5 اکتوبر ۔۔۔ آج کا دن اپنے اساتذہ کرام کے نام


تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
انسان کی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا احسان الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ والدین کے بعد اگر کسی طبقے کا انسان کی شخصیت، کردار، فکر اور زندگی پر سب سے گہرا اثر ہوتا ہے تو وہ اساتذہ کرام ہیں۔ استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ وہ شخصیت ساز، کردار ساز اور نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ وہ اپنے علم، کردار، شفقت اور تربیت سے طالب علم کی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کرتا ہے۔ یومِ اساتذہ کرام کے موقع پر جب میں اپنی علمی و فکری زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اپنے وہ عظیم اساتذہ یاد آتے ہیں جنہوں نے میرے ہاتھ میں کتاب دی، میرے ذہن کو علم کی روشنی عطا کی، میرے کردار کی تربیت کی اور مجھے زندگی کے نشیب و فراز میں حق و صداقت کا راستہ دکھایا۔ میرے لیے یہ سعادت بھی ہے اور خوش بختی بھی کہ مجھے ایسے اہلِ علم و فضل کی صحبت اور شاگردی نصیب ہوئی جن کی علمی زندگی میرے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہے۔ میرے سب سے پہلے اور سب سے بڑے استاد میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نور اللہ مرقدہ ہیں۔ وہ میرے والد ہی نہیں بلکہ میرے پہلے مدرس، مربی، رہنما اور فکری استاد بھی تھے۔ ان کی شخصیت علم و عمل، تقویٰ، اخلاص اور دینی غیرت کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے مجھے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ علم کا ادب، اہلِ علم کا احترام، سچائی کی اہمیت اور دین کے ساتھ وابستگی کا شعور دیا۔ ان کی زندگی خود ایک ایسی کتاب تھی جس کے ہر صفحے پر علم، دعوت، اصلاح اور خدمتِ دین کا سبق موجود تھا۔ آج وہ ظاہری طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی تعلیمات، دعائیں اور تربیت آج بھی میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ میرے محترم اساتذہ میں مشفق استاد شیخ القراء قاری ولی محمد نورزئی مرحوم کا مقام بھی نہایت اہم ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت، تجوید اور قراءت کے ساتھ جو شغف پیدا ہوا اس میں ان کی محنت اور تربیت کا بنیادی کردار ہے۔ قرآن مجید کے حروف کی درست ادائیگی سے لے کر تلاوت کے آداب تک انہوں نے محبت اور شفقت کے ساتھ رہنمائی فرمائی۔ ان کی یاد آج بھی میرے دل میں عقیدت و احترام کے جذبات پیدا کرتی ہے اور میرے محترم استاد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالبصیر فائز صاحب سے کسبِ علم بھی میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ حدیث و دینی علوم کی تعلیم انسان کے فکر و عمل کو سنوارتی ہے اور استاد جب علم کے ساتھ اخلاص و عمل کا نمونہ بھی پیش کرے تو شاگرد کے دل پر اس کا اثر مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ ان کی علمی رہنمائی میرے لیے ہمیشہ قابلِ قدر رہے گی۔ اسی طرح میرے دیگر بہترین محترم اساتذہ کرام مولانا ندا محمد حقانی مرحوم ، قاری ممتاز احمد ڈیروی، مولوی عبدالحکیم صاحب، ماسٹر سیف اللہ صاحب، ماسٹر عبدالمناف رودی صاحب اور ماسٹر محمد اسحاق چکوالی صاحب مرحوم ، ماسٹر محمد فاروق صاحب سمیت دیگر اساتذہ کرام بھی میری علمی و تربیتی زندگی کے معمار ہیں۔ ہر استاد نے اپنی بساط کے مطابق میرے علمی سفر میں ایک چراغ روشن کیا۔ کسی نے قرآن سے رشتہ مضبوط کیا، کسی نے دینی علوم کی بنیاد مستحکم کی، کسی نے اخلاق و کردار کی تربیت کی اور کسی نے زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ عطاء کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد کا احسان ایسا قرض ہے جو زندگی بھر ادا نہیں کیا جاسکتا۔ طالب علم اپنے استاد سے جو کچھ سیکھتا ہے وہ صرف امتحان میں نمبر حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کے سفر میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ استاد کی ایک نصیحت کبھی انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے، ایک جملہ حوصلہ بن جاتا ہے اور ایک دعا مشکل وقت میں سہارا بن جاتی ہے۔ آج کے دور میں جب علم کے ذرائع بہت زیادہ ہوگئے ہیں اس کے باوجود استاد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ گئی ہے۔ کتاب معلومات دے سکتی ہے اور ٹیکنالوجی سہولت فراہم کرسکتی ہے لیکن انسان کے اندر علم کے ساتھ شعور، اخلاق، ذمہ داری اور کردار پیدا کرنے کا عظیم فریضہ استاد ہی انجام دیتا ہے۔ میں یومِ اساتذہ کرام کے موقع پر اپنے تمام اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ جو اساتذہ حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عافیت، عزت اور طویل عمر عطا فرمائے اور جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی علمی و دینی خدمات کو صدقہ جاریہ بنائے۔ خصوصاً اپنے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نور اللہ مرقدہ سمیت اپنے تمام مرحوم اساتذہ کے لیے دل سے دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے منور فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علم و تربیت سے وابستہ تمام شاگردوں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ اساتذہ کرام حقیقت میں قوموں کے خاموش معمار ہیں۔ ان کی محنت کا ثمر کبھی ایک طالب علم، کبھی ایک عالم، کبھی ایک استاد اور کبھی پوری نسل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ میری زندگی میں میرے اساتذہ کی محنت، دعاؤں اور تربیت کا جو حصہ ہے اسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ میرے تمام اساتذہ کرام کو سلام، عقیدت اور محبت آپ نے جو علم کا چراغ میرے ہاتھ میں دیا اور میری کوشش ہے کہ اسے آگے آنے والی نسلوں تک پہنچاتا رہوں۔ 
Hafiz Mohammad Siddique Madani
About the Author: Hafiz Mohammad Siddique Madani Read More Articles by Hafiz Mohammad Siddique Madani: 71 Articles with 84892 views Mohammad Siddiq Madani from Chaman Pakistan .
Columnist and President of Shamshad Writers Forum Pakistan
Member of Youth Parliament Of Pakistan (YP
.. View More