میرا پاکستان

(Rabia Kosar, Rawalpindi)

آزادی اﷲ عزوجل کی نعمت ہے ۔آزادی کی قدر غلام قوموں سے پوچھیں ۔جن کے شب و روز جبر و تسلط اور ظلم و ستم کے سائے میں گزرتے ہیں ۔جنھیں مذہبی آزادی بھی نہیں اور فکری آزادی پر بھی پہرے بٹھارکھے ہیں۔لیکن مملکت خداداد کسی نعمت سے کم نہیں۔

14 اگست واں یومِ آزادی مبارک ہو۔لیکن مجھے یہ تو بتائیں کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا بحیثیت ریاست ہم اتنے آزاد ہیں کہ اپنی خارجہ پالیسی خود بنا سکیں؟ کیا ہماری پارلیمنٹ اتنی آزاد ہے کہ وہ قیامِ پاکستان کے مقاص کے عین مطابق قانون سازی کرسکے؟کیا ہماری افواج اتنی آزاد اور خود مختار ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکیں؟ سرحدوں کا دفاع تو دور کی بات ہے کیا وہ ملکی حدود میں گھس کر شہریوں کو قتل کرنے والے ڈرون طیاروں کو تباہ کرسکے؟کیا ہمارانظام تعلیم اس قابل ہے کہ قابل اور باہنر افراد ملک و ملت کے لیے کارہائے نمایاں سرانجام دے سکے؟کیا ہمارا نظام عدلیہ اس قابل ہے کہ عوام کو بھروقت اور آسان انداز میں انصاف مل سکے ۔؟کیا ہماراانتخاب کا نظام اہل قیادت کے لیے کوشاں ہے ؟کیا عام شہری کوریاست بنیادی حقوق دے رہی ہے ؟قوم میں اکائی و یگانگت کا عنصر ہے یا اکائی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے ؟۔کی ملک میں کرپشن کے خاتمہ اور انسداد کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق اور عملی اقدامات موجود ہیں ؟اسی طرح کے کئی سوالات جو ذہن پر چھائے ہوئے ہیں اور جواب طلب ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ مختصر اً پاکستان کے مسائل کو بیان کیا جائے تو اس کا ادراک کچھ اس طرح کیا جاسکتاہے کہ ’’پاکستان کے بنیادی مسائل ۔۔()تعلیم کی کمی ۔۔۔۔۔()طبی سہولیات کا فقدان ۔۔()عدل کا نظام اپاہج ہے ۔۔۔()نسلی تعصب ۔۔۔()وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ۔۔۔۔()جمہوریت کے نام پر بنیادی ضروریات سے حکم وعدول ۔۔()ثقافتی یلغار۔۔۔()میڈیا کا آلودہ غیر مہذب رویہ ۔

مضمون کے اختصار کی بنیاد پر عرض کرتا چلوں کہ پاکستان کے مسائل کی بڑی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ پاکستان کا الیکشن سسٹم بھی ہے ۔اگر پاکستان میں نظام انتخاب شفاف اور سستا ہو۔

٭ نظام انتخاب حکومتی، بااثرطبقات، سرمایہ داروں اور الیکشن کمشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو۔
٭ نظام انتخاب جعلی شناختی کارڈ سازی اور جعلی ووٹس، جانبدارانہ حلقہ بندیوں و پولنگ سکیم، الیکشن عملہ کی ملی بھگت اور پولیس انتظامیہ و غنڈہ عناصر کی ناجائز مداخلت سے پاک ہو۔
٭ تشہیر، جلسوں، ٹرانسپورٹ، الیکشن کیمپوں کے اخراجات اور سرمایہ کے ذریعے ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہونے جیسی انتخابی دھاندلیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔
٭ نظام انتخاب عبوری حکومتوں، لوکل باڈیز اداروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثر ورسوخ سے آزاد ہوتا کہ سیاسی جماعتیں تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہو کر غریب و متوسط با صلاحیت کارکنان کو میرٹ پر اسمبلیوں میں نمائندگی کے لیے نامز د کر سکیں۔
٭ تا کہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے حصول کے لئے کوئی ڈیل نہ کرنا پڑے اور نہ ہی انہیں اسکے لئے غیر فطری اتحاد بنانا پڑیں بلکہ سیاسی جماعتیں عوامی ایشوز پر اپنا حقیقی کردار ادا کر سکیں۔

