میرا پاکستان کیسا ہو

(Haya Ghazal, Karachi)
ہمیشہ کی طرح آج بھی صبح گھر سے نکلتے ہوئے میری نگاہ بے اختیار اطراف کا جائزہ لینے لگی دوکانوں کے باہر بنے ناجائز چبوتروں اور تھڑوں پر بیٹھے فضول وقت گذاری کرتے جابجا پھیلے کچروں کے ڈھیر سے بے نیاز نوجوان جب چرس سے بھری سگریٹ کا کش لگاتے تو اس کثیف زدہ ماحول کی کثافت میں اور اضافہ ہوجاتا میں نے قدرے اداسی سے جیسے ہی گلی عبور کرکے مین روڈ پر قدم رکھا تو یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی.جگہ جگہ کچرا کیچڑ اور انہی کے بیچ دوکانوں کے باہر کھڑے چھابڑی ٹھیلے والے اور ناجائز پتھاریدار اور شایدـ ہمیشہ کی طرح راستہ تنگ ہونے کے باعث پریشان ہونے والے راہگیر اور اسٹوڈنٹس، ٹوٹے سگنلز اور جام ٹریفک میں نے ایک بس اشارے سے روکی اور سیٹ پر پہنچ کر آنکھیں موند کر سوچنے لگی.کیا سچ میں یہی وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جسکا خواب قائد مشرق جناب ڈاکٹر علامہ اقبال نے دیکھا تھا کیا یہی وہ ملت اسلامیہ ہے جسکے لیئے آزادی کے متوالوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی سرکردگی میں اپنی جان و مال اور عزت کی قربانیاں دیں تھیں.کیا صحیح بنیادوں پر آج تک اسلام کا عملاً نفاذ ممکن ہوپایا ہے نہیں تو وہ کیا وجوہات ہیں.جنکی بنیاد پر آج اسکا یہ حال ہے.کیوں ہمارے بیچ پھر سے طبقاتی فرق اپنا سر اٹھارہا ہے سیاسی مذہبی تعلیمی اور کاروباری معیشت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے اس وقت ہمارا ملک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اس میں روبروز مزید اضافہ ہی ہورہا ہے. ہم غیر ممالک کو ہر سال قرضوں کی مد میں ایک خطیر رقم سود کے طور پر ادا کررہے ہیں.جبکہ عام آدمی کو ٹیکس کے بوجھ تلے دبادیا گیا ہے. ہر شعبے میں خواہ وہ کسی بھی کارہائے زندگی سے متعلق ہو کرپشن بدعنوانیاں اپنے عروج پر ہیں.وہ کونسے عوامل ہیں جن پر کام کرکے ہم اس افسوسناک صورتحال میں بہتری لاسکتے ہیں.

ہمارے ملک میں اس وقت بہت سے مسائل کا انبار ہے جن کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور اگر ہمیں اسے حقیقی معنوں میں ایک اسلامی مملکت کا روپ دینا ہے تو اسکے لیئے ہمیں عملاً سرگرداں ہونا پڑے گا.جیسے ناخواندگی،بنیادی تعلیمی اور طبی سہولیات کا فقدان،تنزلی کی طرف جاتی ہوئ معیشت،پرانا بوسیدہ ہوتا ہواـسسٹم خواہ وہ سیاست سے متعلق ہو یا کسی اور شعبہ ء ہائے زندگی سے، پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی فرق،بنیادی شہری اور دیہی ضروریات کا نہ پورا ہونا کرپشن مہنگائی بدعنوانی لوٹ مار اور نہ جانے ایسے ہی کتنے ان گنت مسائل جنھیں ہمیں یکجا ہوکر حل کرنا ہوگا-

