میرا پاکستان کیسا ہو؟

(Ilyas Katchi, Karachi)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

ہم اپنے بیٹے کو حافظ بنائیں گے، ڈاکٹر بنائیں گے، انجینئر بنائیں گے، بڑا سانس دان بنائیں گے، پائلٹ بنائیں گے، وغیرہ وٖغیرہ،اکثر ماں باپ اپنے بچوں کے مطالق یہ سوچ رکھتے ہیں ، لیکن جو اپنی اس خواہش میں مخلص ہوتے ہیں ، وہ شروع ہی سے منصوبہ بندی کرتے ہیں ، اس پر عمل کرتے ہیں اور اپنے بیٹے کی پڑھائی کی خاطر آرام و راحت کی قربانی دیتے ہیں ، انکی محنت اپنے مقصد کے مطابق ہوتی ہے ، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو کہ بوئیں تو باجرہ اور تمنا کریں چاول کی ،تو جیسے یہ نادانی ہے اسی طرح جو محنت و کوشیش مقصد سے مطابقت نہ رکھے اس مقصد کا حصول بھی نادانی ہے، ایک زریں اصول بتا دیا گیا کہ
ً اﷲ تعالٰی اس قوم کی حالت نہیں بدلتے ،جو خود اپنی حالت نہ بدلے ً
اگر ہم کہ چاہتے ہیں کہ میرا پاکستان ایسا ہونا چاہئے تو سب سے پہلے ہم خود اپنے گریبان میں جھانکیں ، خود اپنا احتساب کریں اس لئے کہ
اتنی ہی دشوار اپنے عیب کی پہچان ہے
جس قدر کرنی ملامت اور کو آسان ہے

ہم دوسرں کی غلطیاں پکڑنے کے اتنے ماہر ہیں کہ معمولی معمولی لغزش کو بھی ہائی لائٹ کرتے ہیں ، ٹی وی کے تقریبا ہر چینل پر ہمیں اس کا اندازہ ہوتا ہے ، ایک ایک حرکت نوٹ کی جاتی ہے ، کاش کہ ہم اپنی ذات کے مطالق ایسے حساس ہو جائیں ، اگر پاکستان کو ہم ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کرنا ہو گا -

ہم یہاں یہ جائزہ لیتے ہیں کون سی خرابی ہم نے اپنا لی ہے جس کی وجہ سے اس قدر گر چکے کہ غیر تو غیر اپنے بھی ملک کو برا بھلا کہتے ہیں ، پاکستان کے لئے قربانی دینے والے اس صورت حال کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہیں۔

اکثر ہم جب ہم موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہیں تو ساری ذمہ داری حکمرانوں پر ڈال کر اپنے آپ کو بری الزمہ سمجھتے ہیں ، اس میں شک نہیں کہ اول ذمہ داری تو حکمرانوں کی ہی ہوتیں ہیں لیکن ہمارے بھی کچھ فرائض ہیں جس کو سر انجام دے کر ہم ملک ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں چاہے ہمارا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو مثلا اگر ہم ملازم ہیں تو ہم اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر سر انجام دیں ، کام کے جتنے گھنٹے مقرر ہیں پور ی دیانتداری سے پور ا وقت کام کو دیں او ر قائد اعظم کے اس ارشاد کی تعمیل کریں کے کام ، کام، اور بس کام، ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ باتیں ، باتیں اور کام کے دوران بھی باتیں، اس طرز عمل نے ہماری قوم کو دنیا کی دوسری بڑی باتونی قوم بنا ڈالا، حدیث شریف کا مفہوم ہے ًجو خاموش رہا اس نے فلاح پائی ً ہمارے بزرگ تو کام کے دوران ذاتی کام کو لکھ لیا کرتے پھر اتنی تنخواہ کم لیتے، موبائل فون کی آمد سے یہ وباء اور عام ہو گئی ہے ،پھر شکایت ہوتی ہے کہ تنخواہ میں برکت نہیں ہوتی، آج کے دن عہد کریں کہ کام زیادہ اور باتیں کم کریں گے۔

اگر ہمارے ماتحت عملہ ہے تو ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ، آپ ﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے ماتحت کے حقوق کے بارے میں خاص تلقین فرمائی،انہیں وقت پر تنخواہ دیں ، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں ان پر خرچ کرنے پر بہترین صدقہ کرنا کا ثواب ملتا ہے، ملازم و مزدور اگر خوش ہوں گے تو ان میں انہماک بڑھے گا اور ملکی ترقی کا باعث بنے گا۔

