بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک کا سفر ۔ باب۔ 12۔ لیبنسرام کا تصور

(Arif Jameel, Lahore)
یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ جس طرح ہٹلر نے لیبنسرام (Lebensraum)کا تصور پیش کیا تھا۔۔۔۔ امریکہ بھی اپنی اُس ہی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔مغربی و مشرقی جرمنی کے درمیان 1961 ء میں برلن وال کے نام سے بننے والی دیوار نومبر 1989 ء کے۔۔۔۔سویت یونین میں گلیس نوسٹ اور پریس ٹاروئیکا Glasnost and Perestroika) ( جیسے الفاظ اُنکی قوم کیلئے سیاسی و بین الاقوامی تبدیلی کی طرف اشارہ تھا ۔۔۔۔ المیہ بوسنیا جنگ کی صورت میں جب وہاں کی عوام کو برداشت کرنا پڑا اور وہاں کے سربین نے ہی جو ظلم کے نشان چھوڑے یعنی ایک طرف قتل و غارت کا بازار اور دوسری طرف مسلمان عورتوں سے ۔۔۔۔اسطرح کافی حد تک مشرقی بلاک میں بھی امریکہ اور نیٹو کا اثر رسوخ بڑھتا ہوا نظر آ رہا تھا ۔ ۔۔۔

برلن وال، المیہ بوسنیا، مشرقی یورپ

ہٹلر اور یہودی:
یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ جس طرح ہٹلر نے لیبنسرام (Lebensraum)کا تصور پیش کیا تھا کہ جرمن قوم دُنیا کی اعلیٰ ترین قوم ہے اس لیئے وہ عالمی حُکمرانی کا حق رکھتی ہے ۔ اگلے بارہ ہی سالوں میں اُسکا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ اسی طرح جنگِ عظیم دوم کے بعد سے امریکہ بھی اپنی اُس ہی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہاں دِلچسپ فرق یہ ہے کہ ہٹلر نے اپنے جنگی عزائم کے دوران یہودیوں کے ساتھ سخت رویہ رکھا تھا اسلیئے اُس کو جن وجوہات کی بنا پر ناکامی کا مُنہ دیکھنا پڑا اُن میں سے اگر ایک سٹالن گراڈ ، روس کے محاذ پر بدترین شکست تھی تو دوسری وجہ یہودیوں کی مخالفت تھی۔ جبکہ امریکہ کی پُشت پناہی کر ہی یہودی رہا ہے۔ بلکہ سب کو یا د ہونا چاہئیے کہ آ ئن سٹائن بھی تو یہودی تھا اور جرمنی سے اپنی جان بچا کر امریکہ پہنچا تھا۔

مشرقی بلاک میں امریکہ و نیٹو کا اثر و رسوخ:
مغربی و مشرقی جرمنی کے درمیان 1961 ء میں برلن وال کے نام سے بننے والی دیوار نومبر 1989 ء کے آخر میں گِرائی جا چکی تھی۔ جس سے جرمنی دوبارہ متحد ہو گیا تھا۔ سویت یونین میں گلیس نوسٹ اور پریس ٹاروئیکا Glasnost and Perestroika) ( جیسے الفاظ اُنکی قوم کیلئے سیاسی و بین الاقوامی تبدیلی کی طرف اشارہ تھا ۔ جس کا ردِ عمل تو اگلے تین چار سال میں ہی وہاں کی تمام ریاستوں کے الگ ہو نے سے نظر آ گیا تھا۔ یہ معاملات مشرقی یورپ میں بھر پور تبدیلی کا باعث بن رہے تھے اور ریاستں اپنی آزادیوں کا اعلان کر رہی تھیں۔ چیکوسلواکیہ بھی جمہویہ چیک اور سلواکیہ کی ریاستوں کے نام سے پر امن طریقے سے تقسیم ہو گیا تھا۔ 90ء کی دہائی کے آغاز سے ہی عوامی جمہوریہ یوگوسلاویہ سے متعلقہ ریاستوں نے بھی وہاں جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے آزادی کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اس جنگ کا اگلا المیہ بوسنیا جنگ کی صورت میں جب وہاں کی عوام کو برداشت کرنا پڑا اور وہاں کے سربین نے ہی جو ظلم کے نشان چھوڑے یعنی ایک طرف قتل و غارت کا بازار اور دوسری طرف مسلمان عورتوں سے بدسلوکی کی جو مثال قائم کی گئی عوام الناس کے دِل دہل گئے۔ اس جنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کی فورسز کا حالات کنٹرول کرنے کی کوشش پھر نیٹو تنظیم کی آپریشن ڈیلیبریٹ فورس کے نام سے اُن فورسز کے خلاف ٖفوجی ایکشن کرنا جنہوں نے بوسنیان عوام پر ظلم وستم کی انتہاء کر دی ہوئی تھی اور آخر میں امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کیلئے دسمبر 1995ء میں بوسنیا، کروشیا اور سربیا کے صدُور کے درمیان امن معاہدہ کروا کر مستقبل کیلئے بوسنیاو ہرزگووینیا میں نیٹو کی امن فوج کا تعین کروانا اہم واقعات بن کو سامنے آئے۔ اسطرح کافی حد تک مشرقی بلاک میں بھی امریکہ اور نیٹو کا اثر رسوخ بڑھتا ہوا نظر آ رہا تھا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 169783 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
18 Aug, 2016 Views: 394

Comments

آپ کی رائے