میں سمجھتی ہوں سب سے بنیادی مسئلہ ہمارے ملک کا صفائی کا ہے.آپ یقیننا حیران ہونگے کہ میں تمام اہم مسائل کو پس پشت ڈالکر پہلے اسی کی نشاندہی کیوں کی.تو عزیزم صفائی نہ صرف یہ کہ ہمارے دینی ذمہ داری بلکہ ہمارے ایمان کا نصف جز بھی ہے.اب چاہے یہ گلی کوچوں یا چوباروں کی ہو یا محکماتی بنیادوں پر اور اداروں میں پھیلی ہوئی کرپشن اور بدعنوانیوں کی ہو. یا سیاسی بنیادوں پر اپنی دوکان چمکانے والے اور ملک کو لوٹنے والے عناصر کی ہو صفائی تو سب کی اور ہرجگہ سے ہونی چاہیئے تبھی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے گی اور جسمانی اخلاقی اور ذہنی بیماریوں کا قلع قمع ہوسکے گا.اسکے لیئے شہری اور علاقائی بنیادوں پر بلدیاتی سسٹم نافذ کیا جائے. ہر علاقے سے وہیں سے منتخب کردہ اشخاص کو سامنے لایا جائے جو صحت عامہ سے لے کر تعلیم تک اور تمام جملہ مسائل کو علاقائی بنیادوں پر حل کریں. اور بروقت شکایات دور بھی کی جائیں.تو یہ زیادہ بہتر ہوگا.آپ اپنے حلقے سے ہوں تو وہاں کے جملہ مسائل سے آگاہ بھی ہوں گے اور انکا بہتر سدباب بھی کرپائیں گے اب چاہے وہ صفائی کا مسئلہ ہو یا تعلیم کا یا منافع خوری اور ذخیرہ اندوز ی کرنے والوں کے خلاف بروقت کاروائی کرنے کا کیونکہ ایسے عناصر ہی کی بدولت مہنگائی کا جن بھی اپنا سر اٹھاتا ہے.اور غریب عوام تنگ ہوتی ہے معاشرے میں کرائم بڑھتے ہیں. چوری ڈکیتیوں کی وارداتوں میں بھی تیزی آنے لگتی ہے.

ضروری ہے کہ اسلامی مالیاتی سسٹم کو رائج کیاجائے صرف دستاویزات میں نہیں اور خاص طور پر زکوة کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور اسکی منصفانہ تقسیم اور جائز ضرورت مندوں تک رسائی ممکن بنائی جاسکے تو میں سمجھتی ہوں کہ معاشرے سے غربت جیسے عوامل اور گداگری جیسے پیشوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اور ایسے پیشوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے.

احتساب کا عمل شفاف اور انصاف کی غیر جانبدارانہ فراہمی یقینی بنائی جائے.اسکے لیئے عدلیہ اورسول انتظامیہ کے شعبوں کو مستحکم کیا جائے. اور بدعنوان لوگوں سے پاک کیا جائے. اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائ کی جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے جو اس عمل میں روکاٹ بنیں.اب چاہے وہ قانون نافذکرنے والے ادارے ہی کیوں نہ ہوں.

بنیادی پرائمری تعلیم کمپلسری اور فری کی جائے تاکہ جو بچے کسی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرپارہے وہ بھی علم حاصل کرسکیں.کتابوں اور کاپیوں اور دوسری ضروری اسٹیشنری مفت یا کم ریٹس پر مہیا کی جائیں.مردم شماری کے فارم میں بھی یہ چیز شامل کی جائے تاکہ سروے کے وقت گھر گھر سے یہ معلومات حاصل ہوسکے کہ کتنے افراد باقاعدہ طور پر تعلیم یافتہ ہیں یا تعلیم حاصل کررہے ہیں.اور جو والدین اس طرف دلچسپی نہیں لیتے انھیں آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں.اس کے لیئے ہم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے آویئرنس دے سکتے ہیں.خصوصا تعلیم کو غیر منافع بخش قرار دے کر بچوں کو بیگار کے کاموں میں ڈالنے والے والدین کے خلاف سخت نوٹس لیا جائے.کیونکہ اس سے چائلڈ لیبر وجود میں آتی ہے جو ہمارے ملک کا اس وقت سب سے اہم مسلہ ہے اور جس میں افسوسناک حد تک اضافہ ہورہا ہے.یاد رہے تعلیم ہوگی تبھی ایک صحت مند سوچ معاشرے میں پروان چڑھے گی تبھی ہر شہری اپنے ووٹ کا صحیح اور درست جگہ استعمال کرے گا اور تبھی ایک درد مند ملک دوست سچی قیادت ملک کو میسر آسکے گی. جاگیردارانہ اور زمیندارانہ سسٹم کی حوصلہ شکنی ہوگی.اور کرپٹ عناصر کا ملک سے صفایا ہوجائے گا.ضرورت ہے جو اسکول بدحالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہین ان پر توجہ دے کر انھیں پھر سے ایک تربیت یافتہ عملے کے ساتھ آباد کیا جائے اور مزید نئے اسکول تعمیر کیئے جائیں.اقرباپروری رشوت خوری چوربازاری ختم کی جائے.مہنگائ پر کنٹرول کرنے کے لیئے پرائس کنٹرولنگ اتھارٹی کو مضبوط کیا جائےاور صفائی اور صحت کے اصولوں پر پورا نہ اترنے والی شاپس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے. بھاری جرمانہ اور سزا بھی عائد کی جائے.

