جنگل کا شیر، صوبے کا تاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ
(M. Furqan Hanif, Karachi)
خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی کشمکش کو جنگل کی علامتوں میں دیکھا جائے تو اصل مسئلہ اقتدار نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری اور سیاسی تصادم کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ وزیراعلیٰ کو شیر کی طرح پورے صوبے کا محافظ ہونا چاہیے، کسی جماعتی مزاحمت کا کمانڈر نہیں۔ بھیڑیا صفت ہجوم، لومڑی جیسی سیاسی چالیں اور سانپ کی مانند نفرت آمیز بیانیہ ریاستی نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ وفاق بھی ہاتھی کی طاقت استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرے، کیونکہ طاقت کا بے جا استعمال بحران بڑھا سکتا ہے۔ اصل شکاری دہشت گردی اور بدامنی ہیں، جبکہ عوام معصوم ہرن کی طرح اس کشمکش کا سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کو جنگل کا نہیں، آئین کا قانون چاہیے۔
|
|
|
جنگل میں ایک اصول ہمیشہ سے عجیب رہا ہے:
جس کے سر پر تاج ہو، ضروری نہیں کہ وہ جنگل کا محافظ بھی ہو۔
کبھی شیر تخت پر بیٹھا ہوتا ہے، کبھی بھیڑیوں کا غول اس کے گرد حلقہ بنائے ہوتا ہے، کبھی لومڑی اپنے آپ کو سب سے زیادہ دانا سمجھتی ہے، اور کبھی ہاتھی اپنی طاقت کے زعم میں یہ بھول جاتا ہے کہ جنگل صرف طاقت سے نہیں، توازن سے قائم رہتا ہے۔
پاکستان کا سیاسی جنگل بھی آج کل کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایک صوبائی حکومت ہے، اس کے پاس اختیار ہے، اسمبلی ہے، انتظامیہ ہے، پولیس ہے، وسائل ہیں—مگر اس وقت اس کی سیاسی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسلام آباد کی طرف مارچ اور اپنے قائد عمران خان کی سیاسی جنگ میں صرف ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ احتجاج کیوں ہو رہا ہے۔
سوال یہ ہے:
جس شیر کو اپنے جنگل کی حفاظت کرنی تھی، وہ دارالحکومت کی طرف شکار پر کیوں نکل پڑا؟
🦁 شیر اور تخت
جنگل کا بادشاہ اگر اپنے تخت پر بیٹھ کر ہر آنے والے کو دشمن سمجھنے لگے تو آہستہ آہستہ جنگل میں قانون کی جگہ خوف لے لیتا ہے۔
سیاسی قیادت بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
عمران خان پاکستان کے ایک بڑے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے حامیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، ان کی سیاسی قوت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن جمہوریت میں مقبولیت تاج ہو سکتی ہے، بادشاہت کا فرمان نہیں۔
کوئی بھی قائد اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ اس کی ذات آئین سے بڑی ہو جائے۔
کوئی جماعت اتنی مقدس نہیں کہ اس پر تنقید غداری بن جائے۔
اور کوئی سیاسی اختلاف اتنا بڑا نہیں کہ ریاستی اداروں سے مستقل جنگ کو معمول بنا دے۔
یہیں سے عمران خان کی سیاست کا سب سے متنازع پہلو سامنے آتا ہے:
شخصیت کو مرکز بنا کر پوری سیاست کو “ہم یا وہ” میں تقسیم کرنا۔
جنگل میں اگر ہر جانور دوسرے کو صرف دشمن سمجھنے لگے تو آخرکار شیر بھی تنہا ہو جاتا ہے، ہرن بھی خوف زدہ ہوتا ہے اور جنگل بھی غیر محفوظ۔
🐺 بھیڑیوں کا غول اور سیاسی ہجوم
جنگل میں بھیڑیے اکیلے شکار نہیں کرتے۔
وہ غول بناتے ہیں۔
غول کی طاقت فرد کی عقل پر غالب آ جاتی ہے۔
سیاست میں بھی یہی خطرہ ہوتا ہے جب جماعتی وابستگی عقل، دلیل اور آئینی حدود پر غالب آ جائے۔
