بلدیاتی انتخابات سے فرار فائدہ یا نقصان

(Raja Tahir Mehmood, )
بلدیاتی الیکشن اپنی جگہ بہت اہم ہیں مگر جس طرح کے حربوں سے حکومت انھیں ٹالنے کی کوشش میں ہیں ان سے لگتا ہے کہ حکومت کو ان انتخابات سے شاید اپنی ہار کی بو محسوس ہو رہی ہے شائد اسی وجہ سے باقی تمام جماعتیں ان انتخابات کے حق میں جبکہ موجودہ حکومت ان کی مخالفت کر رہی ہے حکومت کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کو بغیر تیاری کے کروانے سے ان کی شفافیت پر حرف آنے کا حدشہ ہے جس کی وجہ سے ان انتخابات کا فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان کا خدشہ ہے یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے مگر مئی کے انتخابات سے کم از کم یہ انتخابات بہتر ہی ہوں گے پنجاب میں جب بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی کاغذات نامذدگی بھی لئے گئے اور ایک اچھی خاصی رقم میدواروں سے وصول کی گئی جس کے بعد امیدواروں نے اپنی اپنی الیکشن مہمات پر لاکھوں روپے بھی خرچ کیے جس کے بعد یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید اب کی بار یہ الیکشن منعقدہو جائیں گے مگر ماضی کی طرح ایک بار پھر حکومت ان انتخابات وقتی طور پر ٹالنے میں کامیاب ہو گئی جس کی وجہ سے بلدیاتی امیدواروں کی ان امیدوں پر پانی پھر گیا جس میں انھیں یقین ہو چلا تھا کہ شائد یہ انتخابات ہو جائیں گے ان انتخابات کے منعقد کروانے میں آخر کیونکہ حکومت ہچکچاہٹ کا مظاہر ہ کیوں کر رہی ہے اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں جو کسی بھی طورپر حکومت کے حق میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو لگتا ہے کہ اگر یہ انتخابات ہو گئے تو ان کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ اگر موجودہ حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں جو کہ گراس روٹ لیول پر ہوتے ہیں شکست ہو جاتی ہے تو عوام میں اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے جو کہ اگلی ٹرم کے جنرل الیکشنوں میں ان کے لئے ناکامی کا سبب بن سکتی ہے حکومت کو اس بات کا ادراک بھی ہے کہ اس کے حکومت میں آنے سے پہلے عوام نے جو امیدیں اس سے وابسطہ کی ہوئی تھی جن میں سر فہرست لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ، گیس بحران کاخاتمہ ،مہنگائی کا خاتمہ، بے روزگاری کا خاتمہ ، امن وا مان کی صورت حال کی بہتری ، دہشت گردی کا خاتمہ ،وہ کسی بھی طور ان تمام بحرانوں پر قابو پانے میں مکمل کامیاب نہیں ہو سکی ہے بلکہ ان سب مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں اگر انھوں نے بلدیاتی انتابات منعقد کروا دیے تو ان کی شکست بھی ہو سکتی ہے اس لئے موجودہ حکومت چاہا رہی ہے کہ اگر تھوڑے سے وقت کے لئے ان کو روک لیا جائے یا آگے کر دیا جائے شاید تب تک ان کی پوزیشن مضبوط ہو جائے اور شاید تب تک وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔ اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت اس مسئلے کو سپریم کورٹ میں لے گئی جس کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کو منسوخ کرنے کی اجازت دے دی ہے دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے لئے نیا شیڈول بنانے کی اجازت دے دی سپریم کورٹ کے روبرو الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے موقف اختیار کیا تھا کہ حلقہ بندیاں بحال ہو بھی جائیں تب بھی سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا موجودہ شیڈول منسوخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول میں تین روز کی توسیع کے بعد انتخابی عمل ناممکن ہو چکا ہے الیکشن کمیشن صرف عدالتی حکم نامے کا انتظار کررہا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ سندھ میں اٹھارہ جنوری کو انتخابات کرانے کے لئے تین کروڑ بیلٹ پیپر چھاپنے تھے جبکہ پنجاب میں 30جنوری کو الیکشن کرانے کے لئے محض بارہ روز میں 30کروڑ بیلٹ پیپر چھاپنے تھے الیکشن کمیشن نے اس مدت کے دوران یہ بیلٹ پیپر تیار کرنے کے معاملے میں بے بسی کا اظہار کردیا تھا تاہم معاملہ چونکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کا تھا اس لئے الیکشن کمیشن اپنے طور پر انتخابات کو ملتوی نہیں کر سکتا تھا اب جبکہ سپریم کورٹ نے اسے شیڈول کو منسوخ کرنے کی اجازت دے دی ہے اسلئے وہ صوبوں کی مشاورت سے نئے شیڈول کا اعلان کرے گا نیا شیڈول کب آئے گا اس بارے میں الیکشن کمیشن نے کوئی واضح موقف پیش کرنے سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں ابہام پایا جاتا ہے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کے مطابق الیکشن کمیشن نے ابھی بیلٹ پیپرز نہیں چھپوائے محض پرنٹنگ کارپوریشن کو رقم دی تھی ابھی صرف کاغذ خریدا گیا ہے بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع نہیں ہوئی ان کا کہنا تھا کہ کنٹوٹمنٹس بورڈخیبرپختونخوا اور وفاقی علاقہ میں انتخابات کی تاریخیں تبدیل نہیں ہوئیں انہوں نے کہا کہ قانون میں ترامیم رولز اور قانون سازی کے بعد سندھ اور پنجاب میں نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کام اب اتنا جلدی ہونے والا نہیں کیونکہ قانون میں ترمیم اور قانون سازی میں کئی ماہ یا کئی سال بھی لگ سکتے ہیں صوبائی حکومتوں نے ہائی کورٹس کے احکامات کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جو ضروری ترامیم کرنی ہیں ان کے بعد ہی نیا شیڈول جاری ہو سکتا ہے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات آٹھ ماہ سے ایک سال کے لئے ملتوی کردیئے گئے ہیں جب متعلقہ حکومتوں کی بھی اس معاملے میں دلچسپی نہ ہو تو انتخابات کا طویل دورانیہ کے لئے التواء واضح محسوس ہو تا ہے حقیقت یہی ہے کہ مذکورہ دونوں حکومتیں دانستہ کسی نہ کسی جواز کے تحت بلدیاتی انتخابات کے معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں اور کسی حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

عوام اب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے کونسے عناصر ہیں جو اختیارات کو نچلی سطح تک لیجانے کے خلاف ہیں ۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور اضترابی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ان انتخابات کی راہ ہموار کرئے اور ایک واضح اور دو ٹوک موقف سامنے لائے کیونکہ بلدیاتی امیدواروں میں پائی جانے والی یہ بے چینی اگر بڑھتی گئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت کو ہی ہو گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 146595 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
02 Feb, 2014 Views: 498

Comments

آپ کی رائے