تعلیمی شعبوں میں نیا نصاب اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے.ایسی اصلاحات اور اسکیمیں متعارف کرائیں جائیں جس سے عام آدمی بھی فوائد حاصل کرسکے.

زراعت میں بھی دیہی بنیادوں پر کسانوں کی تربیت بہت ضروری ہے تاکہ پیداوار صحت عامہ کے مروجہ عالمی معیار پر پورا اترے. اسکے علاوہ پانی کی منصفانہ اور ہر جگہ رسائ ممکن بنائ جائے آسان شرائط پر قرضے مہیا کیئے جائیں.زرعی آلات بیج کھاد مناسب اور کم قیمتوں پر فراہم کیئے جائیں اور ٹیوب ویل لگائے جائیں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے-

اس وقت ہمارے ملک کو زرمبادلہ کی مد میں ایک خطیر رقم موصول ہورہی ہے جو ملک کی فلاح و بہبود میں اس طرح صرف نہیں ہورہی جسطرح ہونی چاہیئے.پیسہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتا جارہا ہے خدام اپنی جیبیں بھررہے ہیں.انڈسٹریاں باہر جارہیں ہیں.ہمارے ملک کے ہونہار اور قابل نوجوان باہر ملکوں میں روزگار کے مواقعے ڈھونڈرہے ہیں جسکے نتیجے میں وہ بعض اوقات نا مساعد حالات کا بھی شکار ہوجاتے ہیں.سیاستدان یہ پیسہ بٹور کر بیرون ملک اپنی بے جا اخراجات اور عیاشیوں کی بھینٹ چڑھادیتے ہیں. انکے خلاف سخت کاروائی اور بازپرس ہونی چاہیئے اور جب تک بدعنوان لوگ اس سسٹم کا حصہ بنے رہیں گے یہ ممکن نہیں ووٹ کا صحیح استعمال کریں.اچھے اور پڑھے لکھے لوگوں کو آگے لائیں.اپنے ملک کے اندر انسویسمنٹ کرنے والے صنعتکاروں اور انڈسٹری سے متعلق عناصر کی حوصلہ افزائی کریں اور ٹیکس میں نرمی کے ساتھ دیگر مراعات سے نوازیں تاکہ ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو عام آدمی کے لیئے نئے اور مزید روزگار کے مواقع میسر ہوں.گھریلو انڈسٹریوں کو آسان شرائط پر قرضے اور آلات مہیا کیئے جائیں.اس سے انھیں فروغ ملے گا. ملکی معدنی وسائل کو بروئے کار لایا جائے.اور ان سے ہر ممکن استفادہ کیاجائے اس سے ہمارے بجلی کی فراہمی کا بھی سب سے بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل کا خاتمہ.صنعتیں شہروں سے باہر منتقل کی جائیں تاکہ صنعتی فضلہ شہری آلودگی کا سبب نہ بنے.غیر قانونی تجاوزات اور کنکشنز کی بھی روک تھام کی جائے.اور تمام ایسے عوامل کا سدباب کیا جائے جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں سیاحتی مقامات اور آثار قدیمہ سے متعلق عمارات پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ بھارت جیسا ملک بھی اس مد میں خاطر خواہ فوائد حاصل کررہا ہے.اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہاتھوں کو مضبوط کریں اور انکے ساتھ کھڑے ہوں.اسمگلنگ،نشہ آور چیزوں کی خرید وفروخت کرنے والوں، غیر قانونی طور پر ملکی سرحدوں میں بھیس بدل کر داخل ہونے والے ایجنٹوں اور دہشت گردی کے خلاف سب متحد ہوجائیں اور اپنی نئی نسل کی حفاظت اور آبیاری کریں.اسی نئ تشکیل نو سے ایک دن ہمارا اسلامی مملکت کا خواب حقیقت کا روپ دھار لے گا.بس سے اترنے کے بعد گو کہ ماحول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی تھی مگر میری سوچ تبدیل ہوچکی تھی اس بار میں اپنا سر پورے فخر اور یقین اور ایک نئے عزم سے اٹھا کر چل رہی تھی.کیونکہ میں اپنے آنے والے کل اور اپنی نئ نسل سے ناامید نہیں تھی موضوع شاید طوالت کا متقاضی تھا-
ذہن و دل سے جو نکلی تو زباں تک پہنچی
بات سے بات جو نکلی تو کہاں تک پہنچی