پھر کارکن سوال نہیں کرتا:
وہ صرف نعرہ لگاتا ہے۔
وہ پالیسی نہیں دیکھتا:
وہ صرف قائد دیکھتا ہے۔
وہ مخالف کی دلیل نہیں سنتا:
وہ اسے دشمن سمجھتا ہے۔
یہ سیاسی کلچر کسی بھی جماعت میں پیدا ہو سکتا ہے، مگر عمران خان کے گرد بننے والی انتہائی شخصی سیاست نے اس رجحان کو پاکستان میں غیر معمولی شدت ضرور دی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت اور سیاسی شخصیت پرستی کے درمیان لکیر دھندلی ہونے لگتی ہے۔
🦊 لومڑی کی سیاست
جنگل میں لومڑی کی سب سے بڑی طاقت اس کے دانت نہیں، اس کی چال ہوتی ہے۔
وہ کبھی شیر کے قریب ہوتی ہے، کبھی بھیڑیوں سے فاصلہ رکھتی ہے اور کبھی شکار کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اصل خطرہ کہیں اور ہے۔
پاکستانی سیاست میں بھی بیانیہ کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔
ہر ناکامی:
سازش
ہر اختلاف:
غداری۔
ہر مخالف:دشمن۔
ہر ادارہ:جانبدار۔
اور ہر احتجاج:انقلاب۔
یہ سیاسی بیانیہ وقتی طور پر ہجوم کو متحرک کر سکتا ہے، مگر ریاست نہیں چلا سکتا۔
ریاست نعروں سے نہیں چلتی۔
ریاست اداروں، قانون، پالیسی اور ذمہ داری سے چلتی ہے۔
🐘 ہاتھی کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنگل صرف اس کا نہیں
وفاق بھی اس کہانی میں مکمل بے گناہ نہیں۔
اسلام آباد کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقتور ہاتھی اگر ہر مسئلے کا جواب اپنے وزن سے دینے لگے تو جنگل کا توازن خراب ہو جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی حکومت منتخب ہے۔
اس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہے۔
اس کے ساتھ سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، اس کے خلاف آئینی کارروائی ہو سکتی ہے، اس کی پالیسیوں پر تنقید ہو سکتی ہے—لیکن ہر اختلاف کا جواب انتظامی طاقت سے دینا دانش مندی نہیں۔
اگر وفاق آئینی اختیار استعمال کرے تو اسے آئینی اور شفاف ہونا چاہیے۔
اگر سیاسی مسئلہ ہے تو سیاسی راستہ تلاش کیا جائے۔
اگر قانونی مسئلہ ہے تو عدالت موجود ہے۔
اگر انتظامی مسئلہ ہے تو آئینی ادارے موجود ہیں۔
ہاتھی طاقتور ضرور ہے، لیکن جنگل کا امن صرف طاقت سے نہیں بنتا۔
🐍 اصل خطرہ: جب سیاست زہر بن جائے
سانپ کی ایک خاصیت ہے:
وہ ہر وقت حملہ نہیں کرتا۔
وہ انتظار کرتا ہے۔
پھر ایک دن زہر اپنا کام کر دیتا ہے۔
سیاسی نظام میں بھی سب سے خطرناک چیز ہمیشہ کھلا تصادم نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی خطرناک چیز مسلسل نفرت ہوتی ہے۔
سالہا سال یہ بتایا جائے کہ:
“وہ دشمن ہیں۔”
“یہ سازشی ہیں۔”
“وہ غدار ہیں۔”
“یہ چور ہیں۔”
“صرف ہمارا قائد درست ہے۔”
پھر معاشرہ سیاسی اختلاف نہیں کرتا۔
وہ سیاسی دشمنی کرنے لگتا ہے۔
اور جب سیاسی دشمنی اداروں تک پہنچ جائے تو ریاست کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
🐆 خیبر پختونخوا کا اصل شکاری کون ہے؟
یہاں کہانی کا سب سے تلخ حصہ آتا ہے۔
خیبر پختونخوا کا اصل دشمن سیاسی مخالف نہیں۔
اصل دشمن دہشت گردی ہے۔
وہ دہشت گرد جو گھات لگا کر پولیس اہلکار کو نشانہ بناتا ہے۔
وہ دہشت گرد جو بازار میں دھماکہ کرتا ہے۔
وہ دہشت گرد جو سرحد پار محفوظ ٹھکانے تلاش کرتا ہے۔
وہ دہشت گرد جو ایک پورے علاقے کو خوف میں مبتلا کرتا ہے۔
ایسے ماحول میں صوبائی حکومت کا بنیادی فرض کیا ہونا چاہیے؟