موجودہ کرپٹ اور مہنگے انتخابی نظام کی وجہ سے تقریباََ 70فیصد قوم انتخابات سے کلیتاََ لاتعلق ہوگئی ہے اور قوم اپنے بنیادی آئینی و انسانی حقوق سے محروم ہو گئی ہے۔ لہذا یہ ملک و قوم کے ریاستی و مقتدر اداروں بشمول عدلیہ، قانون سازا داروں، سیاسی پارٹیز و اراکین پارلیمنٹ، میڈیا سیاسی جماعتوں، دانشوروں و وکلاء طبقات کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

تاریخ انسانیت کا مطالعہ کریں جب جب انسان بھوک و افلاس کا شکار ہوا۔معاشرتی و ملی اعتبار سے انسانیت سوز مزاج اس کا وطیرہ بن گیا۔پاکستان میں بھی اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا اور معاشی بدحالی مزید بھیا نک صورت اختیار کر لے گی۔۔۔ مذہبی منافرت، سیاسی انتشار، صوبائی عصبیت اور طبقاتی کشمکش میں اضافہ ہو گا۔انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ذریعے مزید تباہی پھیلے گی۔اسلامی شعائر جو معاشرے سے پہلے ہی مٹ رہے ہیں مزید ناپید ہو جائیں گے۔ نتیجتاَ بے حیائی، عریانی، فحاشی اور اخلاقی بے راہ روی عام ہو جائے گی۔ریاستی ادارے مزید کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔ حکومت اور طاقت کے مرکز و محور خفیہ اور سازشی عناصر رہیں گے۔پاکستان نہ صرف عالم اسلام کی توقعات پر پورا اترنے سے قاصر ہو گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ناکام ریاست کے طور پر جانا جائے گا۔یہ سارے حالات ملک و قوم کو ایک بھیانک انجام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

من حیث القوم مشکل حالات سے مایوس ہوجانا ہم اہل پاکستان کی فطرت میں نہیں ۔لیکن مشکلات کا حل بھی ہمیں مل کر سوچنا ہوگا۔میں پر امید ہوں کہ پاکستان کا مستقبل بہت شاندار ہے۔ ان شاءَ اللّٰہ۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے وسیع، نظریاتی اعتبار سے قوی، معاشی اعتبار سے طاقت ور اور اقوام عالم کی قیادت کی ذمہ داری ادا کرے گا۔کیا دو قومی نظریے سے شروع ہونے والا نظریہ پاکستان کی صورت مکمل ہو گیا ہے یا ابھی جاری ہے اور جاری رہے گا۔

ایک بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک کی اساس دوقومی نظریہ پر ہے ۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں کو دوسری اقوام کے مقابلے میں اپنی الگ شناخت اور الگ تہذیب کے لئے جذبہ عمل فراہم کرتا ہے ۔اس جذبے کے تحت مسلمانان برصغیر نے ہندوستانی قومیت کے پر فریب نعرے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی الگ شناخت اور تہذیب کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور اس میں کامیاب ہوئے ،جبکہ نظریہ پاکستان اس نئی ریاست کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی اصولوں کی روشنی میں ریاست مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی ریاست میں ڈھالنے کے جذبے اور ارادے کا نام ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کام ابھی ادھورا ہے ۔گویا دوقومی نظریہ تو قیام پاکستان کی شکل میں اپنی منزل پا گیا۔ لیکن نظریہ پاکستان اپنے عملی اظہارکے لئے پا کستان کی شکل میں ایک جدید اسلامی ریاست کے بروئے کار آنے تک نامکمل رہے گا ۔لہذااس حوالے سے ہمیں سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ پاکستان زندہ باد پاکستان تابندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabia Kosar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Aug, 2016 Views: 529

Comments

آپ کی رائے