.بہت کچھ کہا اور بہت کچھ کہنے سے رہ بھی گیاخیرمیں اپنی بات کا اختتام ان اشعار پر کرتی ہوں
اک جا نہیں ٹہرنے دے اپنی نگاہ شوق
ہر دم تلاش کر تو نئے آسمان کی

خوابوں کی سرزمیں کو حقیقت کا روپ دے
بنیاد پھر سے رکھ تو نئے اک جہان کی
دعاگو
حیاء غزل
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haya Ghazal

Read More Articles by Haya Ghazal: 65 Articles with 57062 views »
I am freelancer poetess & witer on hamareweb. I work in Monthaliy International Magzin as a buti tips incharch.otherwise i write poetry on fb poerty p.. View More
18 Aug, 2016 Views: 1002

Comments

آپ کی رائے
bohot hi umdah aur la jawab tehreer aur qabil e amal tajweez. Agar esa ho jaey tau Pakistan dunya mein aik model islahi country bun jaega.
By: maqsood ali, Hyderabad on Aug, 27 2016
Reply Reply
1 Like
پسندیدگی کے لیئے بہت بہت شکریہ انشاءاللہ
By: Haya Ghazal, Karachi on Sep, 01 2016
0 Like
Very nice you are writing
By: Muhammad Rashid Hussain , Karachi on Aug, 26 2016
Reply Reply
1 Like
Thanks
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 29 2016
0 Like
Masha Allah nice good luck.
By: tayyabsamad, lisbon on Aug, 26 2016
Reply Reply
1 Like
عمدہ تحریر ہے آپ نے تقریباً تمام مسائل کا ذکر کردیا اﷲ ہمیں ہدایت دے
By: Mudaser ijaz, Lahore on Aug, 26 2016
Reply Reply
1 Like
ماشاء اللہ بہت خوب لکھا ہے. اللہ کرے ہر پاکستانی کی سوچ ایسی ہی تعمیری ہو. اللہ آپ کے زور قلم میں اور اضافہ فرمائے. ہمیشہ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ بھی ایک جہاد ہے.
By: quratulain, karachi on Aug, 26 2016
Reply Reply
1 Like
اپ کا آرٹیکل بہت اچھا ہے اچھی سوچ ہے آپ کی یہ ایک سچے پاکستانی کی باتیں ہیں جو وہ سوچتا ہے لیکن کہہ نہیں پاتا .ہمارے ملک میں خرابیاں ہیں .معاشرتی بگاڑ بہت ہیں لیکن ھم اگر خامیوں کو ہی دیکھتے رہیں گے تو ہر انسان فرسٹیشن کا ہی شکار هوگا .یا آخری حل کہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے یہ ملک اور اس کے مسائل کبھی حل نہیں ھوں گے .ھم اپنی منفی سوچ سے ہٹ کرکیوں نہیں سوچتے کہ اچھا یا برا گھر تو آخر اپنا ہے .اور اس گھر کی تعمیر میں سب کو اپنا حصّہ ڈالنا هوگا ..گھر کی تعمیر میں ایک ایک اینٹ بھی لگائیں تو ہی عمارت مظبوط هو گی ...سب مل کر اس کی مینٹنس کا خیال کریں گے تو ہی یہ پائیدار .روشن .خوبصورت هوگا . کیوں کہ ..گھر تو آخر اپنا ہے
By: فہمیدہ غوری , کراچی on Aug, 25 2016
Reply Reply
1 Like
شاباش میری بہن دل خوش کردیا یہی تو ہم بھی کہہ رہے ہیں. جیتی رہیں اللہ خوش رکھے آپ کو
اگر آپ بھی لکھتی ہین تو ان نکات پر اپنا قلم ضرور اٹھایئے
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 26 2016
0 Like
شکریہ وسیم جی انشاءاللہ ضرور
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 25 2016