بحیثیت تاجرو صنعت کار ،اپنی ذمہ داریا نبھائیں ، عوام کے ضروریات و طلب کا اندازہ لگائیں او ر اس کے مطابق اشیاء متعارف کرائیں کہ لوگوں کی نظر درآمد شدہ اشیاء سے ہٹ جائیں جیسے ماشاء اﷲ کپڑے کے صنعت کاروں نے ایسی ترقی کی کہ لوگ غیر ملکی کپڑوں کو بھول گئے۔ایسے ہی خریدار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھائیں ، ملکی اشیاء کو ترجیح دے کر تاجروں اور صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے، برآمد کننداگان اپنی ملک کی نیک نامی کا خاص خیال رکھیں ، معاہدے کے مطابق مال کی فراہمی کو یقنیی بنائیں ، اگر نقصان کا سامنا بھی ہو تو ملک کی خاطر اسے برداشت کر لیں لیکن معیار کو نہ گرائیں ۔

بیروں ملک کام کرنے والے اپنے ملک کی عزت کا خیال رکھیں ، خلاف قانون کسی کام ملوث نہ ہوں ، اپنی رقوم قانونی طریقے سے بھیج کر ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

خواتین بھی ملکی ترقی میں حصہ دار بنیں ، اولاد کی تعلیم و تربیت میں اپنی ذمہ داری نبھائیں ، ٹی، وی کی اسکرین کے سامنے بٹھا کر انکے اخلاق تباہ نہ کریں ، مستقبل کے یہ معمار ہمارا بہت بڑا قیمتی اثاثہ ہیں ۔

ٹریفک کا حال دیکھ کر دنیا ہم پر ہنستی ہے ، جاپانی وفد نے کراچی کی ٹریفک پر ایک رپورٹ بنائی جس میں یہ درج تھا کہ ٹریفک کے مسائل کی ایک بڑی وجہ ًپہلے میں نکل جاؤں ً ہے ۔ ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ پیاسے جان دے دی لیکن بھائی سے پہلے پانی پینا گوارہ نہ کیا ،آج ہم اتنے گرگئے کہ اپنے بھائی کو راستے کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ، آج عہد کریں کے جلد بازی نہیں کریں گے اور ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کریں گے، علماء فرماتے ہیں کہ سگنل توڑنا گناہ کبیرہ ہے۔

بجلی کے بحران سے ملک کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے صنعت و کارخانوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے جنریٹر کے استعمال سے لاگت میں اضافے کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ ہمارے ہاتھ سے جا کر بھارت و دیگر ممالک کے ہاتھوں لگ رہی ہیں ، ہم اس کے حل میں اپنا کردار ادا کریں کفایت شعاری کو اپنائیں ، تاجر اپنا کاروبار صبح سویرے برکت والے وقت میں شروع کریں اور سورج غروب ہونے پر بند کر دیں ۔اپنے گھروں و دکانوں کو شمسی توانائی پر منتقل کریں تاکہ بجلی کی یہ بچت صنعت میں کام آسکے۔

رشوت نے ہمارے ملک کے بنیاد ہلا کر رکھ دی ہے اﷲ تعالٰی رشوت لینے والوں کا ہدایت دے۔ رشوت دینے والے بھی جلدی ہتھیار نہ ڈال دیں ۔ رشوت نہ دینے سے کام کی تاخیر کو برداشت کریں اﷲ تعالٰی سے مد د طلب کریں ، اس ناسور کو نکالنے کے لئے ہمت سے کام لیں ،اس پر تکلیف برداشت کرنے پر اجر عظیم ملے گا ۔۔انشاء اﷲ

ناجائز تجاوزات ایک گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے، جس سے ٹریفک کے مسائل اور بھتہ خوری کا راستہ کھلتا ہے ۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ لوگوں کو نرمی سے سمجھائیں اور سڑکوں و فٹ پاتھوں سے خریداری نہ کرکے اس مسئلے کو حل کرنے میں مد د دیں-

نظم و ضبط کی پابندی کریں ، نماز میں صف بندی سے ایسی تربیت ہوتی ہے کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی ، لیکن عملی زندگی میں افراتفری کا عالم ہے ، ہر جگہ قطار لگانے کی عادت اپنائیں-

الغرض ہر فرد اپنی جگہ ذمہ داری کا احساس کر کے عمل کرے تو ہم ایک عظیم اور ترقی یافتہ قوم بن جائیں گے ۔۔۔۔۔ انشاء اﷲ تعالٰی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Katchi

Read More Articles by Ilyas Katchi: 39 Articles with 22107 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Aug, 2016 Views: 495

Comments

آپ کی رائے