حالاتِ حاضرہ: ایک جھلک۔۔۔تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی: آسٹریلیا

hحالاتِ حاضرہ: ایک جھلک
شہید کی جو موت ہے، قوم کی حیات ہے
حالاتِ حاضرہ: ایک جھلک
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے حق، انصاف اور آزادی کی خاطر عظیم قربانیاں دیں، وہ قربانیاں محض افراد کے جسمانی وجود کے خاتمے کا نام نہیں رہیں بلکہ اجتماعی شعور، عزم اور بیداری کی علامت بن گئیں۔تاہم آج کا عالمِ اسلام اور دنیا کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر اس سوال سے دوچار ہے کہ ظلم اور عدل، طاقت اور حق، اور جبر و مزاحمت کی کشمکش میں اقوام اپنا مستقبل کس بنیاد پر تعمیر کریں گی۔ ایسے حالات میں شہادت کا تصور محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ اصولوں پر استقامت، حق گوئی اور اجتماعی ذمہ داری کی علامت بن جاتا ہے۔
کوئی بھی قوم اس وقت تک زندہ رہتی ہے جب وہ اپنے شہدائ کی قربانیوں سے سبق حاصل کرے، عدل و انصاف کو فروغ دے، اتحاد کو مضبوط کرے اور آنے والی نسلوں میں کردار، علم اور اخلاق کی شمع روشن رکھے۔ یہی وہ حیات ہے جو شہدائ کے خون سے پھوٹتی ہے اور تاریخ کے دھارے کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔
لہٰذا، موجودہ عالمی حالات میں ضروری ہے کہ جذبات کے ساتھ بصیرت، اور عزم کے ساتھ حکمت بھی اختیار کی جائے تاکہ قربانیوں کا ثمر امن، انصاف اور انسانی وقار کی صورت میں سامنے آئے۔’’شہید کی جو موت ہے، قوم کی حیات ہے‘‘محض ایک انقلابی نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کے ان اوراق کی بازگشت ہے جہاں خون سے لکھی گئی سطریں قوموں کے مقدر بدل دیتی ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کی کہ نظریات کو گولیوں سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ جسم مٹ جاتے ہیں، مگر فکر اپنے ماننے والوں کے دلوں میں نئی زندگی پا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی رہنما اپنے موقف کی قیمت اپنی جان سے ادا کرتا ہے تو اس کی قبر ایک فرد کی نہیں، ایک عہد کی علامت بن جاتی ہے۔
عصرِ حاضر میں طاقت کے ایوان اپنے عسکری غرور، جدید ہتھیاروں اور سیاسی دباؤ کو تاریخ کا آخری فیصلہ سمجھ بیٹھے ہیں، مگر تاریخ بارہا یہ بتا چکی ہے کہ فولاد کی قوت سے دلوں کی سلطنت فتح نہیں کی جا سکتی۔ جب طاقت انصاف سے خالی ہو جائے تو اس کی چمک دیرپا نہیں رہتی، اور جب مظلوم کا لہو زمین پر گرتا ہے تو وہ آنے والے زمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
آج شرق الاوسط کی سرزمین ایک بار پھر آگ اور خون کی کہانی سنا رہی ہے۔ بظاہر میزائل بولتے ہیں، مگر حقیقت میں تہذیب، خودمختاری اور انسانی وقار آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کے طاقتور مراکز اپنے اقدامات کو امن کا نام دیتے ہیں، لیکن ویران ہوتے شہر، اجڑتے گھر اور یتیم ہوتی نسلیں ایک مختلف داستان سناتی ہیں۔
شہدائ کی میراث انتقام نہیں، بلکہ استقامت ہے؛ نفرت نہیں، بلکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا پیغام ہے۔ یہی پیغام ہر اس قوم کے لیے مشعلِ راہ بنتا ہے جو آزادی، خودمختاری اور عزتِ نفس کو اپنی شناخت سمجھتی ہے۔اگرچہ افراد رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن حق کے قافلے نہیں رکتے۔ تاریخ کا سفر گواہ ہے کہ خون سے سینچی ہوئی فصلیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ یہی شہادت کا ابدی فلسفہ ہے۔
