلت اور گندی جنسی زیادتی ضرور برداشت کی‘‘۔ایک بار محافظوں نے اس کے فوطوں اور عضو خاص کو گھنٹوں کے لیے پلاسٹک کی پٹی سے باندھ دیا اور ان پر ضربیں لگائی گئیں۔ اس کے بعد کئی دن تک اس کوپیشاب خون کے ساتھ آیا۔ایک موقعے پر اسے ننگا کیا گیا۔آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ ہتھکڑی میں بندھے ہوئے تھے اور ایک کتا بلایا گیا اور محافظوں کا کتا اس پر چڑھ گیا۔ اس نے بتایا:’’ وہ کیمرے سے تصاویر لے رہے تھے اور میں اُن کے قہقے سن رہا تھا‘‘۔میں نے کتے کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
دیگر فلسطینی قیدیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین نے بھی کتوں کو قیدیوں کے ساتھ ریپ کرنے کے لیے اُکسانے کی رپورٹیں دی ہیں۔ اس مظلوم صحافی نے کہا کہ رہا ہونے پر ایک اسرائیلی افسر نے مجھے خبردار کیا: ’’اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو واپس جاکر میڈیا سے بات نہ کرنا‘‘۔لیکن اس کے باوجود وہ بات کرنے کو کیوں تیار ہوا؟
اس نے بتایا: کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جنھیں برداشت نہیں ہوتا‘‘۔’’ ابھی آپ سے بات کرتے ہوئے یوںلگ رہاہے کہ میرا دل رک جائے گا، لیکن مجھے احساس ہے کہ اب بھی بہت سے لوگ وہاں اندر ہیں۔ اس لیے ان کاخیال کر کے بات کر رہا ہوں۔‘‘
کئی بیانات بتاتے ہیں کی جنسی تشدد فلسطینی بچوں پر بھی کیا گیا،جو عام طور پر پتھر پھینکنے پر قید کیے جاتے ہیں۔ میں نے تین لڑکوں سے انٹر ویو کیے، جو گرفتار ہو چکے تھے۔ تینوں نے جنسی تشدد کا ذکر کیا۔ ان میں ایک شرمیلا تھا، جوگرفتاری کے وقت ۱۵ سال کا تھا۔’ اس نے یہ بتانے سے ا نکار کیا۔اس نے اصلی ریپ بھی دیکھا؟لیکن اس نے کہا کہ دھمکیاں روز کامعمول تھیں:’’وہ کہتے’یہ کام کر’یہ کام کر’ ورنہ ہم ڈنڈا تھماری مقعد میںٹھونس دیں گے’’َ دوسرے لڑکوں نے بھی جنسی تشدد کی تقریباً ایسی ہی کہانیاں سنائیںجو مار پیٹ کے ساتھ ہوتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ریپ کی دھکمیاں نہ صرف ا نھیں ، بلکہ ان کی مائوں بہن بھائیوںکو بھی دی جاتی تھیں۔
اسرائیلی آباد کاروںکی اسرائیلی فوج حفاظت کرتی ہے’جب وہ فلسطنی بستیوں پر حملے کرتے ہیں اور جنسی تشددکر کے فلسطینیوں کو بھگانے پر مجبور کرتے ہیں‘۔

ویسٹ بنک پروٹیکشن کنسورشیم(بین الاقوامی امدادی گروپس کا اتحاد) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق،’’جنسی نوعیت کا تشدد مقامیوں پر دبائو ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے‘‘ تاکہ وہ اپنی زمین چھوڑ کر چلے جائیں‘‘۔اس کنسورشیم نے فلسطینی کسانوںکا سروے کیا توپتہ چلا کہ ۷۰ فی صد سے زیادہ گھرانوں کی نقل مکانی کی’اُن میں عورتوں اور بچوں کو جنسی تشدد کی دھمکیاں ہی ان کے جانے کی سب سے بڑی وجہ تھیں‘۔ اس تنظیم کی رکن الیگراپاچیکو نے کہا:’’ جنسی تشدد لوگوں کو ان کی زمین سے بھگانے کے طریقوں میں سے ایک موثر ہتھیار ہے‘‘۔
اُردن کی وادی کے ایک دور دراز دیہاتی کسانوں کے گائوں میںمَیں نے ۲۹ سالہ کسان سہیب ابوالکباش سے ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً ۲۰؍ اسرائیلی آباد کاروں کے ایک گروپ نے ان کے گھر پر حملہ کیا،بڑوں اوربچوں کو مارا، زیوارت لوٹے،۴۰۰ بھیڑیں چرالیں۔ ایک نے شکار والی چھری سے ان کے کپڑے کاٹے، پھر ان کے عضو کو پلاسٹک کی رسی سے باندھ کر کھینچا۔ اسی طرح ابوالکباش نے بتایا:’’ مجھے ڈر ہے کہ وہ میرے عضو کاٹ ڈالیں گے۔ میں نے سوچاکہ یہ میری زندگی کا آخری لمحہ ہے۔‘‘
کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ فلسطینی اسرائیل کو بدنام کرنے کے لیے جنسی زیادتی کے جھوٹے الزاما ت لگا رہے ہیں ۔میرے نذدیک ایسا ہر گز نہیں کیونکہ جن سے میں نے بات کی ، اُن میں سے کسی نے آگے بڑھ کرمجھ سے خود رابطہ نہیں کیا تھا کہ ہم سے اور کیا بات کرنے یا پوچھنے والے ہیں، اور وہ بات کرنے سے ہچکچاتے تھے۔
ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل میں جنسی زیادتی اتنے عام ہو چکی ہے کہ اب وہاں کے رسم و رواجNorms بدل رہے ہیں اور فلسطینی متاثرین بات کرنے لگے ہیں۔
محمد مطر فلسطین افسر نے مجھے بتایا:’’چھ مہینوں تک میں اس بارے بات نہیں کر سکا، حتیٰ کہ اپنے گھر والوں سے بھی نہیں‘‘۔ آباد کاروں نے مجھے ننگا کیا، مارا اور ڈنڈے سے ان کے نچلے حصے کو چھیڑا، جب کہ وہ ریپ کی باتیں کر رہے تھے۔ حملے کے دوران انھوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر انڈر ویئر اُتار دیا اور ننگی تصویر بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ وقت کے ساتھ مطر نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جھجک کو ختم کرنے کے لیے الم انگیز یاد تازہ رکھیں گے۔ اب وہ اپنے دفتر کی دیوار پر آبادکاروں کے ہاتھوں ظلم و زیادتی دکھانے والی بڑی تصویر کولٹکائے رکھتے ہیں۔
اس لیے ہم اس نکتے پر واپس آتے ہیں جو میں نے اس کالم کے شروع میں کہا تھا:‘‘مشرق وسطیٰ کے تنازے میں ہمارے جو بھی خیالات ہوں،ہمیں کم از کم جنسی تشددRape کی مذمت کرنے پر متحد ہوجانا چاہیے‘‘۔
اسرائیلی حکام کو اپنی خلاف درزیوں پر نظر ڈالنی چاہیے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی گزشہ سال ۴۹ صفحات کی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل ’’ فلسطینیوں کے ساتھ، جنسی نوعیت کا تشدد‘‘منظم‘ طریقے سے کر رہا ہے، جس میں اعلیٰ ترین سول اور فوجی قیادت کی خاموش اجازت شامل ہے۔ 
Mir Afsar Aman
About the Author: Mir Afsar Aman Read More Articles by Mir Afsar Aman: 1136 Articles with 1393498 views born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More