Reply Reply
0 Like
In msayl ka khatma TBI ho ga ji jb hm vote ko sahi istmal kryn gy or hm awam sy nation main bdlyn gy khud ko. Or firka wariat or partybazi sy nikl k sirf is mulk ka sochyn gy.ap NY khob likah boht sahi akasi ki mashry ki.well done. Allah pak ap ko khush rky
Ameen. Inshallah u will win
By: bushra tahir, rawalpindi on Aug, 24 2016
Reply Reply
1 Like
شکریہ بشری جی بس اسی مثبت سوچ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو آپکی تحریروں میں دکھائ دیتی ہے.اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو.آمین
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 25 2016
0 Like
Boht acha lika ap ny
By: bushra tahir , rawalpindi on Aug, 24 2016
Reply Reply
1 Like
Haya g ap ny aina dyka dia sb ko . k kasy hain hm Jo apny aik mulk ko smbahal ni pa rhy WO or kia kryn gy . both khob.
By: bushra tahir, rawalpindi on Aug, 24 2016
Reply Reply
1 Like
Good keep it up InShaAllaha Allaha En sary khawabon ko haqeeqat ka roop zaroor day gha. Hum aj bhi ek zinda qoom heen.or y sabit kar kay dekhayn ghay.
By: Waseem, Karachi on Aug, 24 2016
Reply Reply
1 Like
Thanks Uzma
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 23 2016
Reply Reply
0 Like
apki tehreer ki tareef zrur ki jani chahye lakin is mozu sy qatai mutafiq ni hn,
in bato sy mulk tbdil ni hoga,
wo kam dhunden jin sy ye tamam tbdilian mumkin hen
By: zeeshan faisal, karachi on Aug, 21 2016
Reply Reply
1 Like
سب سے پہلے تو زیشان جی تحریر کو پسند کرنے کا شکریہ اب ہم آپکے پوائنٹ آف ویو کو ڈسکس کرتے ہیں.میرا پاکستان کیسا ہو؟ صرف ایک تحریری مقابلہ نہیں اسکا مقصد ّّعام لوگوں میں فکری سوچ کو جلا دینا ہے.بحیثیت ایک رائٹر ہونے کے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی کریں اور انکے حل کے لیئے آواز بلند کریں.تاریخ گواہ ہے ہر انقلابی تغیر کے پیچھے قلمی جہاد نے بھی اپنا برابر سے حصہ ڈالا ہے. .اگر یہی سوچ کر ہم سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے تو حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے اور ایک دن آپ خود کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ اس صورتحال پر آواز بلند کی جائے. خواب کو سچ کرنے کی اہلیت ہے ہماری قوم میں ایسا نہ ہوتا تو ہم آج ایک آزاد ملک کے شہری کی حیثیت سے یہ ڈسکشن نہ کررہے ہوتے.اقبال نے بھی کیا خوب کہا ہے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
تو ناامیدی اچھی نہیں وقت بدلتا ضرور ہے.ہمارا بھی بدلے گا اور یہ اندرونی و بیرونی سازشیں آپ اپنا دم توڑ جائیں گیں.باطل کو فنا ہے حق کی جیت مسلم ہے.
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ہم دیکھیں گے
سلامت رہیئے
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 22 2016