شرق الاوسط کے نازک حالات میں شہادت کا تصور صرف مذہبی یا جذباتی مفہوم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اصولوں پر استقامت، ظلم کے خلاف مزاحمت اور انسانی وقار کے تحفظ کی علامت بن جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نظریات کو طاقت کے زور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جسم فنا ہو جاتے ہیں لیکن فکر زندہ رہتی ہے، اور یہی زندہ فکر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔اسلامی تاریخ میں شہادت کا تصور ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ قربانی کا مقصد نفرت کو فروغ دینا نہیں بلکہ عدل، صبر، استقامت اور اخلاقی برتری کو زندہ رکھنا ہے۔ شہدائ کی میراث انتقام نہیں، بلکہ اصولوں پر ثابت قدمی ہے۔ ان کا پیغام خونریزی نہیں بلکہ ظلم کے مقابلے میں انسانی وقار کی حفاظت ہے۔
آج امتِ مسلمہ سمیت پوری دنیا کو اس امر کی ضرورت ہے کہ وہ جذبات کے ساتھ بصیرت، مزاحمت کے ساتھ حکمت، اور اختلاف کے ساتھ انصاف کو بھی اپنائے۔ اگر قربانیاں صرف انتقام کے جذبے کو جنم دیں تو وہ تاریخ کا بوجھ بن جاتی ہیں، لیکن اگر وہ عدل، امن، انسانی حقوق اور اجتماعی اصلاح کا ذریعہ بنیں تو وہ اقوام کی نئی زندگی کا آغاز ثابت ہوتی ہیں۔ہر زندہ قوم اپنے شہدائ کو صرف یاد نہیں کرتی بلکہ ان کے کردار، دیانت، عزم اور اخلاق کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بناتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو کمزور ہونے سے بچاتا ہے، نئی نسلوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور معاشروں کو اخلاقی قوت عطا کرتا ہے۔
جہاں تک شہادت کے مفہوم کا سوال ہے تو یہ ذہین نشین رکھنا ہو گا کہ’’اسلامی روایت میں شہادت کا مفہوم انتقام نہیں بلکہ عدل، صبر، استقامت اور انسانی وقار کا تحفظ ہے۔ شہید کا خون نفرت نہیں بوتا، بلکہ ظلم کے مقابلے میں حق پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر دور میں زندہ قوموں کی رہنمائی کرتا آیا ہے‘‘۔
علامہ اقبال ؒنے ملت کی حیات اور قربانی کے رشتے کو نہایت گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک قومیں آسائش سے نہیں بلکہ ایثار، کردار اور مسلسل جدوجہد سے زندہ رہتی ہیں۔ علامہ اقبالؒ کا شاہین بلند پروازی، خودی اور بے خوفی کا استعارہ ہے، اور یہی صفات ہر اس قوم کی شناخت بنتی ہیں جو آزادی اور عزتِ نفس کو اپنی تقدیر بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے شہادت کو ملتِ اسلامیہ کی حیاتِ نو کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا حقیقی مقصد صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ باوقار زندگی گزارنا ہے۔وہ فرماتے ہیں:
صدقِ خلیل بھی ہے، صبرِ حسین بھی ہے عشق
معرکہ¿ وجود میں بدر وحنین بھی ہے عشق
ایک اور مقام پر وہ ملت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
علامہ اقبال ؒکے نزدیک شہادت شکست کا نام نہیں بلکہ خودی کی معراج ہے۔ جب کوئی فرد اپنے اصولوں کی خاطر جان دے دیتا ہے تو وہ اپنی ذات سے بلند ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں فکری انتشار، تعلیمی پسماندگی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی انحصار نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حل محض جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ علم، تحقیق، کردار سازی اور اجتماعی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو بارہا متوجہ کیا کہ ان کی اصل قوت ان کے ایمان، علم اور اخلاق میں ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اور
شہادت ہے مطلوب و مقصود ِ مومن
نہ مالِ غنیمت ، نہ کشور کشائی