اپنے صوبے کو محفوظ بنانا۔
اگر اس کے بجائے صوبائی حکومت کی سب سے نمایاں سیاسی سرگرمی اسلام آباد کی طرف مارچ بن جائے تو سوال تو اٹھے گا:
جنگل میں آگ لگی ہو تو محافظ شکاری کے ساتھ لڑنے نکلے یا آگ بجھائے؟
🦅 عقاب کی نظر
ایک بالغ ریاست کو عقاب کی طرح اوپر سے پورا منظر دیکھنا چاہیے۔
صرف آج کا مارچ نہیں۔
صرف آج کا نعرہ نہیں۔
صرف آج کا سیاسی فائدہ نہیں۔
بلکہ:
دس سال بعد کیا ہوگا؟
اگر ایک صوبائی حکومت وفاق پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنی سیاسی و انتظامی طاقت استعمال کرے گی تو کل دوسری حکومت بھی یہی کرے گی۔
اگر وفاق ہر سیاسی مزاحمت کے جواب میں غیر معمولی اختیار استعمال کرے گا تو کل کوئی اور وفاقی حکومت بھی یہی کرے گی۔
یوں آج کا ہتھیار کل کی روایت بن جائے گا۔
اور خطرناک روایات کبھی کسی ایک جماعت کو معاف نہیں کرتیں۔
🦌 ہرن کہاں جائے؟
اس جنگل میں سب سے زیادہ بھولا ہوا کردار عام شہری ہے۔
وہ نہ شیر ہے۔
نہ بھیڑیا۔
نہ لومڑی۔
نہ ہاتھی۔
وہ صرف ہرن ہے—جو ہر طرف سے خوفزدہ ہو کر محفوظ راستہ تلاش کر رہا ہے۔
اسے سیاسی مارچ سے زیادہ اپنے گھر کا امن چاہیے۔
اسے بیانیے سے زیادہ روزگار چاہیے۔
اسے تقریر سے زیادہ اسپتال چاہیے۔
اسے سوشل میڈیا کی جنگ سے زیادہ اپنے بچوں کا مستقبل چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر:
اسے دہشت گردی سے آزادی چاہیے۔
اگر سیاست دان اس کی یہ بنیادی ضرورت بھول جائیں تو جنگل میں سب سے کمزور جانور ہی سب سے زیادہ قیمت ادا کرتا ہے۔
🦁 آخری سوال: شیر کس کا محافظ ہے؟
سہیل آفریدی کے سامنے آج شاید سب سے بڑا سیاسی سوال یہی ہے:
آپ کس کے محافظ ہیں؟
ایک جماعت کے؟
ایک قائد کے؟
ایک سیاسی بیانیے کے؟
یا پورے خیبر پختونخوا کے؟
اگر آپ وزیراعلیٰ ہیں تو آپ کا منصب آپ کو صرف اپنی جماعت کے کارکنوں کا نمائندہ نہیں بناتا۔
آپ کو اس استاد کا بھی محافظ بناتا ہے جو اسکول جاتا ہے۔
اس پولیس اہلکار کا بھی جو دہشت گرد کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
اس ماں کا بھی جس کا بیٹا سرحد پر ہے۔
اس دکاندار کا بھی جو امن چاہتا ہے۔
اور اس نوجوان کا بھی جسے سیاست نہیں، مستقبل چاہیے۔
🌳 جنگل کا آخری قانون
جنگل میں طاقتور وہ نہیں جو سب سے زیادہ دھاڑتا ہے۔
طاقتور وہ ہے جو توازن قائم رکھتا ہے۔
ریاست بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔
عمران خان اگر مقبول ہیں تو انہیں اپنی مقبولیت کو آئینی سیاست میں تبدیل کرنا ہوگا۔
سہیل آفریدی اگر وزیراعلیٰ ہیں تو انہیں وزیراعلیٰ کے منصب کی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔
وفاق اگر طاقت رکھتا ہے تو اسے طاقت کے ساتھ تحمل بھی دکھانا ہوگا۔
اور ریاستی اداروں کو سیاسی کشمکش سے اوپر رہ کر قانون کے مطابق کام کرنا ہوگا۔
کیونکہ اگر شیر اور ہاتھی اپنی لڑائی میں مصروف رہیں، لومڑی اپنی چالیں چلتی رہے، بھیڑیے غول بناتے رہیں اور سانپ زہر پھیلاتا رہے—
تو آخر میں جنگل کس کا بچے گا؟
کسی کا نہیں۔
صرف ملبہ بچے گا۔
اور اس ملبے کے نیچے ہمیشہ وہی دبے گا جو سب سے کمزور تھا:
عام پاکستانی۔
اس لیے آج پاکستان کو کسی نئے بادشاہ کی نہیں،
کسی نئے شکاری کی نہیں،
کسی نئے غول کی نہیں—
ایک ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جہاں جنگل کا قانون نہیں، آئین کا قانون چلے۔ کیونکہ پاکستان کسی شیر کی جاگیر نہیں۔
یہ پورے جنگل کے باسیوں کا وطن ہے۔ |