0 Like
باتیں تو آپ کی بجا ہیں۔ لیکن بلی کی گردن میں گھنٹی باندھے گا کون؟
اگر یہ صرف تحریر کی حد تک ہے۔ داد دیئے دیتا ہوں۔ واللہ کیا خوب لکھا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آپ نے اپنا دل نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔
لیکن حقیقت تو یہ کہ یہ سب بے سود ہے۔ تندیلی اتنی آسان نہیں ہوا کرتی۔ کیونکہ ہر انسان اپنی ایک الگ سوچ رکھتا ہے۔ سب کو کسی ایک سوچ پہ یکجا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ یہ تو ملک کی بات ہے۔ جہاں کثیر تعداد میں افراد رہتے ہیں ۔ ان کا متحد ہونا کسی کام کو لیکر مشکل ہی ہے۔
کیونکہ اکثر چھوٹے سے چھوٹے کنبے کے افراد کی سوچ متحد نہیں ہوتی۔ سب الگ الگ سوچ رکھتے ہیں۔
لب لباب یہ ہے کہ۔ لوگ آتے رہینگے لکھتے رہینگے۔ لیکن بدلنا کچھ نہیں ہے۔ ایسا ہی چلتا رہے گا تاقیامت۔ کیونکہ اس کی چھاپ بہت گہری ہے۔
رنگ اترنا نہیں اس کا۔
By: Zia Hasan, Riyadh on Aug, 21 2016
Reply Reply
2 Like
بالکل درست ضیاء پر پہل تو کسی کو کرنی ہوگی نا ورنہ بلی تھیلے سے باہر بھی آگئی تو صاف بچ کے نکل جائے گی.خیر یہ تو ہوئی مذاق کی بات سیریس میٹر یہ ہے اتنے سارے لوگوں کو جو مختلف سوچ اور نظریہ ء فکر کے مالک ہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کیسے کیاجائے.؟آپ نے ایک کنبے کی مثال دی ایک کنبہ یا ایک خاندان غور کریں آپکے سوال کا جواب تو خود آپ کے سوال میں ہی چھپا ہے.جب ہم ایک گھرانے کی بات کرتے ہیں تو یقیناً ہمارا اشارہ کسی ایک فرد کی طرف نہیں ہوتا ایک کنبہ اس میں شامل مختلف سوچ اور کردار کے حامل لوگوں کے ایک مرکز پر جمع ہونے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں کنبے کی فلاح کے لیئے گئے فیصلوں پر ان تمام افراد کی سوچیں ایک نقطے پر مرتکز ہوجاتیں ہیں.اسکے لیئے اس کنبے کے بااثر اور ذمے وار اور قدرے پختہ سوچ کے حامل افراد سب کو ایک جگہ متحد رکھنے کے لیئے تمام ضروری اور کارآمد عوامل بروئے کار لاتے ہیں.اور اسکے لیئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں.اگر ہم پاکستان کو اپنا گھر اور ایک کنبہ مانتے ہیں.توبھلے یہاں رہنے والے الگ سوچ اور فکر کے مالک ہوں بھلے انکی زبانیں اور لباس ایک دوسرے سے میل نہ کھاتے ہوں بھلے انکی عبادات کے طریقے جداگانہ ہوں پر ہم انکے اختلافات ختم کرکے ملکی فلاح و بہبود کے لیئے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کے لیئے اپنی ایک کوشش تو کرہی سکتے ہیں.ایک چراغ بھلے پورے اندھیرے کونہیں کھا سکتا پر ایک کونا تو منور کرہی سکتا ہے تو پر ہم یہ کیوں سوچیں کہ کوئی دوسرایہ کام سرانجام دے جس کو اپنے ملک اور اپنی آزادی پیاری ہے وہ اپنا ایک حصہ اس میں ضرور ڈالے گا.پھر شاید گھنٹی باندھنے کی بھی ضرورت نہ پڑے.سلامت رہیئے
By: Haya Ghazal, Karachi on Aug, 25 2016
0 Like
ماشاءاللہ بہت خوبصورت لکھا انعام کی حقدار ہیں
By: Raja, gujrat on Aug, 21 2016
Reply Reply
0 Like