عصرِ حاضر میں ایران، اس کے رہنما اور عوام اس فلسفے کی زندہ مثال ہیں جنہوں نے استبدادی قوتوں کے سامنے سرنگوں ہونے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ جرأت اور قربانیوں کی وہ داستانیںرقم کیں ہیں جو پچھلے زمانوں کے لیے مثال بنے گی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ جذبات کے ساتھ حکمت، اتحاد کے ساتھ بصیرت، اور مزاحمت کے ساتھ اخلاقی برتری کو بھی اپنا شعار بنائے۔ شہدائ کی قربانیوں کا حقیقی احترام اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے معاشروں میں انصاف، علم، کردار، دیانت اور اتحاد کو فروغ دیں۔ یہی وہ اقدار ہیں جو کسی بھی قوم کو پائیدار قوت عطا کرتی ہیں۔
تاریخ کا سفر جاری رہے گا۔ افراد بدلتے رہیں گے، قیادتیں آتی جاتی رہیں گی، لیکن حق کا قافلہ کبھی نہیں رکے گا۔ خون سے سینچی ہوئی تحریکیں وقتی آزمائشوں سے ضرور گزرتی ہیں، مگر اگر ان کی بنیاد صداقت، عدل اور انسانی وقار پر ہو تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتی ہیں۔
آج بھی یہ مصرع پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے، ہمیں جھنجھوڑتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی زندگی صرف ان کے زندہ افراد سے وابستہ نہیں ہوتی، بلکہ ان عظیم قربانیوں سے وابستہ ہوتی ہے جو ان کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیتی ہیں۔
ع شہید کی جو موت ہے، قوم کی حیات ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اسی بصیرت کی ہے۔ داخلی اختلافات، فرقہ وارانہ تقسیم، سیاسی انتشار اور باہمی بداعتمادی نے ہمیں کمزور کیا ہے، جبکہ دشمن کی قوت کا اصل راز اس کی ٹیکنالوجی سے زیادہ ہماری کمزوریاں ہیں۔ اگر مسلمان علم، تحقیق، اخلاق، اتحاد اور خود انحصاری کو اپنی ترجیح بنا لیں تو کوئی طاقت ان کی عزتِ نفس کو پامال نہیں کر سکتی۔
قرآنِ مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہدائ مردہ نہیں بلکہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں۔ اس آیت کا پیغام صرف آخرت کی بشارت نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک ابدی سبق ہے کہ جو قوم اپنے محسنوں اور شہدائ کے افکار کو زندہ رکھتی ہے، وہ کبھی مردہ نہیں ہوتی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ افراد دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن اگر ان کی فکر اپنے ماننے والوں کے کردار، عزم اور اجتماعی شعور میں زندہ رہے تو تاریخ کا سفر رک نہیں سکتا۔
آج جب دنیا ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کے دور سے گزر رہی ہے، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم صرف واقعات کے تماشائی رہیں گے یا ان سے سبق حاصل کر کے اپنے معاشروں میں علم، عدل، اتحاد اور اخلاقی بیداری کی نئی بنیاد رکھیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو شہدائ کے خون کا حقیقی احترام ہے اور یہی قوموں کی دائمی زندگی کا راز بھی۔
شہادت تاریخ کے صفحات پر لکھی جانے والی کوئی عارضی داستان نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی دائمی آواز ہے۔ شہدائ کے خون سے قوموں کے اندر حیاتِ نو، اخلاقی بیداری اور فکری استقامت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے شہدائ کو صرف یاد نہیں کرتیں بلکہ ان کے افکار، کردار اور قربانیوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بناتی ہیں۔
قرآنِ مجید، سیرتِ نبوی ﷺ، تاریخِ اسلام اور فکرِ اقبال سب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ قربانی اور ایثار قوموں کی حیات کا سرچشمہ ہیں۔ جب تک قومیں اپنے اصولوں، اقدار اور اجتماعی ذمہ داریوں سے وابستہ رہتی ہیں، وہ زندہ رہتی ہیں؛ اور جب یہ رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 173 Articles with 252382 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More